پاکستان بھر میں ساری رات عبادت شب برات پر ملکی استحکام کی خصوصی دعائیں

پاکستان(ویب ڈیسک) بھر میں شب برأت مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گ اورمساجد میں عبادات کیلئے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔شب برأت کی مناسبت سے مساجد میں عبادات اور نوافل کی ادائیگی کا اہتمام کیا گیا اور خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔بڑی تعداد میں لوگوں نے قبرستان کا رخ کیا اور اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول چڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی مغفرت کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی۔

نااہل خواجہ آصف نے کر لیا بڑا فیصلہ آج کیا کر نیوالے ہیں ،اہم خبر آگئی

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف اپنی نااہلی کا فیصلہ آج سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ خواجہ آصف اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے جس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی جائے گی۔ رہنما (ن) لیگ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ سے انصاف کا طلب گار ہوں، سلام آباد ہائیکورٹ نے انہیں اقامہ پر تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔

آرمی چیف نے کر دیا دھرنوں کا مسئلہ حل

کوئٹہ (ویب ڈیسک) آرمی چیف سے ملاقات کے بعد ہزارہ برادری نے چار روز سے جاری دھرنا اور بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ عمائدین نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر تحفظات سے آگاہ کیا۔تفصیلات کے مطابق ہزارہ برادری دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ پر چار روز سے سراپا احتجاج بنی رہی، آرمی چیف سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کوئٹہ پہنچے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہزارہ برادری کے عمائدین نے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عمائدین نے ہزارہ برداری کی ٹارگٹ کلنگ پر تحفظات سے آگاہ کیا۔

دنیا میں پہلی بار عضو تنا سل اور سکروٹم کی کامیاب پیوندکاری نے بھونچا ل پیدا کر دیا

وا شنگٹن (ویب ڈیسک)امریکہ میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے دنیا میں پہلی بار عضو تناسل اور سکروٹم یعنی فوطوں کی تھیلی کی کامیاب پیوندکاری کی ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ڈاکٹروں نے جس فوجی کا آپریشن کیا وہ افغانستان میں ایک بم دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا۔ڈاکٹروں نے پیوندکاری کے لیے عضو تناسل، سکروٹم اور سرجری کے لیے پیٹ کے پردے کے حصے ایک ایسے ڈونر سے حاصل کیے جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فوجی کا جنسی فنکشن بحال ہو جانا چاہیے جو کہ عموماً عضو تناسل کی ’ری کنسٹرکشن‘ میں ناممکن ہوتا ہے ۔اس سرجری میں 14 گھنٹے لگے اور اس میں 11 ماہرین نے حصہ لیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ جنگ میں زخمی ہونے والے کسی فوجی کے لیے اتنا بڑا آپریشن کیا گیا ہو جس میں عضو تناسل، پیٹ کے حصے اور سکروٹم کی مکمل پیوندکاری کرنا پڑی ہو۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اخلاقی نقطہِ نظر کی وجہ سے عطیہ کنندہ کے فوطے ٹرانسپلانٹ نہیں کیے گئے۔جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں شعبہِ پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو لی کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ظاہری طور پر انسانی اعضا کھونے والوں کی معذوری سب کو نظر آتی ہے مگر کچھ ایسے چھپے ہوئے زخم ہوتے ہیں جن کو دوسرے لوگ زیادہ سمجھ نہیں سکتے۔‘انھوں نے بتایا کہ 2014 میں ’انٹیمیسی آفٹر انجری‘ کے موضوع پر ایک کانفرنس میں انھوں نے ان زخمی جنگجوو¿ں کے خاندان والوں سے سنا کہ جنسی اعضا کے زخم ان کی شناخت، عزتِ نفس اور قریبی رشتوں پر کتنا برا اثر ڈالتے ہیں۔

شاہد آفریدی اور ہیلری کلنٹن میں کیا چل رہا ہے ،خاص خبر

مشہور سابق پاکستانی (ویب ڈیسک)کرکٹ کپتان شاہد خان آفریدی سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہیں اور شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے ذریعے پاکستان میں تعلیم اور صحت کے لیے کام کر رہے ہیں۔سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی آفریدی کی ان خدمات اور صلاحیتوں کی معترف ہیں، جس کا اظہار انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کیا اور  آفریدی کے مقاصد میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کو خوشخبری دیدی

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ میں مختلف کیسز کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت، لیویز، پولیس اور وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی جب کہ کیس کی سماعت 11 مئی کو کوئٹہ میں ہوگی۔

گلوکارہ بننے کا سوچتی رہی مگر قسمت نے اداکارہ بنا دیا ‘کنز ا ہاشمی

لاہور(شوبز ڈیسک )اداکارہ کنزا ہاشمی نے کہا ہے کہ میں گلوکارہ بننے کا سوچتی رہی مگر قسمت نے اداکارہ بنا دیا اور ابھی گلوکاری کا شوق میرے دل سے ختم نہیں ہورہا ہے مگر آنیوالے دنوں میں اس پر بھی مزید توجہ دوں گی ۔ اپنے ایک انٹر ویو کے دوران کنزا ہاشمی نے کہا کہ مجھے بچپن سے ہی گلوکاری کا بہت شوق ہوا کرتا تھا میڑک کرنے کے بعد مزید پڑھائی کر رہی تھی تو دل میں گلوکاری کو کیرئیر بنانے کا شوق انگڑائیاں لے رہا تھا گلوکاری کرنے کے لئے تو کوئی آفر نہ آئی لیکن ماڈلنگ کی پیشکش ضرور آئی میںنے اس کو قبول تو کر لیا اور اس وقت سے اب تک صرف ماڈلنگ اور ٹی وی ڈراموں پر ہی توجہ دے رہی ہوںاور میرا یقین ہے جو ہوتا ہے وہ اچھا ہی ہوتا ہے ۔

افضال احمد ایورنیو سٹوڈیوکی ویرانی دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے

لاہور(شوبزڈیسک) ماضی کے معروف اداکار افضال احمد کی ایورنیو سٹوڈیو آمد، ویرانی دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے۔ افضال احمد نے وہیل چیئر پر جہاںسٹوڈیو کا دورہ کیا وہیں فلورز اور دفاتر کوبھی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے۔ سٹوڈیو میں موجود کچھ لوگ افضال احمد کی آمد پر ملاقات کیلئے آئے تو بڑی گرم جوشی سے ملاقات کی اور ان کی جانب سے ماضی کے شاندار اور یادگار قصوں نے ان کے اداس چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی۔کسی نے ان کی آواز کی بلندی اور چہرے کے تاثرات کا ذکر کیاتو کسی نے ان کی فلموں کا، کسی نے شوٹنگ کے یاد گار واقعات دلچسپ انداز سے سنائے تو کسی نے سٹوڈیو دفاتر کی شاموں اور راتوں کاذکرکر دیا۔بس یوں کہئے کہ افضال احمد ماضی کی سنہری یادوں میں کھوئے محسوس ہونے لگے۔ اس دوران جونہی کچھ لوگوں نے کہا کی ماضی میں جہاں سٹوڈیو فلورز کے باہر شوٹنگ دیکھنے والوں کا ہجوم ہوتا تھا وہیں بڑے بڑے فنکار بھی ایک ساتھ کام کرتے دکھائی دیتے تھے۔
افضال احمد نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر کوئی ان کی بات سمجھ نہ پایا۔ اپنی کامیابی اور مقبولیت کے قصے سن کر ان کے چہرے پر فاتحانہ ہنسی بھی دکھائی دی لیکن طویل بیماری کے باعث وہ رو دیے۔ اس موقع پر ان کے اٹینڈنٹ نے وہیل چیئر گھمائی اور انھیں گھر لے گیا۔

پاکستانی ٹیم میں بھارتی کھلاڑی بھی شامل تھے

لاہور(سپورٹس ڈیسک)پاکستان کبڈی فیڈریشن نے بقیہ تمام کھیلوں کی فیڈریشنز کو مات دیتے ہوئے انوکھا کارنامہ انجام دیا اور آسٹریلیا میں منعقدہ ورلڈ کبڈی کپ میں پاکستانی ٹیم میں بھارتی نڑاد کینیڈین کھلاڑیوں کو کھلا دیا۔ورلڈ کبڈی کپ میں شرکت کے لیے صرف 5 کھلاڑیوں اور کوچ کو ویزہ مل سکا لیکن اس کے باوجود قومی ٹیم شرکت کے لیے آسٹریلیا روانہ ہوئی۔جب میچ کھیلنے کی باری آئی تو ٹیم کو کھلاڑیوں کی تعداد پوری کرنے کا مسئلہ درپیش تھا اور اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کبڈی فیڈریشن نے 5 بھارتی نڑاد کینیڈین کھلاڑیوں کو اسکواڈ کا حصہ بنا لیا۔2 بھارتی کھلاڑیوں آمر سنگھ اور تیجا کو قومی ٹیم کی طرف سے کھلا دیا گیا جبکہ دیگر تین بھارتی کھلاڑیوں کو میچ کے لیے میدان میں نہ اتارا گیا۔ کھلاڑیوں کی کمی کے باعث دو پاکستانی نڑاد آسٹریلین کھلاڑیوں صدام اور حمزہ کو بھی قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔حیران کن امر یہ کہ قومی ٹیم کے منیجر بھی ایک بھارتی نڑاد کینیڈین گردیپ سنگھ تھے اور ان کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں انہوں نے اعترف کیا کہ ان کو پاکستانی ٹیم کا منیجر بنایا گیا ہے۔ایک روزہ ورلڈ کبڈی کپ 22 اپریل کو آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں کھیلا گیا تھا جس میں قومی ٹیم کی کارکردگی بھی انتہائی مایوس کن رہی تھی اور وہ سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی نہ کر سکی۔پاکستان کبڈی فیڈریشن کے ترجمان نے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آمر سنگھ اور تیجا قومی ٹیم کی طرف سے کھیلے تھے۔انہوں نے وضاحت پیش کی کہ آمر سنگھ اور تیجا بھارتی نڑاد کینیڈین نیشنل ہیں اور اس وجہ سے انہیں قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جو قانون کے عین مطابق ہے۔کبڈی فیڈریشن کے ترجمان طیب گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے دو کھلاڑی صدام حسین اور حمزہ پہلے سے آسٹریلیا میں موجود تھے اور ہم نے کسی بھارتی کھلاڑی کو نہیں کھلایا بلکہ کینیڈین کھلاڑیوں کو ٹیم کا حصہ بنایا جس کی قانون اجازت دیتا ہے۔ادھر پاکستان کبڈی فیڈریشن نے ملک اور کھیل کو بدنام کرنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کیخلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اور ملک اور کھیل کی بدنامی میں ملوث کھلاڑیوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے تاحیات پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ 5 مئی کو لاہور میں ہونے والے جنرل کونسل اجلاس میں بدنامی کا باعث بننے والے کھلاڑیوں اور کوچزکے خلاف اقدامات کے معاملات پر غور کیا جائے گیا اور ضرورت پڑنے پر اس حوالے سے قانونی سازی بھی کی جائے گی تاکہ تاحیات پابندی عائد کی جاسکے۔

بال ٹیمپرنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی واپسی کا عندیہ

سڈنی(آئی این پی ) آسٹریلیا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجیمز سدر لینڈ نے کہا ہے کہ ڈیوڈ وارنر سمیت بال ٹیمپرنگ کیس میں سزا یافتہ تینوں کرکٹرز ٹیم میں واپس آسکتے ہیں، میں ان تینوں کرکٹرز کو بہترین فارم میں دوبارہ سے کرکٹ کے میدان میں کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہو،تینوں کرکٹرز کو سلیکٹرز کے سامنے خود کو اہل ثابت کرنا ہوگا۔کرکٹ آسٹریلیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ملیبورن ریڈیو اسٹیشن ایس ای این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جمیز سدر لینڈ نے کہامیں سمجھتا ہوں کہ ہر کسی کو موقع ملنا چاہیے، دوبارہ موقع حاصل کرنا اب کرکٹرز کے ہاتھ میں ہے اور تینوں کرکٹرز کو سلیکٹرز کے سامنے خود کو اہل ثابت کرنا ہوگا۔ 52 سالہ سدر لینڈ نے کہا کہ انہیں تینوں کھلاڑیوں سے ہمدردی ہے۔ انہوں نے کہا میں ان تینوں کرکٹرز کو بہترین فارم میں دوبارہ سے کرکٹ کے میدان میں کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ یہ کرسکتے ہیں۔ڈیوڈ وارنر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ خود کو ایک بہترین کرکٹر ثابت کرنے کے حوالے سے بہت پر عزم تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان میں قیادت کی بھی غیر معمولی صلاحیت تھی۔واضح رہے کہ ڈیوڈ وارنر پابندی کے بعد واپسی پر آسٹریلین کرکٹ ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔رواں برس 31 مارچ کو ڈیوڈ وارنر نے ایک جذباتی پریس کانفرنس میں اپنی غلطی پر شائقین کرکٹ سے معافی مانگتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ شاید اب وہ آسٹریلیا کے لیے مزید نہ کھیلیں۔

یاد رہے کہ آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹان ٹیسٹ میں بال ٹیمپرنگ کرنے پر نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک سال اور اسٹیون اسمتھ اور کیمرون بینکروفٹ پر 9 ماہ کی پابندی عائد کی تھی۔

آئی سی سی 2028 اولمپکس میں کرکٹ کی شمولیت کیلئے پر امید

کولکتہ (سی پی پی(انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی)نے امید ظاہر کی ہے کہ 2028 میں شیڈول لاس اینجلس اولمپکس گیمز میں کرکٹ کی دوبارہ واپسی ہو جائے گی۔ آخری مرتبہ 1900 میں منعقدہ پیرس اولمپکس گیمز میں کرکٹ کے مقابلے ہوئے تھے اور اس کے بعد اولمپکس گیمز میں کرکٹ نہیں کھیلا جاتا لیکن ورلڈ گورننگ باڈی اب دوبارہ اس کھیل کو گیمز میں شامل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کرکٹ کو دوبارہ اولمپکس گیمز میں شامل کرنا ہماری دیرینہ خواہش ہے۔ 2024 میں پیرس میں شیڈول گیمز کے سلسلے میں نئے کھیلوں کی شمولیت کی ڈیڈلائن گزر گئی ہے اسلئے اب ہم نے 2028 گیمز میں کرکٹ کی شمولیت کو ہدف بنا لیا ہے اور مقصد کے حصول کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ؛ بھارت کی حکمرانی برقرار

دبئی(بی این پی )آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پاکستان 2 پوائنٹس کی کمی کے باوجود 7 ویں پوزیشن پر برقرار ہے۔نئی ٹیسٹ رینکنگ کے مطابق ٹاپ 10 ٹیموں کے پوائنٹس میں کمی بیشی ہوئی ہے تاہم ان کی پوزیشنز برقرار ہیں۔ بھارت کی ٹیم نے4 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پہلی پوزیشن مزید مستحکم کر لی۔ جنوبی افریقہ کے 5 پوائنٹس کم ہوئے ہیں تاہم وہ اب بھی دوسری پوزیشن پر موجود ہے۔ آسٹریلیا تیسرے، نیوزی لینڈ چوتھے، انگلینڈ پانچویں، سری لنکا چھٹے اور پاکستان 2 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بدستور ساتویں پوزیشن پر برقرار ہے۔بنگلہ دیش آٹھویں، ویسٹ انڈیز نویں اور زمبابوے دسویں نمبر پر موجود ہے۔ آئر لینڈ کی ٹیم اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 11 سے 15 مئی تک ڈبلن میں پاکستان کے خلاف میں کھیلے گی جبکہ افغانستان کا طویل فارمیٹ میں پہلا مقابلہ نمبر ون بھارت سے 14 سے 18 جون تک بنگلور میں ہو گا۔

اخبارات کو اشتہارات کی غیر مساوی تقسیم اور ادائیگیوں بارے سی پی این ای کی جنگ قانونی ہے

لاہور (وقائع نگار) کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سی پی این ای و چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیاشاہد نے کہا ہے کہ اخبارات کو ادائیگیوں کے حوالے سے صوبہ پنجاب کی صورتحال دیگر صوبوں کی نسبت بہتر رہی ہے ،اب الیکشن کا وقت ہے اور یہی امتحان ہوگاپنجاب حکومت کے لیے کہ وہ اپنے اداروں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائیںکہ اشتہارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔اخبار سب کی سنتا اور سب کی خبر دیتا ہے ،بطور تنظیم ہم آزاد اور شفاف صحافت کے قائل ہیںاور کسی بھی سیاسی جماعت کا آرگن نہیں بنیں گے مگر حکومت کو بھی اپنے اداروں کو ان تین چار ماہ کے عرصے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔انہوں نے واضع کیا کہ تمام اخبارات کو اپنی پالیسی آزادانہ طور پر چلانے کا اختیار ہونا چاہئے۔سی پی این ای کے صدر نے کہا کہ انہیں دوستوں کی جانب سے تیسری دفعہ صدارت کے لیے کہا گیا لیکن میرا موقف بڑا کلیئرہے کہ میں تنظیم میں خوبصورت روایات چھوڑنا چاہتا ہوں اور ویسے بھی مجھ سے زیادہ باصلاحیت بہت سے ٹیلنٹڈ لوگ موجود ہیں وہ آگے آئیں اور اس کام کو سنبھالیں،اس کے باوجودجہاں میری ضرورت ہوگی میں سی پی این ای کے عام رکن کی حیثیت سے حاضر ہوں۔ ہم نے ادائیگیوں اور اشتہارات کی غیر مساویانہ تقسیم کے خلاف جو جنگ شروع کی وہ آئین اور قانون کے مطابق ہے اور آنے والی باڈی بھی اس بارے میں ڈٹ کر رہے، سی پی این ای کی اصل قوت اس کی سٹینڈنگ کمیٹی ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے کہا کہ گزشتہ نشست میں حکومت پنجاب کی نمائندگی ترجمان حکومت ملک احمد خان اور ڈی جی پی آر نے کی ،جہاں پر مختلف امور پر گفتگو کی گئی اور اخباری صنعت کی مشکلات کے حوالے سے امور زیر بحث رہے۔ ہم فیصلہ سازی میں کسی بھی تنظیم کے شرکت پر معترض نہیں ہیں لیکن یہ بھی واضع کیا کہ ہماری تجاویز پر اختلاف کرنے والی اشتہاری ایجنسیاں تو پی اے اے کی رکن ہی نہیں ہیں۔ رواںبرس کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعجاز الحق نے بتایا کہ سی پی این ای اسٹینڈنگ کمیٹی کے پانچ باقاعدہ اجلاس ہوئے جن میں سے بیشتر اجلاس اخباری صنعت،مدیروں اور صحافیوں کو درپیش مشکلات کو حکام بالا تک پہنچانے اور موثر حل کے لیے کوششوں پر مبنی تھے۔سی پی این ای کی کاوشوں کی بدولت میڈیا لسٹ سے ہٹائی گئی مطبوعات کو دوبارہ شامل کیا گیا۔سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ اخبارات اور جرائد کو سرکاری اشتہارات کی مد میں حکومت اور اشتہاری ایجنسیوں کی جانب سے بقایا جات کی وصولی نہ ہونے کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے ،اس ضمن میں کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز نے انکی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائی اور ان کو حق دلوانے کے لیے سپریم کورٹ تک جاپہنچی ہے۔سینئر کالم نویس و مدیر رحمت علی رازی نے کہا کہ مدیران کی تنظیم کی کاوشوں کی بدولت کے پی کے حکومت نے پریس اینڈ بک رجسٹریشن ایکٹ2013ءمیں آزادی صحافت سے متصادم شقوں میں ترمیم کی یقین دہانی کروائی گئی۔ پنجاب حکومت نے اخبارات کو براہ راست اور بروقت ادائیگی کا طریقہ کار کے لیے قانون سازی کا عندیہ ظاہر کیا۔ بلوچستان نے اشتہارات پر عائد پندرہ فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا اور سندھ اور وفاقی حکومت نے بھی بڑی حد تک واجبات کی ادائیگی شروع کردی ہے۔ایاز خان نے کہا کہ جیسے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں انتخابات میں” لیول پلے فیلڈ “ملنا چاہیے ایسا ہی میدان میڈیا کو بھی درکار ہے حکومت کو سب اخباری اداروں کو مساوی طور پر اشتہارات فراہم کرنے چاہیں۔انہوں نے کہا کہ آجکل سیاست میں بات ذاتیات پر آچکی ہے ہمیں سیاست دانوں کی توجہ اس مسئلے کی طرف بھی دلوانی چاہیے۔سینئر ایڈیٹر ارشاد عارف نے کہا کہ ن لیگ کا رویہ حکومت میں کچھ اور اور اپوزیشن میں کچھ اور ہوتا ہے یہ تضاد ہے جس کی طرف توجہ دلوانا ضروری ہے جب یہ حزب اختلاف میں ہوں تو میڈیا فرینڈلی ہوتے ہیں اور جب برسراقتدار ہوں تو من پسند افراد اور اداروں کونوازتے ہیں اور دوسروں سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ،ن لیگ کو اس رویے کو بدلنا ہوگا۔اجلاس میں انور ساجدی، طاہر فاروق، کاظم خان، عامر محمود، جبار خٹک، عارف بلوچ، وقار یوسف عظیمی، سید انتظار زنجانی، نجم الحسن عارف، عبدالرحمن منگریو، عبدالخلیق علی، معظم فخر، مظفر اعجاز، سید فرزند علی، ممتاز احمدصادق، وقاص طارق، تنویر شوکت، ذوالفقار راحت، اسلم خان، بشیر میمن، طاہر محمود اشرفی، اسلم میاں اور میاں اکبر علی نے بھی شرکت کی۔