اسلام آباد(ویب ڈیسک )سپریم کورٹ میں جیو اور جنگ کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل کو کہیں کہ اپنا کوئی اثاثہ فروخت کر کے تنخواہیں دیں۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جیو نیوز کے ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں جیو ملازمین اور مینجمنٹ میں ہونے والا معاہدہ عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت میں وکیل نے جیو کی نمبرنگ کی تبدیلی کےخلاف حکم نامہ جاری کرنے کی استدعا جسے عدالت نے مسترد کردیا۔وکیل نے کہا کہ نمبرنگ کا مسئلہ حل ہونے تک تنخواہوں کا مسئلہ مستقل حل نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل کو کہیں کہ اپنا کوئی اثاثہ فروخت کردیں۔انہوں نے کہا کہ اس کیس میں نمبرنگ کی تبدیلی کا حکم نامہ جاری نہیں کریں گے۔ جیو ٹی وی کے وکیل نے کہا کہ حکومت سے واجبات کی ادائیگیوں کا حکم نامہ جاری کروا دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اپنی ریکوری کی درخواست دائر کریں۔ ’3 پیشیوں سے کہہ رہا ہوں آپ الگ درخواست کیوں نہیں دائر کر رہے‘۔عدالت نے جیو ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق کیس نمٹا دیا
Monthly Archives: May 2018
سابق امریکی صدر جارج بش کو جوتا مارنے والاصحافی اب کیا کرنیوالا ہے ،دیکھئے خبر
بغداد(ویب ڈیسک ) امریکی صدر کو جوتا مار کر سکیورٹی اہلکاروں سے جوتے کھانے والے عراقی صحافی منتظر زیدی کا خیال ہے کہ اب ان کے ’عظیم کارنامے‘ کا صلہ ملنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ غالباً وہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکی صدر کو جوتا مارنے کا انعام ملک کی صدارت بھی ہو سکتی، اور شاید اسی لئے وہ صدارتی الیکشن میں بطور امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔یہ 2008 کی بات ہے کہ جب بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران منتظر زیدی نے اپنا جوتا اتار کر صدر جارج ڈبلیو بش کو دے مارا تھا۔ صدر بس اس جوتے سے بال بال بچے۔ جب سکیورٹی اہلکار منتظر زیدی کو قابو کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے تو انہوں نے دوسرا جوتا بھی اتار اور امریکی صدر کو دے مارا، مگر اس بار بھی وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ دریں اثنائ سکیورٹی اہلکار ان تک پہنچ چکے تھے۔ بس پھر کیا تھا، انہیں قابو کر کے خوب درگت بنائی گئی۔ وہ نو ماہ تک جیل میں بھی رہے لیکن 2009 میں رہا ہوتے ہی ملک سے باہر چلے گئے۔ اس کے بعد وہ 2011 میں واپس آئے اور جنگ سے متاثرہ بچوں کے لئے ایک فاو¿نڈیشن قائم کی، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ سیاسی میدان میں چھلانگ لگا رہے ہیں۔
سب منہ دیکھتے رہ گئے ،نواب آف بہاولپورنے اہم اعلان کر دیا
بہاولپور (ویب ڈیسک ) نواب آف بہاولپور نواب صلاح الدین عباسی نے موجودہ حکومت کو بہاولپورصوبہ بنانےکی ڈیڈ لائن دے دی۔ا±ن کا کہنا ہے کہ حکومتی مدت ختم ہونےسے قبل بہاولپورصوبہ بحال کیا جائے ورنہ عوامی مزاحمتی تحریک چلائیں گے۔نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی نےمسلم لیگ ق کے جنرل سیکرٹری طارق بشیر چیمہ اور فنکشنل لیگ کے رہنما محمد علی درانی کے ہمراہ مسلم لیگ ہاوس لاہور میں پریس کانفرنس کی۔نواب صلاح الدین عباسی کا کہنا تھا کہ اگر بہاولپورصوبہ بحال نہ کیا گیا تو گیارہ مئی سے صوبہ بحالی کے حق میں جلوس نکالیں گے ، بہاولپور صوبے کی بحالی تین دن میں ممکن ہے۔فنکشنل لیگ کے رہنما محمد علی درانی کاکہنا تھاکہ موجودہ حکومت نے تمام وعدوں کے باوجود صوبے کی بحالی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، بہاولپور کے عوام کا آئینی ،قانونی اور تاریخی حق ہے کہ انکا صوبہ بحال کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے 11 حلقے تبدیل
لاہور (خصوصی رپورٹ) الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں سے متعلق کل 1285اعتراضات موصول ہوئے جن میں سے ضلع لاہور سے قومی اسمبلی کی حلقہ بندیوں سے متعلق 18اعتراضات دائر کئے گئے تھے۔ کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت کے بعد لاہور کے قومی اسمبلی کے 11حلقوں میں تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ملک میں ہونے والی حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کیں جس کی ابتدائی رپورٹ مارچ 2018ءکو جاری کی گئی تھی۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے ان ابتدائی حلقہ بندیوں سے متعلق اعتراضات جمع کروانے کی آخری تاریخ کا اعلان بھی کر دیا گیا تھا جو 30اپریل 2018ءتھی۔ الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن اس بات کا پابند ہے کہ تمام اعتراضات سے متعلق تیس دن کے اندر تمام فیصلے کرے اور یہ مدت آج 3مئی کو ختم ہو گئی۔ ضلع لاہور میں کل 9ٹاﺅن ہیں اور یہ ٹاﺅن قومی اسمبلی کے 14حلقوں پر مشتمل ہیں۔ اگر نئی حلقہ بندیوں کی بات کی جائے تو یہاں ایک نیا حلقہ این اے 131بنایا گیا ہے جبکہ پرانا حلقہ این اے 122ختم کردیا گیا ہے۔ ضلع لاہور میں قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق جو 18اعتراضات داخل کئے گئے تھے ان پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پیر 23اپریل 2018ءکو فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی کے 11حلقوں میں تبدیلی کر دی ہے۔ مجموعی طور پر لاہور کی پانچ تحصیلوں میںواقع قومی اسمبلی کے 11حلقوں میں ردوبدل کیا گیا ہے تاہم سب سے زیادہ تبدیلیاں تحصیل ماڈل ٹاﺅن اور تحصیل شالیمار میں واقع حلقوں میں کی گئی ہیں۔ حلقہ این اے 123پر ایک درخواست موصول ہوئی تاہم اس حلقے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ حلقہ این اے 124سے کل دو درخواستیں موصول ہوئیں۔ یہاں سے چارج نمبر 13ریلوے سٹیشن جی ٹی روڈ‘ چارج نمبر 15ریلوے سٹیشن‘ ڈی ایس آفس‘ نولکھا اور حاجی کیمپ کے علاقے این اے 127میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ این اے 126کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حلقے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم اس حلقے کے چارج نمبر 54 ‘ 59سے اعوان چوک اور اقبال ٹاﺅن این اے 130 میں منتقل کردئیے گئے ہیں۔ حلقہ این اے 127 میں دو شکایات موصول ہوئیں جبکہ الیکشن کمیشن نے اس پر فیصلہ سناتے ہوئے چارج نمبر 5 باغبانپورہ کے سرکل نمبر 2کو این اے 124 جبکہ چارج نمبر 21 پاکستان منٹ کو این اے 128، چارج نمبر 19گنج مغل پورہ اور مغل پورہ کے علاقے این اے 129 کو منتقل کردئیے ہیں۔ اگر بات کی جائے این اے 128کی تو یہاں ایک درخواست موصول ہوئی۔ اس حلقے سے چارج نمبر 24دھوبی گھاٹ کا علاقہ این اے 127 میں منتقل ہوگیا ہے۔ این اے 129 میں کل دو شکایات داخل ہوئیں۔ اس حلقے کے چارج نمبر 9 لاہور جم خانہ کلب کو این اے 130 کینٹ تحصیل منتقل کردیاگیا ہے۔ این اے 130میں بھی دو درخواستیں موصول ہوئیں اور الیکشن کمیشن نے اس پر فیصلہ سناتے ہوئے چارج نمبر 34 چاہ جمووالا کو این اے 126 منتقل کردیا ہے جبکہ کینٹ تحصیل سے چارج نمبر 9کو اس حلقہ میں شامل کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ تحصیل لاہور سٹی کے چارج نمبر 54 سے سرکل نمبر 7,6 اور چارج نمبر 55 سے بھی سرکل نمبر 7,6 بھی اس حلقہ میں شامل کئے گئے ہیں۔ این اے 132 میں ایک شکایت موصول ہوئی اور یہاں سے کوئی علاقہ منتقل نہیں ہوا البتہ ماڈل ٹاﺅن تحصیل کے چارج نمبر 3 کاہنہ نو سے سرکل نمبر 6,2,1 علاقے شامل کیے گئے ہیں۔ اسی طرح این اے 133 سے بھی کوئی علاقہ نہیں کاٹاگیا بلکہ اس حلقے میں بھی ماڈل ٹاﺅن تحصیل چارج نمبر 16 کاہنہ نو کا سرکل نمبر 7شامل کیاگیا ہے۔ این اے 134کی بات کریں تو یہاں ماڈل ٹاﺅن تحصیل کے چارج نمبر 3کے کاہنہ نو کے سرکل نمبر 2,1 این اے 132جبکہ سرکل نمبر 6,5اور 8 کو این اے 135میں شامل کردیاگیا ہے اس کے علاوہ تحصیل ماڈل ٹاﺅن چارج نمبر 16ریس کورس، کچہ جیل روڈ سرکل نمبر 7 کو این اے 133 میں شامل کر دیا گیا ہے۔ این اے 135 میں بھی دو درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان پر فیصلہ سناتے ہوئے چارج نمبر 55 لاہور تحصیل کے سرکل نمبر 7,6 کو این اے 130 میں منتقل کردیاگیا ہے۔
آندھی اور بارش نے غریبوں کی چھتیں اُڑا کے رکھ دیں ،4 جا ں بحق ،متعد زخمی
لاہور،پشاور (ویب ڈیسک ) کئی شہروں میں بارش ، تیز آندھی سے درجنوں درخت گر گئے ،لاہور میں چھت گرنے سے 3مزدور ، باڑہ میں خاتون جاں بحق ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں گزشتہ روز 83کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواو¿ں نے کئی درخت اور گھروں کی چھتوں کو اڑا دیا جبکہ کئی گھروں کی دیواریں بھی گر گئیں۔شہر کا موسم ابر آلود رہاجبکہ چند مقامات پر بوندا باندی بھی ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ شمالی چھاﺅنی کے علاقے جوڑے پل چونگی دوگیج کے قریب3منزلہ گھر کی تعمیر جاری تھی۔تیسری منزل کا لینٹر ڈالا جا رہا تھا کہ تیز آندھی کے باعث لینٹرگر گیا جس کے نتیجے میں 4مزدور ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122کے عملے نے ملبے کے نیچے سے ناظر حسین، پرویز اورسجاد کی لاشیں نکا ل لیں جبکہ 34سالہ نامعلوم مزدور کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا۔جبکہ فیکٹری کی دیوار گرنے سے کانسٹیبل سمیت 2افراد زخمی ہوگئے۔ تیز ہواﺅں کے باعث ائیر پورٹ پر وارننگ جاری کر دی گئی اور موسم کی خرابی کی وجہ سے نواز شریف ، مریم بھی اسلام آباد احتساب عدالت پیشی کے لیے اسلام آباد نہ جا سکے۔ محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں وقفے وقفے سے تیز ہواو¿ں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی ہے جبکہ آج لاہور ، سر گودھا ، فیصل آباد، ساہیوال اور کشمیر میں چند مقامات پر آندھی اور وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ پشاور میں شدید آندھی نے کئی مقامات پر سائن بورڈ کو اکھاڑ پھینک دیا۔ باڑہ میں گھر کی چھت گرنے سے فضل امین کی اہلیہ جاں بحق ہوگئی۔اسکی 20 روز قبل شادی ہوئی تھی۔ پشاور میں مختلف واقعات میں 4افراد زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد میں بارش کے باعث پروازوں کا رخ لاہورکی طرف موڑ دیاگیا۔پنڈدادنخان کے قریب آندھی کے باعث درخت اکھڑ کر ریلوے ٹریک پر گرا ہوا تھا تاہم ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگا کر ٹرین کو حادثے سے بچا لیا۔
ملتان ، بہاولپور میں سیکرٹریٹ قائم ہونگے
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے کہا ہے ملتان اور بہاولپور میں سب سیکرٹریٹ کے قیام اور وہاں 4 محکموں کی منتقلی پر بہت سا کام ہوچکا ہے انشاءاللہ مسلم لیگ ن ہی دونوں علیحدہ صوبے بنائے گی کسی اور کو یہ اعزاز نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق ان دونوں سب سیکرٹریٹس میں فی الحال 4 محکمے ریونیو، ہیلتھ، ایجوکیشن اور پولیس منتقل ہوں گے جس سے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل بھی حل ہوں گے اور ان کی کافی حد تک شکایت دور ہو گی کہ انہیں ہرمسئلہ کے حل کے لئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جہاں تک میری ملاقات کا تعلق ہے یا جو پچھلے دنوں یہ واقعہ پیش آیا کہ کچھ لوگوں نے اس ایشو کو بنیاد بنا کر بظاہر کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا ہے۔ مجھے کسی کے خلاف ذاتی بیان دینے کی کوئی ضرورت نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی کا ریکارڈ موجود ہے۔ 5 سال کا کہ جن لوگوں نے جنوبی پنجاب کی بنیاد پر محاذ میں شمولیت کااعلان کیا ہے کہ ان میں کسی ایک شخص نے کسی جگہ کھڑے ہو کرایک مرتبہ بھی جنوبی پنجاب کی بات کی ہو تو میں چیلنج کر کے کہتا ہوں کہ میں سیاست سے دستبرداری کا اعلان کروں گا۔ ایک مرتبہ بھی ان میں کوئی کھڑا نہیں ہوا۔ ان کا طریقہ کار اسمبلی میں بھی رہا ہے۔ پنجاب اپنے حجم کے حساب سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ بڑا صوبہ ہے اس کی مزید تقسیم ہونی چاہئے مثلاً جنوبی پنجاب یا بہاولپور صوبہ۔ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یہ کام کسی اور کے ہاتھوں ہو۔ پچھلے دنوں جب یہ لوگوںنے علیحدگی اختیار کی توچیف منسٹر پنجاب نے فوری ایک میٹنگ کی جس میں جنوبی پنجاب کے لوگوںنے شرکت کی۔ ان میں میں بھی شامل تھا ۔ اس میں یہ بات بڑی وضاحت کے ساتھ سامنے آئی کہ پاکستان مسلم لیگ ن 2012ءمیں قرارداد پاس کرچکی جوبہاولپور صوبے کے حق میں اور جنوبی پنجاب صوبہ کے حق میں تھی۔ میں سمجھتا ہوں پہلی ضرورت یہی ہے کہ وہ صوبہ جس کی تقسیم ہونی ہو وہ قرارداد پاس کرے۔ یہ آئینی تقاضا ہے۔انہوں نے کہا ہمیں کوئی انکار نہیں مگر یہ اس طرح نہیں ہوتا کہ فوری لکیر لگا دو اور صوبہ ادھر والاادھر اور ادھر والاادھر ہو جائے۔ اس کے لئے کوئی باڈی قائم ہو گی جو مختلف چیزوںکا تعین کرے گی اس میں فنانس کمیشن ہوتا ہے دوسرے کمیشنز بنتے ہیںجو باﺅنڈریز کا تعین کرتے ہیںکل کو صوبوں نے چلنا بھی ہے ان کے وسائل کا تعین دیکھا جاتا ہے یہ ان ساری چیزوں کو مدنظر رکھ کر صوبوں کا قیام عمل میں آتا ہے ورنہ تو آپ کے علم میں ہے اور آپ سے زیادہ کون جانتا ہے اور آپ سے زیادہ اس پر کس نے کام کیا ہے کہ جس طرح دریانکلتے کشمیر سے ہیں اوروہ ہمارے پاس آ گئے ہیںوہ آج تک ایشو بنے ہوئے ہیں اس طرح صوبوں کے مسائل بعینہ اس طرح ہوتے ہیں اور اس کو سوچ سمجھ کر کمشن قائم کر کے باﺅنڈریز کا تعین کرکے انشاءاللہ یہ ہماری پارٹی ہی کرے گی۔ مسلم لیگ ن کے ہاتھوں میں ہو گا اور یہ اعزاز ہم اورکسی کو نہیں جانے دیں گے۔ اس موقع پر ضیا شاہد نے کہا کہ جہاں تک خبریں کا تعلق ہے ہم تو سیاسی جماعت نہیں ہم تو اخبار چھاپتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کا کوئی بھی مسئلہ ہو جس میں بہاولپور بھی شامل ہے سابق ریاست بہاولپور بھی۔ ہمارے ادارے نے ہمیشہ ادارے عوام کے مسائل کی بات کی ہے اگر عوام کے مسائل ایک سب سیکرٹریٹ سے حل ہوتے ہیں تو اس پر بھی خوش ہیں اور اگرکسی سٹیج پر ظاہرہے کہ جس طرح آپ نے فرمایا کہ سارے مراحل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کے بعد نئی اسمبلیاں آنے کے بعد کوئی صوبے کی بات ہوتی ہے تو ہمیں اس پر بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں۔ جو لوگ جنوبی پنجاب محاذ میں شامل ہوئے ہیں ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ مانتے ہیں جناب شہباز شریف اور جناب نواز شریف نے حتیٰ کہ ذوالفقار کھوسہ صاحب بھی جانتے ہیں کہ ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان تین ڈویژنوں کے بارے میں یہ ایک قرارداد منظور ہوئی تھی دوست محمد کھوسہ صاحب کلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے پیش کی تھی پنجاب اسمبلی میں جناب شہباز شریف اور جناب نواز شریف کے بہاولپور میں اعلانات کی روشنی میں یقینا ایک قرارداد بھی منظور ہوئی تھی بہاولپور صوبے کی بحالی کے سلسلے میں لیکن میرا سوال یہ ہے اور لوگوںکا بھی سوال یہ ہے کہ جناب شہباز شریف صاحب کو 10 سال گزر گئے اور ان وعدوںکو 5 سال گزر گئے یقینی طور پر پنجاب اسمبلی میں تو قرارداد ہوئی لیکن اگلا مرحلہ یعنی اس معاملے کو قومی اسمبلی میں لے کر جانا اور پھر سینٹ میں لے کر جانے اس پرکوئی کام نہیں ہوا لہٰذا اب کہا جا رہا ہے کہ ہمیں وقتی طور پر لولی پاپ نہ دیا جائے آپ یہ فرمائیں کہ آپ کابینہ کے بھی رکن اوربڑے سینئر عہدیدار ہیں فرمایئے کہ آخر 5 سال میں کیوں موقع نہیں مل سکا۔ آپ کی جماعت کو وہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی لے کر جاتے۔اس پرسید جاوید شاہ نے کہا آپ نے فرمایا کہ کیا سیکرٹریٹ قائم کرنے کا ارادہرکھتے ہیں وزیراعلیٰ شہباز شریف یا نہیں۔ اس پر بہت حد تک کام ہوچکا ہے اور جو میری خبر ہے اس کے مطابق 4 شعبوں کو ریونیو، پولیس، ہیلتھ اور ایجوکیشن کو بہاولپور میں بھی ایک سیکرٹریٹ قائم کرنا چاہتے ہیں اور جنوبی پنجاب ملتان میں بھی ایک سیکرٹریٹ قائم کرنا چاہ رہے ہیں کہ آئی جی لیول کا بندہ آ کر لاہور میں بیٹھا ہے تو ایڈیشنل آئی جی کم از کم ان دو جگہوں پر ہوں۔اس طرح بورڈ آف ریونیو ان دو جگہوں پر موجود ہوں ایڈیشنل سیکرٹری ایجوکیشن اور ہیلتھ ان جگہوں پر ہوں ایک اہم مسئلہ جو لوگوںکے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے کہ مسائل کے لئے لاہور جانا پڑتا ہے اس پر بہت حد تک ریلیف ملے گا۔ انہوںنے کہا باقی رہی آپکی بات کہ پانچ سال میں ایساکیوں نہیںہوا کہ اس کو مزید آگے بڑھایا جاتا وفاقی حکومت تک یہ اس کو لے جایا جاتا ضیا شاہد صاحب آپ کے علم میں ہیں یہ باتیںکہ یہ حکومت پانچ سال میں ہم نے کس طرح گزاری ہے پہلے دن سے ہی جس طرح ہتھ کنڈے ہوئے۔ دھرنوں کی سیاست شروع ہوگئی اور کوئی دن ایسا نہیں کہہ سکتے جس سے آرام سے کوئی کام کرنے دیا گیا ہو مجھے یاد ہے کہ جب دھرنے اپنے جوبن پر تھے تو میری کسی ایسے دوست سے باتیں ہوتی رہیں جو بڑا ویل انفارم تھا تو انہوں نے کہا جاوید علی شاہ یہ دھرنے ورنے ختم ہو جائیں گے آخر کار جوڈیشل کو ہو گا۔ تو آپ دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔ یہ چیزیں اس وقت ہوتی ہیں جب چیزیں بڑی صحیح طریقے سے چل رہی ہوں آرام سے چل رہی ہوں اور نیشنل اسمبلی میں یہ چیزیں پیش ہوں تو مسائل پھر حل ہوتے ہیں۔ یہ جو پانچ برس ملک میں بے یقینی کی کیفیت رہی ہے اس میں کوئی قدم اٹھانا انتہائی مشکل کام تھا۔ چیف ایڈیٹر خبریں ضیا شاہد نے کہاکہ جاوید علی شاہ صاحب آپ نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی مگر ہم سب کی خواہش ہے کہ عوام کے مسائل ہیں جو تجویز آپ کہہ رہے ہیں زیر غور ہے اور کل جناب شہباز شریف نے بھی میرے سوال کے جواب میں تصدیق کی۔ آج اخبار میں خبر چھپی بھی ہے ہمارے ہاں۔ ہماری صرف یہ خواہش ہے کہ جس حد تک ممکن ہو سکے الیکشن سے پہلے قبضے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور الیکشن کے بعد حل ہو سکیں۔ آپ تو خود ہمارے علاقے کے ہیں میں خود جنوبی پنجاب اور سابق ریاست بہاولپور سے اور ملتان سے میرا تعلق ہے ہم چاہتے ہیں عوام کے مسائل حل کرنے کی کوئی نہ کوئی شکل بن سکے۔ضیا شاہد نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں انتظامی یونٹس کی تجویز مشاورت کے آخری مرحلے میںہے۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر ملتان نے بھی بتایا کہ 20 مئی تک کوئی مثبت فیصلہ سامنے آ جائے گا۔ طارق بشیر چیمہ نے شہباز شریف کا جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ فنڈز خرچ کرنے کا چیلنج قبول کیا ہے۔ میں نون لیگ سے گزارش کروں گا کہ رانا ثنائ، کوئی موثر رکن یا وزیر میرے پروگرام میں بھیجیں، ہم طارق چیمہ کو بھی مدعو کر لیں گے، آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر لیں تا کہ معلوم ہو سکے کس کے پاس کیا دلائل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی پنجاب میں صوبوں کی بات نہیں کرتا، میں کہتا ہوں لوگوں کے مسائل حل کریں۔ پورے جنوبی پنجاب سے لوگوںکو ریونیو، پولیس، صحت و تعلیم کے مسئلے پر لاہور آنا پڑتا ہے۔ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، بس اتنا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف ملے۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اعلیٰ ترین اعزاز کون دیگا ؟نام سامنے آگیا
واشنگٹن (ویب ڈیسک ) القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مبینہ طور پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں امکان ظاہر کیاجا رہا ہے کہ رواں ماہ رہائی کے فوراً بعد اسے بحفاظت افغانستان پہنچا دیا جائیگا تاکہ امریکی اپنے اس ہیرو کو امریکہ لا کر اسے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازیں، ٹرمپ انتظامیہ ایسا کر کے دنیا میں امریکی مفادات کیلئے کام کرنیوالوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہم اپنے مخلص ساتھیوں کی نہ صرف حفاظت کرتے ہیں بلکہ انہیں نواز کر ایک مثبت مثال قائم کرتے ہیں۔ امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خفیہ ادارے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو کسی اور کیس میں گرفتار کر کے اسے نامعلوم مقام پر قید کر سکتے ہیں۔ پروفیسر مائیک لیوز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی امریکیوں کا ہیرو ہے ، لہٰذا امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کو سخت پیغام پہنچائے کہ شکیل آفریدی کیخلاف کسی بھی طرح کا کوئی انتقامی ایکشن نہ لیا جائے۔ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے شکیل آفریدی کی جان کو خطرہ ہے ، ہو سکتا ہے کہ اسکو مار دیا جائے۔ آفریدی کے معاملہ میں امریکہ کو کمانڈو ایکشن لینا چاہئے کہ جب آفریدی کی رہائی عمل میں آئے تو اسکو امریکی حکام اپنے حفاظتی حصار میں لے لیں۔ پروفیسر شرما کا کہنا ہے کہ امریکہ آفریدی کے معاملہ میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں میں ہے ، ہو سکتا ہے کہ پاکستان امریکہ کیساتھ آفریدی کے معاملہ میں کسی قسم کی محاذ آرائی نہ کرے اور اسے رہائی کے فوراً بعد خود ہی امریکہ کے حوالے کر دے۔ امریکی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی کو خفیہ مقام پر منتقل کرنے کے عمل نے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے ، ایسا عمل کر کے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی حکام امریکہ کیساتھ کوئی ایسی ڈیل کر لیں جس سے حالات میں بہتری پیدا ہو۔ ایک معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آفریدی نے امریکہ کیلئے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے امریکہ ان کوششوں میں کامیاب رہا لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب آفریدی رہائی کے بعد امریکہ کیلئے کیا کرسکتا ہے ، کیا اسکے پاس ایسے راز موجود ہیں جن کو مدنظر رکھ کر مستقبل میں امریکہ اس خطے میں مزید فوائد حاصل کر سکتا ہے ؟۔
پہلی افغان خاتون پائلٹ کو کس نے سیاسی پناہ دی ،چونکا دینے والی خبر
واشنگٹن(نیٹ نیوز)افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ نیلوفر رحمانی کو امریکہ میں سیاسی پناہ مل گئی۔ٹرمپ انتظامیہ نے اس کیس کا فیصلہ سولہ ماہ بعد سنایا۔چھبیس سالہ نیلو فر رحمانی نے 2012میں افغان ائیر فورس جوائن کی تھی۔2016میں امریکہ میں ٹریننگ کے دوران ہی انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے دی تھی۔ انہوں نے درخواست میں اپنی اور اپنے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کو جواز بنایا تھا۔نیلوفر رحمانی کی وکیل کمبرلی موٹلی نے بتایا اس فیصلے سے ہم بہت خوش اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا میری موکلہ صرف اپنے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔
158 بڑے سیاستدان الیکشن سے باہر
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قومی احتساب بیورو (نیب) کی بدعنوانی کے خاتمے کی مہم 55 سے زائد اہم اور قدآور سیاسی شخصیات کو عام انتخابات 2018ءسے آﺅٹ کرسکتی ہے۔ 40 کے خلاف معاملات پہلے ہی چل رہے ہیں جبکہ بقیہ 15 شخصیات کے حوالے سے کارروائی عام انتخابات سے قبل شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ سیاسی شخصیات خود کو بچانے کے لئے نیب کی پلی بارگین پالیسی سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکی ہیں۔ دوسری جانب نیب ترجمان کا کہنا ہے کہ احتساب بیورو کا عام انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ نیب کاکام تحقیقات کرنا ہے‘ تاہم کسی کو اہل یا نااہل قرار دینا عدالتوں کا کام ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے پاس مختلف سیاسی شخصیات کے خلاف مقدمات کی وجہ سے آنے والے عام انتخابات میں ان کے حصہ لینے پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ ان شخصیات میں ڈاکٹر عاصم حسین‘ شرجیل میمن‘ اکرم درانی‘ سائرہ افضل‘ ڈاکٹر طارق فضل چودھری‘ ریاض حسین پیرزادہ‘ خواجہ آصف‘ خواجہ سعد رفیق‘ فواد حسین فواد‘ غنی چند اسرانی‘ ضیاءالحسن لنجار‘ دوست محمد‘ آغا طارق‘ سابق صوبائی وزیر رﺅف صدیقی‘ سابق ایم پی اے غلام قادر پلیجو‘ سابق ایم پی اے اعجاز شاہ شیرازی‘ سابق ایم پیاے نواب تیمور تالپور‘ سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار‘ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویزاشرف‘ جہانگیر ترین‘ چودھری شجاعت حسین‘ چودھری پرویزالٰہی‘ چودھری مونس الٰہی‘ علیم خان‘ امیر مقام‘ اسلم رئیسانی‘ آفتاب خان شیرپاﺅ‘ سابق صدر پرویز مشرف‘ ہارون اختر‘ رانا مشہود‘ حنیف عباسی سردار حسین بابک‘ افتخار شاہ‘ اسد قیصر‘ پیر صبغت اللہ راشدی‘ سنیٹر سحرکامران‘ آغا سراج درانی‘ مدثر قیوم ناہرہ سابق ایم این اے‘اظہر قیوم ناہرہ سابق ایم این اے‘ سنیٹر عثمان سیف اللہ اور ان کے خاندان کے افراد انور سیف اللہ‘ سلیم سیف اللہ‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک‘ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا خالد پرویز‘ انوشہ رحمن اور سابق چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹراسماعیل شاہ شامل ہیں۔ ڈاکٹراسماعیل شاہ کے خلاف مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر ٹیکسٹ جنریشن موبائل سروسز کو ٹھیکہ دینے کا الزام ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف‘ کیپٹن (ر) صفدر‘ مریم نواز کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نیب ریفرنسز کی سماعت جاری ہے اور معاملات میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ میاں نوازشریف‘ خواجہ آصف‘ جہانگیر ترین کے حوالے سے تو فیصلہ آچکاکہ وہ تاحیات نااہل ہیں جبکہ مریم‘ کیپٹن (ر) صفدر‘ اسحاق ڈار کے فیصلے سے ہی ان شخصیات کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا معاملہ واضح ہوسکے گا۔ شہبازشریف‘ فضل داد عباس‘ مسرور انور اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی جاچکی ہے۔ نیب کو یہ شکایت مشتبہ رقوم کی منتقلی کی بنیاد پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے موصول ہوئیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب نے چاروں صوبوں میں 85 سیاستدانوں پنجاب میں سیاستدانوں کے خلاف 45 سندھ میں سیاستدانوں کے خلاف 13 بلوچستان میں 15 سیاستدانوں اور دیگر شخصیات کے خلاف ریفرنس دائر ہیں جبکہ تحریک انصاف کی ووٹ بیچنے والی خواتین میں نرگس علی‘ دینا ناز‘ فوزیہ بی بی‘ نسیم حیات اور نگینہ حیات اور حضرات بابر سلیم ‘ سمیع اللہ زیب‘ یاسین خلیل‘ امجد آفریدی‘ قربان خان زاہد درانی اور سردار ادریس مایار‘ عبدالحق جاوید نسیم‘ جاوید نسیم‘ معراج ہایوں‘ عارف یوسف‘ فیصل زمان‘ سیمی علی زئی اور وجیہہ الزمان کے خلاف ہارس ٹریڈنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے ان کے مقدمات بھی نیب میں بھوائے جانے کا امکان ہے۔ راحیلہ مگسی ولد محمدفروق لغاری کے خلاف بھی نیب میں انکوائری چل رہی ہے۔ 197 نیب ریفرنسز پچھلے چھ ماہ میں نیب عدالتوں میں دائر کئے گئے ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ میں موجود مقدمات اور دیگر کے حوالے سے چیئرمین نیب نے کہاتھا کہ انہوں نے 11 اکتوبر 2017ءکو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سختی سے ہدایت کی تھی کہ 179 میگاکرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق منتطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لئے مئی کامہینہ گرمی اور نیب معاملات کی وجہ سے انتہائی سخت رہنے کا امکان ہے کیونکہ نیب کے حکام مئی میں مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراءکے خلاف منی لانڈرنگ‘ آمدن سے زائد اثاثے اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات شروع کریں گے۔ نیب کی تحقیقات کا سامنا کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر سائرہ افضل‘ اکرم درانی‘ ریاض حسین پیرزادہ‘ خواجہ سعد رفیق‘ وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسین فواد اور دیگر شامل ہیں۔ نیب میں کسی کے خلاف تحقیقات کا آغاز اس وقت شروع ہوتا ہے جب درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی تصدیق ہوتی ہے اور ابتدائی انکوائری کے بعد ہی تحقیقاتی شعبے کو کیس فراہم کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ہی بھرپور تحقیقات شروع ہونی ہیں اور پھر ریفرنس تیار کیا جاتا ہے۔ نیب حکام کے مطابق راولپنڈی نیب نے فواد حسین فواد کے خلاف کرپشن سے متعلق دوراس کیس بھی تیار کرلیا ہے جس میں ان پر راولپنڈی میں میگامال کی تعمیرات کا الزام ہے۔ مذکورہ اراضی کی قیمت بارہ ارب روپے بتائی جاتی ہے جبکہ کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیرات اپنے آخری مراحل میں ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک 21 گریڈ کا افسر اتنی مہنگی تعمیرات کیسے کروا سکتا ہے۔ اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ راولپنڈی کے وسط میں قائم دس منزلہ عمارت کی ملکیت فواد حسین فواد اور ان کے بھائی کے پاس ہے اور انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر جے ایس بینک سے بلڈنگ تعمیر کیلئے رقم حاصل کی۔ شکایت کنندہ کے مطابق فواد حسین فواد اور ان کے بھائی نے راولپنڈی حیدر روڈ پر رہائشی پلاٹ کے بدلے میں صدر میں جی پی او کے پاس کمرشل پلاٹ حاصل کیا۔ اس حوالے سے نیب نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے بعض دوا ساز کمپنیوں کو رجسٹریشن کرنے اور ادویات کے اضافے کرنے پر خصوصی رعایت فراہم کی۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سپورٹس ڈویژن پاکستان سپورٹس بورڈ کے امور میں متعدد دفعہ بے ضابطگیاں کیں۔ دوسری جانب اکرم درانی پر بطور وزیراختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔ شکایت کے مطابق اکرم درانی نے ڈی ایچ اے فاﺅنڈیشن کے سیکٹر ایک سے بارہ اور ایک سے16 میں اپنے منظور نظر دوستوں اور رشتے داروں کے لئے پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ کردار ادا کیا۔ جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ سنیٹر عثمان سیف اللہ اور ان کے خاندان کے افراد انور سیف اللہ، سلیم سیف اللہ کے پانامہ سکینڈل میں 34 آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا الزام ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، چف سیکرٹری خیبر پختون خوا خالد پرویز اور دیگر کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کو بھی مستقبل میں مزید فعال کرنے اور ان کے خلاف کارروائی آگے بڑھائی جانے کا امکان ہے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر بدعنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالم جبکہ میں 275 ایکڑ سرکاری جنگلات کی اراضی سیمنز گروپ آف کمپنیز کو لیز پر دینے کا الزام ہے۔ جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ دریں اثنا قومی احتساب بیورو (نیب) کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں ان میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں۔ کئی سیاسی شخصیات، سرکاری اداروں کے سابق افسران سمیت بہت سے معاملات چل رہے ہیں۔ چیئرمین نیب اس ملک کو کرپشن فری بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیب کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔
الیکشن سے باہر
امریکہ کا پاکستان سے پھر ”ڈومور“کا مطالبہ
واشنگٹن ( ویب ڈیسک ) امریکہ کا پاکستان سے پھر ”ڈومور“کا مطالبہ واشنگٹن امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان برائے جنوبی ایشیا ہیلینا وائٹ کا کہنا ہے کہ امریکا، پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل چاہتا ہے۔
ہیلینا نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا شراکت دار ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج اور عوام کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ہیلینا وائٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی نئی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس حکمت عملی میں کہا گیا تھا کہ 15 سال سے جو کچھ ہورہا ہے وہ صحیح نہیں، پاکستان بھی نئی حکمت عملی میں مل کر کام کرے تو پاکستان اور خطے کے لیے کامیابی ہوگی۔پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں مگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے، ٹرمپ
نیوزی لینڈکی ٹیم پاکستان آئیگی یا نہیں ،اصل خبر آگئی
ویلنگٹن / سڈنی(ویب ڈیسک) کینگروز خوف کی دیوار نہ پھلانگ سکے اور پاکستان میں کھیلنے کی درخواست پر کرکٹ آسٹریلیا نے صاف انکار کر دیا البتہ نیوزی لینڈ غور کرنے لگا ہے۔نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو رواں برس پاکستان کے ساتھ سیریز کھیلنی ہے، جس کا میزبان ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات ہی ہوگا،پی سی بی کی جانب سے دونوں بورڈز سے چند میچز پاکستان میں کھیلنے کی درخواست کی گئی تھی مگرآسٹریلیا نے اس پر غور تک کرنے سے صاف انکار کردیا،ٹیم کو ستمبر اور اکتوبر میں پاکستان سے تین ٹیسٹ اور ایک ٹوئنٹی20 میچ کھیلنا ہے جس کی حتمی تاریخوں کا فی الحال تعین نہیں ہوا۔ پاکستان نے آسٹریلیا سے درخواست کی تھی کہ وہ واحد ٹوئنٹی 20 میچ پاکستان میں کھیلے جہاں پر کامیابی سے سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے میچزمنعقد ہوچکے ہیں،مگر کرکٹ آسٹریلیاکے ترجمان نے واضح کیا کہ وہ اس درخواست پر غورتک نہیں کررہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ کھلاڑیوں کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے، پاکستان سے سیریز کے حوالے سے یہ بات پہلے ہی طے ہوچکی کہ یہ مشرق وسطیٰ میں کھیلی جائے گی،ہم اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔
پی پی یا پی ٹی آئی نہیں ،اصل مقابلہ خلائی مخلوق سے ھے ؛نواز شریف
اسلام آباد( ویب ڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کا مقابلہ پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ ‘خلائی مخلوق’ سے ہے، جو اپنی مرضی کی پارلیمنٹ لانے میں مصروف ہے۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘یہاں مغل بادشاہی کا دور نہیں کہ ہر چیز ایک ہاتھ میں ہو’، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ پارلیمنٹ اور حکومت کی رِٹ کہاں ہے؟سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی جانب سے رواں ہفتے ‘اینٹ سے اینٹ بجانے’ والے بیان کی تردید پر ردعمل دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ‘اگر آصف زرداری نے بیان نہیں دیا تو بریکنگ کس کے کہنے پر چلائی گئی؟’اواضح رہے کہ رواں ہفتے 30 اپریل کو آصف زرداری کی جانب سے میڈیا پر ایک مبینہ سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ‘چالاک اور موقع پرست’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘نواز شریف نے ہر موقع پر انہیں اسٹیبلشمنٹ سے لڑا کر خود ہاتھ ملا لیا’ جبکہ ‘اینٹ سے اینٹ بجانے’ والا بیان بھی انہوں نے نواز شریف کی چال میں آکر دیا تھا۔
نو جوان ،نو عمر پاکستانی طالبہ نے امریکہ میں گوروں کو حیران کر دیا
واشنگٹن:(ویب ڈیسک) نوجوان پاکستانی طالبہ دانیہ حسن نے امریکا میں ایمرجنگ ینگ لیڈر کا ایوارڈ حاصل کرلیا دانیہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پاکستان کی کم عمر ترین لڑکی بن گئی ہیں۔18 سالہ دانیہ سمیت دنیا بھر کے 10 نوجوانوں کوینگ ایمرجنگ لیڈر کا ایوارڈ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےگزشتہ روز واشنگٹن میں منعقد ایک تقریب میں دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے دانیہ کو یہ ایوارڈ تعلیم کے شعبے میں اپنی خدمات انجام دینے، امن اور مفاد عاممہ کےلیےکام کرنے پر دیا گیا۔ دانیہ سمیت یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے دیگر نوجوانوں کا تعلق عراق، انڈونیشیا، ترکی، بنگلہ دیش، لتھوانیا، ناروے، جنوبی افریقہ، پاناما اور تاجکستان سے ہے۔


















