ممبئی(شوبز ڈیسک) ہندوستانی فلم انڈسٹری کی بولڈ اداکارہ اور مشہور ڈانسنگ گرل راکھی ساونت نے بھی بالی وڈ فلم انڈسٹری میں کاسٹنگ کاچ کے حوالے سے گفتگوکر تے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اپنے کیرئیر کے آغاز میں مجھے بھی کاسٹنگ کاچ کا شکار ہونا پڑا تھا ۔ راکھی ساونت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ہندوستانی فلم اندسٹری میں جنسی بد عنوانی پورے شد و مد کے ساتھ ہوتی ہے اور میں بھی اپنے فلمی کیرئیر کے آغاز میں کاسٹنگ کاچ کا شکار ہو چکی ہوں ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرے ساتھ کاسٹنگ کاچ کا معاملہ ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا کہ مجھے بھی کاسٹنگ کاچ کے شرمناک مرحلے سے گذرنا پڑا مگر میں نے اپنے اندر چھپی ہوئی فنکارانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی اور ہار نہیں مانی ۔انہوں نے کہا کہ فلمی کیرئیر کے ابتدائی دور میں مجھے بھی بعض پرڈیوسرز اور ڈائریکٹرز نے کاسٹنگ کاچ کے لئے مجبور کیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں ہے کہ ہر پر ڈیوسرز اور ڈائریکٹرز جس کے پاس میں کام کے لئے گئی وہ سب گناہ گار اور اس مکروہ دھندے میں ملوث تھے ۔راکھی ساونت نے مزید کہا کہ دوسرے شعبوں کی طرح بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی جنسی بد عنوانی ہوتی ہے۔
Monthly Archives: May 2018
سکینڈل کوئین میرا کا امریکا میں مستقل رہائش پذیر ہونےکا فیصلہ
لاہور(شوبز ڈیسک) سکینڈل کوئین کے نام سے مشہور اداکارہ میرا نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا سے خصوصی گفتگو میں میرا نے بتایا کہ وہ آئندہ چند روز میں امریکا چلی جائیں گی اور وہیں مستقل رہائش اختیار کریں گی۔میرا کا کہنا تھا کہ میرے پاس امریکا اور کینیڈا کا گرین کارڈ موجود ہے۔اداکارہ میرا نے مزید کہا کہ وہ پاکستان چھوڑنے کی وجہ جلد ہی اپنے چاہنے والوں کو بتائیں گی۔واضح رہے کہ اپنی گلابی انگریزی کی وجہ سے خبروں میں اِن رہنے والی میرا کو نکاح پر نکاح کیس کا بھی سامنا ہے۔اداکارہ کا اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں ہمیشہ اپنے مداحوں سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں رہوں گی۔ جب ان سے اچانک امریکہ جانے بارے فیصلے کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں مکمل بات سوشل میڈیا پر بتاﺅں گی۔
مادھوری ڈکشٹ فلم ”کلنک “ میں ڈانس ٹیچر بنیں گی
ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی وڈ اداکارہ مادھوری ڈکشٹ فلم کلنک میں ڈانس ٹیچر کا کردار نبھائیں گی۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مادھوری ڈکشٹ فلم کلنک میں رقص سکھاتی ہوئی دکھائی دیں گی۔ مادھوری اور عالیہ بھٹ فلم میں ایک آئٹم گیت بھی پیش کریں گی۔ معروف اداکارہ کافی عرصے بعد کلنک میں سنجے دت کے ساتھ بطور اداکارہ کام کررہی ہیں۔ فلم کی کاسٹ میں ورون دھون، سوناکشی سنہا، سنجے دت، عالیہ بھٹ، ادیتیا رائے کپوراور مادھوری ڈکشٹ شامل ہیں۔
فلم کے پروڈیوسر کرن جوہر جبکہ ہدایتکار ابھیشیک ورمان ہیں۔ فلم آئندہ سال19اپریل کو نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔
سوناکشی سنہا بھی کرکٹر سریش رائنا کی مداح نکلیں
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وڈاداکارہ سوناکشی سنہا بھارتی کرکٹر سریش رائنا کی مداح نکلیں ۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سوناکشی سنہا نے اپنے پسندیدہ کرکٹر کا نام بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی کرکٹر سریش رائنا کو پسند کرتی ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ وہ ان کی بہترین پرفارمنس پر اپنے ٹویٹر سے انہیں ٹیگ کرکے ان کے لئے پیغام بھی لکھتی ہیں۔سریش رائنا ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے بہترین بلے باز ہیں۔سوناکشی سنہا فلم ”کلنک“ میں جلوہ گر ہوںگی۔
ڈرامہ رائٹر کوغریب لوگوں کے مسائل پر بھی قلم اٹھانا چاہیے
لاہور (شوبز ڈیسک) اداکارہ جویریہ سعود نے کہا ہے کہ میں تقدیر پر یقین رکھتی ہوں اور مجھے علم ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو اسکے مقدر میں لکھا ہو ،مجھے خدا کی ذات نے جن نعمتوں سے نوازا ہے اس پر میں اپنے رب کی ذات کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ ہم دے کر بھی آزماتے ہیں اور لے کر بھی آزماتے ہیں ،جویریہ سعود نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا ٹی وی ڈرامہ پہلے کی نسبت بہت بہتر ہو چکا ہے ۔مگر اس میں گلیمر زیادہ ہے ۔ ڈرامہ رائٹروں کو غریب لوگوں کے مسائل پر بھی قلم اٹھانا چاہیے ۔
چیف جسٹس نے صحافیوں پر تشدد واقعے کا نوٹس لے لیا
اسلام آباد (اے این این) چیف جسٹس نے صحافیوں کی پارلیمنٹ ہاس جانے والی ریلی کو روکنے کے واقعے کانوٹس لے لیا۔عالمی یوم صحافت پراسلام آباد میں صحافیوں کی جانب سے ریلی نکالی گئی جس میں پی ایف یو جےاور متعدد ایسوسی ایشنز سمیت غیر ملکی میڈیا نمائندوں نےبھی شرکت کی۔ریلی کے شرکا نے پارلیمنٹ ہاس کی طرف مارچ کرنا تھا جہاں صحافیوں نے پارلیمنٹ کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرنا تھی لیکن پولیس نے ریلی کو ڈی چوک پر ہی روک لیا اور آگے جانے کی اجازت نہ دی۔پولیس کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور اس دوران پولیس اور صحافیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی جس کےبعد ریلی کے شرکا نے پولیس رویئے کے خلاف احتجاجا دھرنا دےدیا۔دوسری جانب چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
نیب نے سندھ میں اہم شخصیات کیخلاف کرپشن کے متعدد کیسز بند کردیے
قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ میں کرپشن کے متعدد کیسز بند کردیے، نیب ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر کوآپریٹیو اکرام دھاریجو اور وزیر ایکسائز گیان چند اسرانی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات اور مقدمہ ختم کردیا گیا۔نیب ذرائع کے مطابق مکیش کمار چاؤلہ کے خلاف کیمروں کی خریداری میں کرپشن کا کیس بھی بند کردیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر قانون ضیاء لنجار کے خلاف اثاثہ جات بنانے کا کیس بھی فائلوں کی نذر ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے خلاف نیب کی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوسکی ہیں جبکہ میر منور تالپور اور اویس مظفر کے خلاف آمدن سے زائد جائیداد اور ناجائز اثاثہ جات کے کیسز بھی بند کردیے گئے ہیں۔
2013کے الیکشن میں فوج نے نواز شریف کی مدد کی تھی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو فوج کی مدد حاصل تھی۔ انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف تو بنی ہی میڈیا کی وجہ سے ہے، 12 سال تو اکیلے ہی دھکے کھاتا رہا ہوں انہوں نے کہا کہ اگر روایتی سیاست کرتا تو ہماری پارٹی تو اوپر ہی نہیں آ سکتی تھی۔نواز شریف کے میڈیا پر پابندیوں سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف پر جب دبا آیا ہے تو وہ احمقوں اور پاگلوں والی باتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف ضیا الحق کے مارشل لا میں پلے ہیں، انہوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کیا اور نجم سیٹھی کو پھینٹی لگوائی۔ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے، عدلیہ نے اور فوج نے ہمیشہ نواز شریف کی مدد کی، فوج نے 90 میں نواز شریف کو پیسے دلوائے، 96 میں نواز شریف نے فوج کی مدد سے بے نظیر کی حکومت گروا دی اور پھر 2013 کے الیکشن میں فوج نے ان کی مدد کی۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ 2013 کے الیکشن کو آر کا الیکشن اس لیے کہتے ہیں کہ کبھی کسی نے سنا ہے کہ نتائج آ رہے ہوں اور امیدواروں کو ہی پولنگ اسٹیشنز کے اندر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2013 کے انتخابات میں ایک بریگیڈیئر نے پنجاب میں پوری طرح نواز شریف کی مدد کی۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نیوٹرل امپائر کی مدد سے میچ کھیلنے کے عادی تھے لیکن آج عدلیہ اور فوج نیوٹرل ہو گئی ہے۔منظور پشتین کی پشتون تحفظ مومنٹ کے احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سینسز شپ کی وجہ سے میڈیا آزاد نہیں ہے، آج امریکا اور برطانیہ میں اسرائیل کے خلاف ایک خبر نہیں چل سکتی، نیشنل سیکیورٹی کے معاملات پر دنیا کے ہر ملک میں ایسا ہوتا ہے لیکن میں اس کا مخالف ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملٹری آپریشن کی مخالفت کی تو مجھے طالبان خان کہا گیا، 2004 سے بار بار کہتا رہا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کو کسی صورت نہ بھجوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی ایم والے پاکستانی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن جب فوج کو کسی علاقے میں بھیجا جاتا ہے تو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، آپریشن کی وجہ سے آدھے قبائلی لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، ان کے کاروبار تباہ اور مویشی مر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک تو پی ٹی ایم والوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہوں کہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا لیکن دوسری چیز یہ ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟ کیا آپ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنا چاہتے ہیں؟لاپتہ افراد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ جب وہاں جنگ چھیڑ دی گئی تو یہ تو ہونا تھا، شک کی بنیاد پر لوگوں کو اٹھایا گیا۔عمران خان نے کہا کہ پی ٹی ایم والوں کے تحفظات کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنا فوج کا قصور نہیں لیکن جس نے امریکا کے کہنے پر فوج کو وہاں بھیجا اس کا قصور ہے، 250 لوگوں کے پیچھے فوج کو وہاں بھیج کر ہم نے زبردستی اپنے لوگوں کو عذاب میں ڈالا۔لیکن ڈان لیکس اور میمو گیٹ جیسی چیزیں آرمی مخالف ہیں اور جس دن ہماری آرمی کمزور ہو گئی تو اس کا مطلب ہے کہ ملک ٹوٹ گیا۔نواز شریف کی تقریروں کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ آج کل نواز شریف کی تقریریں سنتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ ان سے دبا برداشت نہیں ہو رہا کیونکہ انہوں نے کبھی جدو جہد اور محنت کب کی ہے، جب مشرف نے جیل میں ڈالا تو آنسوں سے ٹشو کے ڈبے بھر گئے اور پھر ڈیل کر کے جدہ چلے گئے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف آج کل منڈیلا بننے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ انہوں نے 27 سال جدوجہد کی تھی اور نواز شریف پر 300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 1999 میں جب مشرف نے انہیں جیل میں ڈالا تو ن لیگ دو تہائی اکثریت میں تھی لیکن کوئی ایک بندہ باہر نہیں نکلا۔عمران خان کی 11 نکات پر وضاحتمینار پاکستان پر تحریک انصاف کے جلسے کے دوران اعلان کئے گئے 11 نکات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک ارب 18 کروڑ درخت لگائے اور ہمارے اس کام کو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سراہا اور تسلیم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر کی اور پولیس کو پروفیشنل بنایا، سول پروسیجر کورٹس بنائیں جس کے تحت ایک سال کے اندر سول کیسز ختم کرنے ہوں گے۔خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں عدم اطمینان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے کہتا ہوں کہ 5 سال پہلے اور اب وہاں کے اسپتالوں میں کیا تبدیلی آئی ہے وہ دیکھ لیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیا اسپتال بنانا آسان لیکن پہلے سے بنے ہوئے اسپتال کو چلانا انتہائی مشکل ہے، بہت مشکل سے صوبے میں ہیلتھ ریفارمز لائے اور ہیلتھ انشورنس کا نظام متعارف کرایا۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے بتائیں کہ انہوں نے 20 سالوں میں وہاں کیا کیا؟تعلیم کے میدان میں بہت تبدیلی لائے اور پاکستان میں پہلی مرتبہ حقیقی بلدیاتی حکومت بنی جہاں گاں کی سطح پر تبدیلی آئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام حکومت سے مطمئن نہ ہوں تو اسے دوبارہ منتخب نہیں کرتے لیکن ہم نے جو سروے کرائے ہیں ان کے مطابق تحریک انصاف کا ووٹ بینک دوگنا ہو گیا ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ہر جنرل کی پالیسی مختلف ہوتی ہے اور میرے نزدیک جنرل باجوہ سب سے زیادہ جمہوریت پسند اور غیر جانبدار جنرل ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نواز شریف سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ جب ہم پانامہ کیسز میں لگے ہوئے تھے تو شہباز شریف اینڈ سنز کمپنیز پنجاب میں پیسہ بنانے میں لگی ہوئی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ پختونخوا کا سارا بجٹ 110 ارب روپے اور صرسف لاہور کا بجٹ 350 ارب ہے، اگر لاہور کے اوپر اتنا بجٹ لگا رہے ہیں تو وہاں تھوڑی سڑکیں بہتر ہو جائیں گی۔ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین عمران خان نے صدارت کی ۔اجلاس میں ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان و مرکزی سیکرٹی اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ 29اپریل کے جلسے کے بعد نواز شریف بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔نواز شریف کا بیانیہ بے سروپا اور کنفیوژن سے بھرپور ہے ۔انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان پر عمران خان نے پاکستان کے توانا مستقبل کا فارمولا پیش کیا۔عمران خان کے گیارہ نکات ملک کو باعزت اور باوقار مستقبل سے ہمکنار کرنے کی ترکیب ہیں۔تحریک انصاف کے قائدین ہر سطح پر چیئرمین کے گیارہ نکات اور نئے پاکستان کے تصور کو اجاگر کریں۔تحریک انصاف انتخابات کیلئے پوری طرح یکسو اور تیار ہے ۔نون لیگ نے ملکی معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی تباہی میں پوری جانفشانی سے محنت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے انتظامی، معاشی اور سیاسی نظام میں نون لیگ کی جانب سے شامل کردہ آلائشیں دور کرنا ہونگی۔اجلاس میں نون لیگی وزراءکی جانب سے تحریک انصاف کی خواتین کیخلاف بیہودہ جملے بازی کی شدید مذمت کی گئی اور رانا ثناءاللہ، عابد شیر علی اور طلال چوہدری کے محاسبے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ بھی مکمل طور پر مسترد کردیا گیا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پورے سال کی بجٹ سازی کا موجودہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں۔نون لیگ نے بجٹ میں انتہائی بے رحمی سے غریبوں کے مفادات پر ضرب لگائی۔بجٹ کا واحد مقصد ٹیکس چوروں اور مراعات یافتہ طبقے کے مفادات کی نگہداشت ہے۔اجلاس میں نواز شریف اور خاندان کی جانب سے قومی اداروں پر زبانی حملوں کی شدید مذمت کے ساتھ شریفوں کے احتساب کا عمل بلاتاخیر مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملکی مسائل کے حل پر مبنی فلموں کے سکرپٹس میں دلچسپی رکھتا ہوں
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی وڈ اداکار اکشے کمار نے کہا ہے کہ وہ ملکی مسائل کے حل پر مبنی فلموں کے سکرپٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اداکار اکشے کمار کی سماجی مسائل پر مبنی فلموں میں تفریحی انداز میں ایک پیغام دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں ملکی مسائل پر مبنی متعدد فلموں کی پیشکش کی گئی لیکن انہیں ایسے سکرپٹس بلکل بھی نہیں پسند جن میں صرف مسائل پر بات کی گئی ہو بلکہ وہ مسائل کے حل پر مبنی فلموں کے سکرپٹس میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ میڈیا کو ملک کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ کوئی ایسا ٹی وی چینل آئے جن میں ہر شعبے میںمستقل مسائل کے حل پر بات کی جائے۔
ماہرہ پہلی بارکانزفلم فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کرینگی
کراچی(شوبز ڈیسک) پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی رواں سال پہلی بار کانزفلم فیسٹیول میں شرکت کی توقع کی جارہی ہے اگر ماہرہ خان خان کانز میں شرکت کرتی ہیں تو وہ کانز فلم فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی پاکستانی اداکارہ ہوں گی۔میڈیا میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق اداکارہ ماہرہ خان پہلی بار 71 ویں سالانہ انٹرنیشنل کانزفلم فیسٹیول میں بین الاقوامی برانڈ لوریال پیرس کی برانڈ ایمبسیڈرکے طور پر پاکستان کی نمائندگی کرتی نظرآئیں گی۔ کانزفلم فیسٹیول کا میلہ ہرسال فرانس میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں ہالی ووڈ اوربالی ووڈ کی صف اول کی اداکاراو¿ں کو مدعو کیا جاتا ہے۔کانزفلم فیسٹیول کے ریڈ کارپٹ پر اب تک بالی وڈ کی خوبرو اداکارائیں ایشوریارائے بچن، سونم کپور، پریانکا چوپڑا اوردپیکا پڈوکون اپنی اداو¿ں کے جلوے بکھیرچکی ہیں۔اوراب کہا جارہا ہے کہ پاکستان سے اداکارہ ماہرہ خان پہلی بار ان اداکاراو¿ں کے ساتھ کانزمیں پاکستان کی نمائندگی کرتی نظر آئیں گی۔واضح رہے کہ ماہرہ خان کوگزشتہ برس اکتوبر 2017 میں بین الاقوامی برانڈ کی سفیرمقررکیا گیا تھا لہٰذا ماہرہ لوریال پیرس کی سفیرکے طورپرکانز فلم فیسٹیول میں شرکت کریں گی۔یاد رہے کہ کانزفلم فیسٹیول میں دنیا بھرسے منتخب کی ہوئی فلمیں اوردستاویزی فلمیں دکھائی جاتی ہیں اورکانزکا میلہ ہرسال مئی میں منعقد کیا جاتا ہے۔
عمران خان ایس ایس پی تشدد کیس سے بری
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران قائم کیے گئے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کو بری کردیا۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
عالمی بنک کا وعدہ ،پانی کے لیے بھارت سے پر زور بات کریں گے
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر برائے آبی وسائل سید جاوید علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی واٹر پالیسی چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے تیار ہوئی اس پر تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ کے دستخط ہیں اور مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ پاکستان کے آبی وسائل بڑھانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔ گزشتہ دنوں ورلڈ بینک کا ایک وفد پاکستان آیا تھا جس کے سامنے ہم نے اپنا موقف بھرپور طریقے سے رکھا کہ بھارت پانی کے دریاﺅں کا سارا پانی بند نہیں رکھ سکتا جس کے جواب میں وفد نے جو پاکستان کے بعد بھارت کے دورے پر جا ررہا تھا نے یقین دلایا تھا کہ بھارت پر زور دے گا کہ وہ بین لاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنا پانی کا مسئلہ حل کرے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے چینل ۵ کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں کہنہ مشق صحافی اور معروف تجزیہ کار ضیا شاہد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ ان کی گفتگو سوالاً جواباً پیش خدمت ہے۔
سوال: سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کے بارے میں ایک رٹ کے جواب میں حکومت سے استفسار کیا ہے کہ آپ کی واٹرپالیسی کیا ہیں۔ واٹر پالیسی پر جواب دیں۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے آپ بار بار یہ کہہ چکے ہیںکہ آپ کے خلاف سندھ اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی تھی اس کے باوجود آپ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حق میں ہیں اب آپ سے سپریم کورٹ نے جو جواب مانگا ہے آپ اس سلسلے میں کیا فرمائیں گے۔ اور ہماری واٹر پالیسی کیا کہتی ہے جو منظور کی ہے،کیا اس میں نئے آبی ذخائرکے قیام کا ذکر موجود ہے۔
جواب: سب سے پہلے تو میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ پہلی نیشنل واٹر پالیسی ہے جو ہم نے لانچ کی ہے۔ اور اس کو لانچ کرنے سے پہلے ہم نے کونسل آف کامن انٹرسٹ (سی سی آئی) میں منظور کرائی ہے چاروں چیف منسٹرز نے اس پر چارٹر کی صورت میں دستخط کئے ہیں تا کہ کل کوئی پھر یہ ناکہہ سکے کہ اس کی فلاں شک پر ہمیں کوئی اعتراض تھا یہ پورے اتفاق رائے سے ان کے جو خدشات تھے وہ دور کرنے کے بعد اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں چاروں وزراءاعلیٰ نے دستخط کئے جس کو ہم چارٹر کہہ رہے ہیں واٹر پالیسی کا۔ ہم نے پھر اس کو لانچ کیا کابینہ نے اس کو منظور کر دیا یہ اپنی پوری شکل میں آ چکی ہے۔ آج بھی اس پر وزیراعظم صاحب سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں پہلی چیز ہی یہی ہے کہ آبی ذخائر قائم کرنے ہیں جس پانی کی سمندر میں ضرورت ہے اس سے تین گنا زیادہ جا رہا ہے وہ ضائع جاتا ہے ۔ پچھلے دنوں جو کمی ہوئی ہے اس سے ون ایف ایکٹرملین پانی بھی ہمارے پاس ہوتا تو یہ کمی نہ ہوتی کیونکہ اس سے کہیں زیادہ سمندر کی نذرہو جاتا ہے جو ضائع ہو جاتا ہے۔ آپ واٹر پالیسی کی تفصیل پڑھیں یہ آ چکی ہے اس میں آپ دیکھیں گے کہ کوئی ایسا ایشو نہیں جو ہم نے ٹچ نہ کیا ہو یہ کہ پانی بچانا کس طرح ہے ڈیم میںکیسے کرنا ہے پانی کی تقسیم کیسے ہونی ہے ہم نے ریسرچ کیسے کرنی ہے واٹر کی ٹریٹمنٹ کیسے ہونی ہے کوئی ایسا ایشو نہیںہے جس کا تعلق پانی سے ہو اور اس میں ہم نے لائے ہوں میں سمجھتا ہوں کہ آج اگر سپریم کورٹ نے پوچھا ہے تو خدا کا شکر ہے کہ بروقت یہ واٹر پالیسی دے چکے ہیں اور یہ پاکستان کی پہلی نیشنل واٹر پالیسی ہے کہ ہمارے ہمسایہ ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی یہ پالیسیاں کئی دفعہ آ چکی ہیںاور وہاں ہر دس سال بعد ریوائز بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ابھی بنی نہیں تھی یہاں ہمیشہ تساہل کا شکار ہو جاتی ہے یا حکومتیں دوسرے مسئلوں کا شکار ہوتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے جو میجر ایشوز یا اصل کام ہیں وہ کرنے کا موقع ہی کم ملتا ہے اگر ہم گہرائی میںجائیں تو یہ ساری چیزیں اس وقت ہوئی ہیں۔
سوال: جاوید علی شاہ صاحب خوشی کی بات ہے اور آپ مبارکباد کے بھی مستحق ہیں کہ لیکن اس سوال کا جواب دیجئے کہ واٹر پالیسی ایک جنرل براڈ لائنز پر مرتب کی جاتی ہے اچھی بات ہے کہ صوبے اس پر متفق ہیں لیکن یہ فرمایئے کہ جب بھی بات کی جاتی ہے کہ بڑے آبی ذخائر ہونے چاہئیں کوئی اس سے انکار نہیں کرتا پچھلے 15,12 سال سے ہم یہی سن رہے ہیں کہ دیامیر میں بھاشا ڈیم بنے گا اس پر لوگوں کا اتفاق ہے لیکن جونہی کالا باغ ڈیم کا ذکر ہوتا ہے فوراً یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر کے پی کے کو بھی اعتراض ہے اس پر سندھ کو بھی اعتراض ہے۔ اصل مسئلہ تو ان دونوں صوبوں کے اعتراضات کے ختم کرنے اور متفقہ فارمولا تیار کرنے کا ہے صرف واٹر پالیسی لیول پر ایک مشترکہ مسودہ تیار کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک بڑا یعنی ڈسپورٹ اصل تنازع کالا باغ کی تعمیر کا ہے اس پر اتفاق رائے نہیں ہو رہا۔آپ آبی وسائل کے ہی وزیر ہیں آپ کے ذہن اس اتفاق رائے کے حوالے سے لائحہ عمل ہے اور خاص طور اس لئے کہ عام انتخابات آنے والے ہیں آپ کے پاس کتنے دن ہیں اس مختصر وقت میں کیا کوئی پیشرفت اس سمیت میں ہو سکتی ہے ۔
جواب: ضیاشاہد صاحب!نیت درست ہو تو کیوں پیشرفت نہیں ہو سکتی۔ میں نے اس حد تک آفر کی ہے کہ اگر سندھ کو یہ خدشہ ہے کہ کالاباغ کے بننے سے ان کے پانی میں کمی آ جائے گی تو ہم صوبوں کے درمیان ایک اور ٹریٹی سائن کرتے ہیں جس سے ہم کالا باغ ڈیم کا سارا کنٹرول سندھ کو دینے کو تیار ہیں کہ وہ پہلے اپنا پانی پورا کرے اور اگر بچے تو پنجاب اور دوسرے صوبوں کو دے ورنہ نہ دے۔ ہم کالا باغ ڈیم کا پورا اختیار ان کے سپرد کرنے کو تیار ہیں اور اس طرح ہم نے کے پی کے کو کہا ہے کہ اگر آپ کو خدشہ ہے کہ نوشہرہ ڈوب جائے گا تو نوشہرہ سے پہلے مہمند ڈیم بنانے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس ڈیم کا پانی کنٹرولڈ ہو گا تو نوشہرہ کو کسی فکرکی ضرورت نہیں ۔ نہ ہی اتنا پانی ڈیموں سے باہر ہو گا کہ نوشہرہ ڈوب جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نوشہرہ ڈوبنے والی بات صریحاً غلط ہے مگر کوئی خدشہ اگر ہے بھی سہی تو مہمند ڈیم بننے سے کے پی کے کا خدشہ ختم ہو گا اور کالاباغ ڈیم کا کنٹرولر سندھ کو دینے سے ان کا خدشہ ختم ہو سکتا ہے۔ مگر بات نیتوں کی ہے کہ اگر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو ہم اسے بلڈوز نہیں کرنا چاہتے کیونکہ پنجاب زیر عتاب رہتا ہے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی کہے کہ اتفاق رائے کے بغیر کام کیا ہے۔ ہم نے اسمبلی کے فیصلہ اور میڈیا کے ذریعے آفر کی ہے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ وہ اس پر مل بیٹھ کر بات کرنے کےلئے تیار نہیں۔ کالا باغ کا نام سننے کے لیے تیار نہیں۔ محض اس بات کا ذکر کرنے سے کہ ا تفاق رائے کے بغیر ہم کرنا نہیں چاہتے وہ میرے خلاف قراردادیں پاس کر دیتے ہیں۔ یا حکومت کو الزام دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر نیک نیتی سے پاکستانی سوچ کے تحت یہ کیا جائے تو ڈیم بن سکتا ہے اور یہ بنایا جانا ضروری ہے بلکہ میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ پچھلے دنوں ایک میٹنگ میں بیٹھ کر چارٹر سائن کرنے کی بات کی تو میرے لیے یہ چیز انتہائی حیران کن تھی کہ چیف منسٹر سندھ نے کہا کہ میں اس پر دستخط اس وقت کرنے کو تیار ہوں گا جب پالیسی میں لکھا جائے کہ آئندہ پاکستان میں کوئی ڈیم نہیں بنے گا یہ میرے لیے بڑی تکلیف دہ بات تھی کہ کوئی ڈیم بھی وہ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ وہ لکھوانا چاہتے تھے جس پر ا نہیں سمجھایا گیا کہ واٹر پالیسی ایک مختلف ڈاکومنٹ ہے اس میں ڈیموں کے نہ بننے کا تذکرہ تو نہیں بننے کا تذکرہ ہونا چاہیے تاکہ ہم اپنے ریزروائز قائم کریں۔ انڈیا ہمارے دریاﺅں پر ریزروائز قائم کرتا ہے وہ ہم برداشت کر جاتے ہیں مگر ہم ا یک دوسرے کو اللہ جانے برداشت کرنے کےلئے کیوں تیار نہیں۔
سوال: میں پچھلے کئی برس سے ستلج میں اور راوی میں جو مکمل بندش ہے اور سارا سال پانی نہیں ہوتا اور اس کا حل رابطہ نہروں کے ذریعے تجویز کیا گیا ہے لیکن اس کے ذریعے دریا کا بیٹ(جس کو پیٹ کہتے ہیں) وہ پورے طریقے سے پانی سے کبھی نہیں بھرتا لنک کینال جاتی ہے اور ایک ڈیم سے پہلے دریا میں پانی چھوڑتی ہے اور وہیں بند باندھ کر کسی نہ کسی نہر میں دوسری طرف ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ میں نے خود جناب شاہد خاقان عباسی کو عرض کیا ،کتاب پیش کی، رپورٹ پیش، خط پیش کیا۔ کچھ ڈاکومنٹس پیش کیے اور ان سے گزارش کی کہ جناب 7 سال سے میں نے آپ سے بھی کہا جب آبی وسائل کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے آپ کوسی پی این ای کے سیمینار میں آواری ہوٹل لاہور میں بلایا تھا۔ آپ نے بڑی اچھی باتیں کیں میں نے عرض کیا کہ پچھلے 7برس سے انڈس بیسن یعنی جو سندھ طاس کا کمشنر ہے لاہور کا خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو وہ 7سال سے ہر سال یہ ایک یادداشت بنا کر بھیجتا ہے کہ جناب ہمیں ریسرچ کے لیے اتنے پیسے دئیے جائیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پہلے ہم نے تحقیق کر کے پھر ہم نے سندھ طاس کے انڈین کمشنر سے بات کرنی ہے کہ جناب وہ ان دریاﺅں کو سوفیصد خشک نہیں کر سکتے۔ 1960ءمیں جو آبی معاہدہ ہوا تھا جس میں ستلج اور راوی کا پانی انڈیا کے حصے میں آیا تھا (زرعی پانی) لیکن نمبر1زرعی پانی ان کے حصے میں آیا تھا مکمل پانی یعنی ماحولیات کا پانی آبی حیات کا پانی اور مچھلیاں وغیرہ تھیں ان کا پانی اور دریاﺅں کے کنارے جو سبزہ ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ماحول صاف رہتا ہے وہ پانی ان کے حصے میں نہیں آیا تھا جناب لیکن1970میں دنیا میں ایک بہت بڑا انقلاب آیا، انٹرنیشنل واٹر کنونشن تھا جس کو من و عن اپنا لیا گیا یو این او کی طرف سے اور اب یہ تمام ممالک میں نافذ العمل ہے۔ میری درخواست ہے کہ براہ کرم آپ کوشش کریں کہ مجھے شاہد خاقان عباسی صاحب نے کہا کہ ہمارا کیس ورلڈ بینک کے پاس ہے اور ورلڈ بنک 7سال سے ہمیں اجازت نہیں دے رہا کہ جناب میں نے بہت سٹڈی کی ہے ماہرین سے مشورہ کیا ہے ورلڈ بنک گارنٹر تھا اس کے ذریعے ریفر ہوتا ہے کیس، ورلڈ بنک کوئی عدالت نہیں کہ وہ ہمارا کیس روک سکے۔ نمبر1ایک ہمیں اس سے ریفر کروائے بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں جانا چاہیے اور ہمیں یہ کیس دائر کرنا چاہیے کہ معاہدہ زرعی پانی کا تھا۔ زرعی پانی ستلج اور بیاس کا انڈیا کے حصے میں آیا تھا۔ جناب پینے کا پانی، ماحولیات کا پانی، آبی حیات کا پانی مکمل طور پر نہیں بند کیا جاسکتا۔ دنیا میں خاص طور پر افریقہ میں، امریکہ میں یورپ میں بھی دریائے ڈینیوب ہے، امریکہ میں مس سپی ہے اور افریقہ میں بہت سے دریا ہیں جن میں اپر حصے کے ممالک زیریں حصے کے ممالک کو سوفیصدپانی نہیں بند کر سکتے۔ اس کا پراسیس یہ ہے کہ پہلے تحقیق کی جائے پھر انڈس واٹر کمیشن کے جو انڈیا کا کمشنر ہے اس سے بات چیت کریں گے۔ یہ معاہدے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر وہاں سے انکار ہو جائے تو ہم ورلڈ بنک جا سکتے ہیں وہاں سے ریفر کروا کر بین الاقوامی مصالحتی عدالت میںجائیں گے۔ آپ اپنے اختیارات استعمال کریں۔
جواب: آپ نے جتنا اس کیس کو سٹڈی کیا ہوا ہے میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی ہینڈل کر سکتا ہے نہ کر سکا۔ پچھلے ماہ ورلڈ بنک کا وفد آیا ہوا تھا ہم نے بڑے پرزور طریقے سے انہیں کہا کہ آپ گارنٹر ہونے کی حیثیت سے مداخلت کریں اور بھارت کو اس بات پر مجبور کریں کیونکہ انڈیا اکثر معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کسی معاہدے کا احساس نہیں کرتا۔ ورلڈ بنک کے لوگوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے دورے کے بعد انڈیا جاتے رہے ہیں ان سے پرزور طریقے سے یہ بات کریں گے کہ جو چیزیں معاہدے کے تحت طے ہوئی تھیں جس میں ماحولیات کے حوالے سے نباتات، حیوانات کے لیے یا درختوں کے لیے پانی دینا ضروری ہے وہ ان دریاﺅں کو دیا جائے تاکہ نباتات اور حیوانات زندہ رہ سکیں۔
مکی نے پاکستان کی کرکٹ کو تباہ کر دیا
کراچی(آئی این پی) سابق چیف سلیکٹر اور لیگ سپنرعبدالقادر نے کہا ہے کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے پاکستان کی کرکٹ کو تباہ کردیا ہے، مکی آرتھر کو جنوبی افریقا اور آسٹریلیا نے باہر نکالا، آرتھر نے ہر ٹیم کو تباہ وبرباد کیا ہے، کرکٹ کے اپنے اصول اور قواعد ہوتے ہیں، کرکٹ کو کرکٹرز چلائیں تو اچھی بات ہے، ہرجگہ نان کرکٹرز ہونگے تو کرکٹ کیسے صحیح ہوگی۔ان کا مزید کہناتھا کہ یونس ، آفریدی اور مصباح کو ابھی بھی ٹیم کا حصہ ہوناچاہیے تھا ، قومی سلیکشن کمیٹی میں انضمام الحق کا ون مین شو نظر آتا ہے ، ٹیسٹ سکواڈ میں کوچ مکی آرتھر کی پسند نا پسند نظر آتی ہے،تین ٹیسٹ میچز کیلئے چار اوپنرز کی شمولیت کہاں کی عقلمندی ہے ، ماضی میں آرتھر نے پاکستان ٹیم پر فکسنگ کا الزام لگایا ، اگر پاکستان ٹیم جوا کھیلتی ہے تو مکی آرتھر کوچ کیوں بنے۔یہ حال رہاتو ہماری کرکٹ کا جنازہ ہی نکل جائیگا۔کرکٹ کے اپنے اصول اور قواعد ہوتے ہیں، کرکٹ کو کرکٹرز چلائیں تو اچھی بات ہے، جگہ نان کرکٹرز ہونگے تو کرکٹ کیسے صحیح ہوگی۔


















