چیف جسٹس کا از خود نوٹس پولیس نے بڑا دعویٰ کر دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ کےقتل کا از خود نوٹس لے لیا۔28 جنوری کو کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو رشتہ نہ دینے پر مجاہد اللہ آفریدی نامی شخص نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس سے لڑکی جاں بحق ہوگئی۔ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق عاصمہ کے قتل میں نامزد ملزم صدیق آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے جو مرکزی ملزم مجاہد گل آفریدی کا بھائی ہے جب کہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جارہا ہے۔چیف جسٹس نے مردان میں 4 سالہ بچی عاصمہ کے قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اس واقعے کا نوٹس لیا۔اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے پی ٹی آئی کے رہنما کا عزیز ملوث ہے؟ وہ لڑکا کس طرح ملک سے بھاگ گیا؟چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی خبیر پختونخوا صلاح الدین محسود سے 24گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

نیب ریفرنسز ، ایک اور فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: ویب ڈیسک) شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف ایک بار پھر احتساب عدالت میں پیش ہوگئے، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی ہمراہ ہیں۔ احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر ایون فیلڈ پراپرٹیز کے ضمنی ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ وکیل خواجہ حارث نے ایون فیلڈ پراپرٹیز کے ضمنی ریفرنس پر اعتراض اٹھایا اور کہا ضمنی ریفرنس میں کوئی نئی بات شامل نہیں، عبوری ریفرنس جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں دائر ہوا، ضمنی ریفرنس باہمی قانونی مشاورت کے جواب کے نتیجے میں دائر ہونا تھا، نیب نے خود بھی کہا کے نئے اثاثے یا شواہد ملنے پر ضمنی ریفرنس دائر کیا جائے گا۔وکیل نواز شریف خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک عام الزام کی بنیاد پر ایک بار پھر یہ ریفرنس دائر کیا گیا، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر ایک اور ریفرنس دائر کر دیا گیا، ضمنی ریفرنس نہ تو سپریم کورٹ کی روشنی میں دائر کیا گیا اور نہ ہی کوئی نئے اثاثے سامنے آئے ہیں۔نیب ٹیم نے کہا کہ ضمنی ریفرنس میں کوئی نیا چارج نہیں، یہ گزشتہ ریفرنسز کو سپورٹ کرتا ہے۔

سینٹ الیکشن کیلئے سیاسی قلابازیاں ،ریٹ لگنا شروع

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینیٹ کے انتخابات 3مارچ کو ہوں گے جس کے لیے الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق سینیٹ انتخابات کے لیے پولنگ 3مارچ کو ہوگی، کاغذات نامزدگی 4فروری سے 6فروری تک جمع کرائے جاسکیں گے جب کہ کاغذات کی جانچ پڑتال 9 فروری تک مکمل کی جائے گی جب کہ امیدواروں کی فہرست 15فروری کو جاری کردی جائے گی۔ سینیٹ انتخابات کے لئے پولنگ 3 مارچ کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ اور پنجاب سے 12،12سینیٹرز، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 11،11سینیٹرز کا انتخاب کیا جائے گا۔ اسلام آباد سے ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ کی نشست پر انتخاب ہوگا جب کہ سندھ اور پنجاب سے7جنرل، 2 ٹیکنوکریٹس، 2خواتین اور ایک اقلیتی رکن کا انتخاب ہوگا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق فاٹا سے 4نشستوں پر انتخاب ہوگا اور چاروں جنرل نشستیں ہیں۔یاد رہے کہ 11 مارچ کو 104میں سے سینیٹ کے 52ممبران ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جن میں پنجاب اور سندھ سے 12،12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے 11،11سینیٹرز ریٹائر ہورہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے 26 ممبران میں سے 18سینیٹرز، مسلم لیگ(ن) کے 27میں سے 9سینیٹرز ریٹائر ہورہے ہیں۔ اسلام آباد سے 2اور فاٹا سے بھی 4سینیٹرز ریٹائر ہوجائیں گے جب کہ جے یوآئی(ف) کے 5میں 3 سینیٹرز ریٹائر ہو جائیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے 6 میں سے 5سینیٹرز اور تحریک انصاف کا 7میں سے ایک سینیٹر ریٹائر ہوگا جب کہ مسلم لیگ (ق) کے تمام 4 سینیٹرز ریٹائر ہو جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیوایم کے طاہر مشہدی، نسرین جلیل اور فروغ نسیم بھی ریٹائر ہونے والوں میں شامل ہیں جب کہ اسحاق ڈار، نزہت صادق، کامران مائیکل، ذوالفقارکھوسہ اور نثارمیمن بھی ریٹائر ہوجائیں گے۔

قصور کی 3اور کمسن بچیوں کا قاتل اب تک قانون کی گرفت سے دور ،چینل ۵کے پروگرام میں بھانڈا پھوٹ گیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیاشاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیاشاہد نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک شاید دنیا کے پہلے حکمران ہیں جو اقتدار میں ہونے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ ”میں نے ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔ اب عاصمہ (بچی) قتل کیس میں کچھ نہیں کرسکتا۔ پہلے مجھے لگا کہ یہ خبر ہی درست نہیں لیکن پرویز خٹک کی طرف سے کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔ کل میرا تمام دن ہی سپریم کورٹ میں گزرا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود والے معاملے پر عدالت نے ہمیں بلایا تھا یعنی زینب کیس کے سلسلے میں چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے کہا تھا کہ اس کیس میں معاونت کیلئے میں جرنلزم کے بھی بڑے لوگوں کو بلواﺅں گا۔ اس وجہ سے میں بھی عدالت میں صبح 10 بجے سے 3 بجے تک رہا۔ کے پی کے حکومت نے عاصمہ کیس پر کہا ہے کہ ہم لاتعلق ہیں ہم اس پر کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ بچی کا قتل کیس ہے اس میں زیادتی بھی ہوئی ہے۔ کوئی حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پنجاب حکومت کی طرف سے شہبازشریف نے کہا تھا کہ ہماری خدمات حاضر ہیں کیونکہ ایشیا کی بہترین فرانزک لیبارٹری لاہور میں موجود ہے۔ خبر یہ ہے کہ کے پی کے حکومت نے ڈی این اے کے کچھ نمونے لاہور بھیجے بھی ہیں۔ واقعہ میں تقریباً گیارہ سو ٹیسٹ کروائے گئے ہیں اگر کے پی کے حکومت بھی اس طرح تحقیقات کرے تو ملزمان گرفتار ہوسکیں گے۔ الیکشن میں فتح کس کو حاصل ہوگی اس کا اندازہ قبل از وقت کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے آکر کہا کہ اگلا دور بھی ہمارا ہوگا۔ تو ان کے پاس کوئی حربہ ہوگا جس سے وہ الیکشن میں فتح یاب ہوسکتے ہیں۔ اس کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ریگنگ ‘ اثرورسوخ کا استعمال‘ پیسے کا استعمال یہ سارے ذرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن فری اینڈ فیئرالیکشن میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ فتح کس کی ہوگی۔ 1970ءمیں بھٹو کے الیکشن کے وقت لوگ ان کی گاڑیوں میں نکلتے تھے‘ چاول بھی ان کے کھاتے تھے لیکن جب نتیجہ آیا تو اس کے برخلاف تھا۔ اس وقت یحییٰ خان حکمران تھے۔ فوج کوئی سیاسی پارٹی نہیں تھی نہ اس نے اس میں حصہ لینا تھا۔ انہوں نے کوئی مداخلت نہیں کی اور لوگوں نے دھڑا دھڑ ووٹ دیئے۔ میاں نوازشریف کے بارے عدالتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ موجودہ حالات کے مطابق جس میں میاں نوازشریف کا لہجہ بھی تلخ سے تلخ ہوتا جارہا ہے۔ ایک شہری نے عدالت میں میاں نوازشریف کے عدلیہ مخالف بیانات پر ایک پٹیشن دائر کی ہے۔ میاں نوازشریف نے ایک جلسے کے دوران کہا مجھے 5 ججوں نے نکالا اسی طرح مریم نواز کا بیان ہے کہ عدالت نے عمران خان کو کہا کہ تم سے کچھ نہیں ہوسکتا درخواست جمع کرواﺅ ہم نوازشریف کو نکالتے ہیں۔ الزام لگانا تو آسان ہوتا ہے لیکن اسے ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ نوازشریف کی نااہلی ایک سال کیلئے تھی‘ 5 سال کیلئے تھی یا تاحیات تھی۔ لگتا ہے اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ہوسکتا ہے کہ نوازشریف کی نااہلی ختم ہوجائے لیکن اس کے چانسز کم نظر آتے ہیں۔ عدالتی فیصلے سے قبل کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ قانون بن جائے گا۔ اگر عدالت نے تاحیات نااہلی کا فیصلہ کیا تو وہ سیاست سے آﺅٹ ہوجائیںگے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ وزیراعظم شہبازشریف ہوں گے اس کا مطلب ہے کہ انہیں بھی یقین ہو چلا ہے۔ نوازشریف کیس میں‘ جے آئی ٹی نے جو کچھ بھی شواہد اور ثبوت اپنی طرف سے پیش کئے اور انہیں درست ثابت کیا۔ اس سے منی ٹریل سب سے بڑا ایشو تھا‘ جس کے سلسلے میں قطری خط سامنے آیا تھا۔ نہ تو قطری خط دینے والے شخص یہاں آئے نہ ہی اس خط پر تحقیقات سامنے آئیں۔ موجودہ عدالتی فیصلے میں موجود جج صاحبان کی موجودگی میں ممکن نہیں کہ وہ نااہل کو اب اہل قرار دے دیں۔ مشرف نے این آر او اس لئے کیا کہ آئین سے تجاوز ہوکر ان کے پاس اختیارات موجود تھے۔ وہ مارشل لا کی بنیاد پر آئے ہوئے تھے وہ سول منتخب صدر نہیں تھے۔ اس قسم کا این آر او نہ تو تاریخ میں پہلے آیا نہ ہی شاید آئے گا۔ اب وہ شخص خود باہر بیٹھ کر کہہ رہا ہے کہ یہ میری بڑی غلطی تھی۔ پنجاب کے وزیر قانون سے زیادہ طاقتور تو کوئی وزیر نہیں ہوسکتا ان کے پاس پولیس‘ سپیشل برانچ‘ انٹیلی جنس بیورو بھی ان کے پاس ہیں۔ فوج کے دو ادارے آئی ایس آئی ‘ ایم آئی ہیں۔ فوج کے لوگ ہی اس کے سربراہ ہوتے ہیں اس لئے اسے فوجی ادارہ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے دو بڑے شعبہ جات ہیں جو بیرون ملک اور اندرون ملک کام کرتے ہیں۔ ہماری ایجنسی آئی ایس آئی کی ریٹنگ بہت ہائی ہے۔ دنیا کی دیگر ایجنسیوں کے ساتھ ان کا موازنہ کیا جاسکتا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو یہ کریڈٹ نہیں لینا چاہئے کیونکہ یہاں فرانزک لیبارٹری تو میں نے بنوائی تھی۔ لیکن یہ بات ثابت ہے کہ شہبازشریف کی محنت اور فرانزک لیبارٹری کی جانچ کی وجہ سے عمران علی پکڑا بھی گیا۔ پنجاب کے وزیرقانون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے ذریعے تفتیش کا رخ بدلہ جارہا ہے سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک اینکر پروگرام کرکے صوبائی حکومت کے نظام کو درہم برہم کرسکتا ہے؟ زینب کے ڈی این اے سے ثابت ہوگیا ہے کہ عمران علی ہی ایک ملزم ہے لیکن اس سلسلے میں پولیس مقابلے میں مارا جانے والا مدثر تو بے گناہ ہی مارا گیا۔ میرے اندازے کے مطابق ڈاکٹر شاہد کا یہ کہنا کہ اکیلا ملزم عمران علی ہی اس کیس میں ملوث نہیں ہے بلکہ دیگر ملزمان بھی ہیں یہ درست ہے۔ ایک نجی ٹی وی نے یہ خبر چلائی کہ عمران علی کے پچاس اکاﺅنٹ کی دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں میں نے فون کرکے پوچھا کہ اس نجی ٹی وی کا کوئی بیورو چیف میں موجود ہوگا پوچھ کر بتائیں کہ یہ درست ہے؟ انہوں نے بتایا کہ خبر ضرور چلی تھی لیکن بعد میں اس چینل نے اس کی تردید بھی چلا دی۔ ایک اور نجی ٹی وی ”بول“ نے بار بار یہ کہا کہ ملزم عمران کے 120 اکاﺅنٹ تھے۔ وزیر قانون پنجاب نے دونوں نجی ٹی وی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔ میں نے ڈاکٹر شاہد سے کہا کہ اگر غلط خبر ہوگئی ہے تو آپ تسلیم کرلیں انہوں نے کہہ دیا کہ اگر میری خبر غلط ہو تو مجھے پھانسی دیدی جائے۔ چیف جسٹس صاحب نے جذبات میں آکر شاہد مسعود سے کہا کہ اگر آپ کی خبر جے آئی ٹی میں سچ ثابت ہوئی تو آپ کو سرٹیفکیٹ دوں گا۔ ورنہ آپ کو وہ سزا دونگا کہ قانون میں بھی نہیں ہوگی۔ بس انہوں نے کہہ دیا۔ ڈان اخبار کی خبر پر سرل المیڈا پر خوب شور شرابا مچا تھا۔ اس کے بارے آخر میں حکومت اور فوج دونوں نے کہہ دیا کہ خبر غلط تھی۔ کیا ڈان نے یہ نہیں کہا کہ شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے نکلے ہیں۔ شرجیل میمن نے دبئی سے کہا کہ لیگل نوٹس بھجوا دیا ہے فوراً۔ ڈان نے اس کی تردید چلا دی۔ انہوںنے چیف رپورٹر شاہد غزال کو فائیرکردیا۔ میں سنی سنائی بات پر یقین نہیں کرتا۔ خبر آنے کے بعد چھ مرتبہ اسے چیک کرتا ہوں کہ کہیں یہ غلط نہ ہو۔ پھر بھی غلط خبر چھپ جائے تو قانون کے مطابق فوراً وضاحت چھاپ دینی چاہئے۔ لیکن یہ بات کہ ڈاکٹر شاہد کے پاس کونسے کاغذات تھے۔ جس پر عدالت نے بھی بات نہیں کی اور نہ ہی کسی اور نے اس کا تذکرہ کیا اس پر ہم کل بات کریں گے۔ نمائندہ خبریں مردان محمد یعقوب نے کہا ہے کہ عاصمہ قتل کیس پر صوبائی حکومت کے پی کے پر بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک عاصمہ کے گھر تقریباً چار پانچ روز کے بعد تشریف لائے تھے۔ علاقے کے جرگہ نے ان سے درخواست کی تھی کہ عاصمہ کے لواحقین کی مالی امداد کی جائے وزیراعلیٰ آئے لیکن کوئی مالی امداد کا اعلان نہ کیا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس کی تفتیش درست ہے۔ وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ میں پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ کل بھی پولیس نے ایک اور واقعہ میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا تھا لیکن عاصمہ کیس کا ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکا۔ صوبے میں ہونے والے پے درپے واقعات نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو پریشان کررکھا ہے۔نمائندہ خبریں جاوید ملک نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد کا یہ مو¿قف کے ملزم عمران کے 37 اکاﺅنٹس ہیں یہ تو حقیقت پر مبنی نہیں ہیں لیکن باقی حقائق جیسے عمران علی مین ملزم ہے۔ بچی کے والد نے الزام لگایا تھا کہ ایک سے زائد ملزمان اس میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر شاہد کے پروگرام کے بعد اس کیس میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی لیکن سپریم کورٹ اور ادارے اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہے کہ 11 اور بچیوں کے کیس کہاں ہیں۔ زینب تو ایک ماڈل بن گئی ہے۔

جیلوں کے اندر بھی بچوں سے شرمناک گھناﺅ نے فعل کا انکشاف

لاہور(خصوصی رپورٹ)ضلع کچہری لاہور کی عدالت نے بچوں کی فحش ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کرنے اور چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث ملزم کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے ملزم تیمور مقصود کو گرفتار کر کے عدالت پیش کیا۔ دوسری جانب ملک بھر میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور ان کی نازیبا ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے والوں کیخلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کی خصوصی ٹیم نے ملزموں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ۔ملزم تیمور کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ،کراچی اور پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث ملزموں کے خلاف 2,2مقدمات درج کرلئے گئے ہیں، دو رکنی ٹیم بچوں سے زیادتی اور ویڈیو بنا کر بیچنے والے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کیلئے تشکیل دی گئی ہے۔ پاکستانی بچوں کی عریاں تصاویر اور فلمیں انٹرنیٹ پر بھی فروخت ہو رہی ہیں، ٹیم کے ارکان ان افراد کی تلاش بھی کر رہے ہیں جو اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں،اب تک جتنے بھی افراد گرفتار کیے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر پڑھے لکھے اور پروفیشنل ڈگری ہولڈرز ہیں۔ قصور میں پیروالا روڈ کے رہائشی بابا شبیر ملنگ نے زینب کیس کے حوالے سے ڈی این اے ہونے پر پنکھے کے ساتھ لٹک کر خودکشی کر لی۔ زینب قتل کیس میں 1150 افراد کا ڈی این اے کرایا گیا تھا جس میں پیروالا روڈ کا رہائشی 40 سالہ بابا شبیر ملنگ کا بھی شامل تھا۔بابا شبیر تعویذ دھاگے کا کام کرتا تھا اس نے گلے میں پھندا ڈال کر پنکھے سے لٹک کر خودکشی کی بابا شبیر کو زینب قتل کیس میں دس روز حراست میں رکھا گیا تھا۔ ہری پور میں 14 سالہ لڑکے سے زیادتی کے الزام میں پولیس اہلکار کو 4 ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ڈی پی او ہری پور نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ملزموں کی گرفتاری 36 گھنٹوں میں عمل میں لائی گئی، دینہ میں 15سالہ لڑکے کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا گیا، ساہیوال کے نواحی گاﺅں 86/9-L کے جاوید مسیح کا10 سالہ بیٹا دائم پرائمری سکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں شان بچے کو بہلا پھسلا کر گھر لے گیا جہاں بچے کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جڑانوالہ تھانہ صدر کے علاقہ 125گ ب کے عبدالرزاق نے پولیس کو بتایا کہ چند ماہ قبل اس کے بھانجے رﺅف کو عاقب نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ بعد ازاں اس کی وڈیو فلم بنا کر اسے انٹرنیٹ پر ڈالنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ پاکپتن کے کشمیر چوک بہاولنگر میں عالیہ بی بی بس کے انتظار میں کھڑی تھی کہ عبیداللہ وغیرہ 2 افراد آئے اور خاتون کو بہاولنگر چھوڑنے کے بہانے نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں پر ملزم عبیداللہ نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ جڑانوالہ کے علاقہ سلطان پارک میں چھٹی جماعت کی طالبہ ماہ نور کو شیمپو بیچنے والے نے ورغلا کر اغوا کرلیا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرکے ملزم کو گرفتار کر کے مغویہ طالبہ کا بازیاب کرکے ورثا کے حوالے کردیا۔ کوئٹہ میں کلی اسماعیل کے علاقے میں کمسن طیبہ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں اس کے اپنے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا جس نے اقبال جرم کرلیا، ڈی آئی جی کوئٹہ نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا بھی اعلان کیا ہے۔ کلی اسماعیل میں اتوار کو 13 سالہ طیبہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی کے ساتھ قتل کردیا گیا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم کامران کے موبائل ریکارڈ سے حاصل کی جانے والی گفتگو کے بعد اسے گرفتار کیا گیا 13سالہ بچی نیم بے ہوشی کی حالت میں کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، امدادی ادارے نے بچی کو فورا سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا تھا تاہم بچی اسپتال پہنچتے ہی جاں بحق ہوگئی تھی۔ ڈاکٹرنے معصوم طیبہ کے ساتھ زیادتی اور تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی رپورٹ پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آئے گی۔ بچی کے بھائی کامران کے مطابق وہ آدھے گھنٹے کے لیے گھر سے باہر گیا اور واپس آیا تو اس کی بہن گھر سے غائب تھی۔ گکھڑ منڈی میں 9 سالہ بچے احمد رضا سے زیادتی کی کوشش کرنے والاسرفراز بچے کے شور مچانے پر فرار ہوگیا۔ بعد ازاں ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ کوٹ رادھا کشن کے نواحی گاﺅں بھگیل سنگھ میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ملزم شہباز کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ بچی کے ورثا نے پولیس ملازمین کیخلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ بھوئے آصل میں لڑکی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالے ملزم شہباز کیخلاف مقدمہ درج لڑکی کے ورثا نے گاﺅں میں سینکڑوں افراد کے ساتھ احتجاج کیا،پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے پولیس اور مقامی ایم این اے پر الزام لگایا کہ پولیس نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ملزم کو سیاسی اثر ورسوخ کے باعث بچانے کی کوشش کرنے والے ملازمین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی لیکن پولیس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اس سلسلے میں مقامی ایس ایچ او و ڈی ایس پی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ محکمانہ طور پر پولیس ملازمین کو معطل کرنے کے بعد ان کے خلاف انکوائری ہورہی ہے۔ مردان سے نا مہ نگار کے مطابق کاٹلنگ بچی زیادتی کیس کے مبینہ ملزم کو پانچ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کردیاگیاواقعے کی تفتیش کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ۔میڈیکل رپورٹ میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ڈی پی او کی پریس کانفرنس میں متاثرہ بچی روبینہ کو بھی پیش کیاگیا باپ محمد گل نے بیٹی کی حالت دیکھ کر جذبات پر قابو نہ پاسکے بار بار آنسو پھونچتارہا زیادتی کی نشانہ بننے والی کم سن بچی روبینہ کے والد محمد گل نے کہاکہ بس چلتا تو ملزم کو اپنے ہاتھ سے سزاد یتا ، غریب ہوں ملزم پھانسی پر لٹکتا دیکھنا چاہتاہوں ۔ 8سالہ روبینہ سے زیادتی کرنے والے ملزم نواب کے بارے میں معلوم ہواہے کہ اس نے محض ایک ماہ قبل دوسری شادی ر چائی ہے درندہ خود پانچ بیٹیوں کا باپ ہے وقوعہ سے دوہفتے قبل عمرہ سے واپس آیاہواہے ملزم متاثرہ بچی کا پڑوسی اور علاقے کا بااثر زمیندار ہے۔دریں اثنا زینب قتل کیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے پنجاب کی6 جیلوں میں بچوں سے زیادتی میں ملوث 3800 سے زائد افراد موجود ہیں، یہ بھی انکشاف ہوا کمزور عدالتی نظام ان ملزموں کی سزاﺅں میں رکاوٹ بن بیٹھا ہے، جس کی وجہ سے متعدد کیسز کا فیصلہ 9سال بعد بھی نہیں ہو سکا اور کیسز تاحال زیر سماعت ہیں جبکہ ملزم جیلوں میں موجود ہیں۔ جے آئی ٹی کی جانب سے ان مقدمات میں ملوث تمام افراد کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ان میں ایسے ملزم بھی شامل ہیں جو ایک سے زائد مرتبہ اسی جرم میں ملوث ہیں۔ اس حوالے سے رپورٹ کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ رپورٹ میں ملوث ملزموں کے مقدمات کا اندراج، ولدیت، گھر کا ایڈریس، کس تھانے میں کب مقدمہ ہوا و دیگر معلومات موجود ہیں۔ معلوم ہوا ہے زنیب قتل کیس میں جے آئی ٹی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب میں بچوں سے زیادتی کے کیسز میں ملوث افراد کی مجموعی تعداد3865 ہے ان میں سے592افراد سنٹرل جیل لاہور موجود ہیں 421 سنٹرل جیل ساہیوال ،287 ڈسٹرکٹ جیل اوکاڑہ ، 580 ڈسٹرکٹ جیل قصور 394 ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ، جبکہ 1591 افراد کیمپ جیل لاہور میں موجود ہیں ان افراد کیخلاف بچوں سے زیادتی کیساتھ بچوں کے اغوا کے مقدمات بھی درج ہیں ان میں ایسے ملزموں کی بڑی تعداد موجود ہے جو 9نو برسوں سے جیلوں میں موجود ہیں اور ان کو سزائیں نہیں ہو ئیں اتنی بڑی تعداد میں ایسے درندوں کی موجودگی کسی خطرے سے کم نہیں۔ یاد رہے گذشتہ دنوں زنیب قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے ارکان نے جیلوں میں موجود اسے افراد کا ریکارڈاکٹھا کرنے کی کوشش کی تھی جو بچوں سے زیادتی کے کیسوں میں ملوث ہوںاور اس تمام افراد کے ریکارڈ کے حصول کے لئے تاحال جے آئی ٹی کی کوششیں جاری ہیں ۔علاوہ ازیں مقتولہ زینب کے اہلخانہ سمیت دیگر8 متاثرہ خاندانوں نے ملزم عمران سے ملاقات کی۔ نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات جے آئی ٹی ممبران کی موجودگی میں سی ٹی ڈی سنٹر چوہنگ میں ہوئی۔ متاثرہ خاندانوں نے ملزم عمران سے مختلف سوالات کئے۔ زینب کے والد امین انصاری نے بھی ملزم سے مختلف سوالات کئے۔ متاثرہ خاندان ملزم عمران کو دیکھ کر آبدیدہ ہوئے اور اسے کوستے رہے۔

مبارکباد پاکستانی سپریم کورٹ نے100سال پرانے کیس کا فیصلہ سنادیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے 100 سالہ پرانے مقدمے کا فیصلہ سنادیا اور حکم دیا ہے کہ 5600 کنال اراضی شریعت کے مطابق ورثا میں تقسیم کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کسی کو بھی شرعی وراثتی حصے سے محروم نہیں کر رہی اور شریعت کے مطابق وراثت تقسیم کرنے کا حکم دیدیا۔ یادرہے کہ تقسیم پاکستان سے قبل شہاب الدین کی ملکیتی زمین کا تنازعہ عدالتوں میں پہنچا اورقیام پاکستان کے بعد ملکی عدالتوں میں بھی کیس چلتا رہا۔خیرپور ٹامیوالی میں 5600 کنال اراضی کا کیس 1918 سے شروع ہوااور ٹرائل کورٹس سے معاملہ 2005 میں سپریم کورٹ آیاجہاں منگل کو 100 سال کے پرانے مقدمے کا فیصلہ آگیا۔

بچوں ،بچیوں سے زیادتی ،ہاتھ پاﺅں کاٹنے ،کھال اُتارنے کے لائیو مناظر، الگ الگ ریٹس ،کونسی ویب سائٹس ہیں ۔۔۔ دیکھئے سنسنی خیز خبر

لاہور (کرائم رپورٹر) دنیا بھر میں فحش فلموں کو ”پورن انڈسٹری“ کا نام دیا گیا ہے اور یہ دنیا بھر میں نہ صرف وسیع ترین صنعت بن چکی ہے بلکہ دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں اس کا صارف موجود نہ ہو، ابھی چند سال قبل ہی گوگل نامی سرچ انجن نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان دنیا میں پورن ویب سائٹس دیکھنے والا نمبر ایک ملک ہے جس کے بعد پاکستان میں پی ٹی اے نے کاروائی کرتے ہوئے 18 ہزار کے لگ بھگ ویب سائٹس کو بلاک کر دیا جس کے بعد پاکستان کو اس بدنام رینکنگ سے نکلنے میں مدد مل سکی۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی عوام نے اپنی بدنامی دھونے کی ہرگز کوشش نہیں کی بلکہ پاکستان کی حکومت نے عالمی سطح پر ہونے والی بدنامی کو کم کرنے کے لئے ایسے اقدامات کئے مگر یہ ویب سائٹس ابھی بھی مکمل طور پر بند نہیں ہو سکی ہیں، آئی فون اور اینڈرائیڈ موبائل فونز پر موجود براﺅزرز اب بھی ان ویب سائٹس کو پاکستان میں چلا رہے ہیں اور بغیر کسی ہاٹ سپاٹ کے یہ ویب سائٹس پراکسی فری ویب سائٹس کی مدد سے چل رہی ہیں۔

ایک ساتھ 3چاند ،سپر بلڈ مون ،152سال بعد دنیا پھر سے نظارہ کرنے کو بے تاب

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) کل بدھ کی رات کو 152 سال بعد دنیا کے ا±فق پر ایک ساتھ تین فلکی مظاہر نمودار ہوں گے۔ یہ انوکھے مناظر چاند گرہن، چاند کا زمین سے کم ترین فاصلے پر آنا، چاند کا نیلا اور پھر سرخ ہونا ہو گا۔ ماہرین اسے ‘سپر بلیو بلڈ مون’ یعنی بڑا نیلگون اور خونی چاندکا نام دے رہے ہیں۔یہ منظر 31جنوری کی رات کو دیکھا جائے اور مغربی نصف کرہ زمین پر رہنے والے اس کا نظارہ زیادہ بہتر طور پر کر سکیں گے۔ آخری مرتبہ اس نوعیت کا منظر دنیا میں بسنے والوں نے 1866ءمیں دیکھا تھا۔سپر بلو بلڈ مون’ یا عظیم نیلگون خ±ونی چاند دراصل نیلے چاند کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ نیلگوں چاند تو اس مہینے میں دوسری مرتبہ طلوع ہو گا لیکن گرہن کی وجہ سے چاند پر پڑنے والا زمین کا عکس سرخ رنگ کا نظر آئے گا اور اسی وجہ سے اسے بلڈ یا خونی چاند بھی کہا جاتا ہے۔ زمین اور چاند کا فاصلہ 7 فیصد کم ہونے کی وجہ سے چاند معمول سے 14 فیصد زیادہ روشن ہو گا اور یہ معمول سے بڑا نظر آئے گا۔امریکا میں بسنے والے اس نیلگون خونی چاند کا نظارہ بدھ کو علی الصبح طلوع آفتاب سے پہلے کر سکیں گے۔جو لوگوں اس چاند کا مشاہدہ مشرق وسطی، ایشیا، مشرقی روس، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے کرنا چاہیں گے انھیں بھی جلدی اٹھنا پڑے گا اور یہ اکتیس جنوری کی صبح نظر آئے گا۔امریکا میں اس رات کو اگر فضا ابر آلود نہ ہوئی اور آسمان صاف ہوا تو چاند گرھن صبح مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 51 منٹ پر شروع ہو گا اور 6 بج کر پانچ منٹ تک جاری رہے گا۔ دنیا کے مشرقی حصوں میں اس کا مشاہدہ کرنا ذرا مشکل ہو گا اور گرہن مشرقی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 51 منٹ پر شروع ہو گا۔ گرہن ایک گھنٹے تک جاری رہے گا۔ناسا کا کہنا ہے کہ گرہن کی وجہ سے ماہرین اس بات کا مشاہدہ بھی کر سکیں گے جب چاند کی سطح تیزی سے ٹھنڈی ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔چاند کو تاریکی میں دیکھنے سے اس کے خدوخال مزید واضح ہو جائیں گے اور چاند کے وہ حصے جو عام طور پر دیکھے نہیں جا سکتے وہ قدرے واضح نظر آئیں گے کیونکہ چاند کی گھاٹیوں کے ارد گرد چٹانیں چمکتی ہوئی دکھائی دیں گی۔

پنجاب پولیس کے 40سے زائد اہلکار وں بارے شرمناک انکشافات ،سروے رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

لاہور(نامہ نگار )پنجاب پولیس کے افسروں سمیت ہزاروں اہلکار نشے اور موذی امراض میں مبتلا نکلے ۔ذرائع کے مطابق نجی ادارے کے سروے کے دوران تقریباً 2لاکھ 11ہزار 332 افسروں سمیت پولیس اہلکاروں کو سروے میں شامل کیا گیا ، جس میں تقریباً40 ہزار ملازمین سرعام سیگریٹ نوشی ، چرس ، شراب پینے سمیت ٹاﺅٹ خواتین کے ذریعے لڑکیوں اور معمولی جرم میں گرفتار غریب خواتین سے زنا ، قیدی بچوں سے بدفعلی ، توہین عدالت ، مقدمات میں اشتہاری ، مختلف گروہوں کی سرپرستی کے الزامات میں مانیٹرنگ اینالسٹ ،میڈیا ری لیٹنگ منیجر،سی ٹی ڈی ،پنجاب پولیس ، ٹریفک وارڈنز، ڈولفن فورسز، کنٹریکٹ ملازمین اور ایلیٹ فورس سمیت دیگر شعبہ جات کے ملازمین سرفہرست ہیں۔تقریباً50ہزارملازمین میڈیکل سہولیات کے فقدان کی وجہ سے شوگر، بلڈپریشر ،ایڈز،یرقان سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔تقریباً 1 لاکھ ملازمین صحت مند ، ایماندار، نمازی اور ٹیکس سمیت تمام درست قانونی ریکارڈ کے حامل ہیں۔تقریباً 22ہزار332ملازمین سیاسی سفارشوںکی بناءپر غیر حاضر اور محکمہ ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔

اسقاط حمل ،شادی کے بعد عورت مرد تعلقات ،ھم جنس پرستی کا فروغ ،شیطانی تنظیم کے گھناﺅنے اقدامات

ڈکار (ویب ڈیسک ) افریقی ملک سینیگال میں عوامی دباﺅ نے عالمی تنظیم فری میسن کے عزائم کو ذلت آمیز ناکامی سے دو چار کر دیا۔ گزشتہ ایک ماہ سے جاری عوامی احتجاج کے آگے بے بس ہو کر حکومت نے فری میسن کے سالانہ اجلاس کو منعقد کرنے سے روک دیا ہے۔ فری میسن کے اجلاس کے انعقاد کے مقامی آرگنائز ادارے نے فری میسن کی اعلی قیادت کو جلاس کی میزبانی سے معذرت کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ سینیگال اب فری میسن کی سرگومیوں کے لئے مناسب نہیں رہا۔ عالمی تنظیم کے خلاف عوامی سطح پر نفرت بڑھ گئی ہے جس کا اظہار رواں ماہ پیبلک اداروں، تنظیموں اور عوامی حلقوں نے کر دیا ہے۔ رواں ماہ جنوری 2018ءکے آخری عشرے میں ڈاکار میں فیر میسن کا سالانہ اجلاس مقرر تھا جس میں دنیا بھر سے 600 فری میسن ممبران کی شرکت متوقع تھی جس میں فری میسن کے فرانس سے اہم ترین ذمہ داروں نے شرکت کرنی تھی۔ یہ اجلاس پورے افریق میں ہونے والا سب سے بڑا اجلاس تھا جس کے لئے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار کے لگژری ہوٹل فہد میں انتظامات کئے گئے تھے۔ فری میسن کے سالانہ اجلاس سے متعلق میڈیا پر تشہیر نہیں کی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود اس کی اطلاعات عوامی حلقوں تک پہنچ گئی جس کے بعد عوامی سطح پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ڈاکار کے ہوٹل فہد کے مینیجر نے تقریب کی منسوخی کی تصدیق کر دی ہے۔ منیجر کے مطابق منسوخ ہو نیوالا اجلاس 26 واں اجلاس تھا۔انہوں نے بتایا کہ فری میسن کے اجلاس کے انعقاد کے خلاف سینیگال کی 60 اسلامک تنظیموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور عوامی حلقوں نے ایک ملک گیر مہم چلائی۔ ”اپنے اقدار کے بچاﺅ کیلئے ہم سب ایک ہیں“ کے عنوان سے ترتیب دی جانے والی مہم نے غیر متوقع اثرات مرتب کئے۔ اس سے قبل ماضی میں بھی فری میسن کے سالانہ اجلاسوں اور پروگراموں کی عوامی سطح پر مخالف کی جاتی رہی تا ہم اس حد تک کوئی مہم کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ 16 جنوری کو ڈاکار میں بہت بڑا مظاہرہ ہوا جس میں مظاہرین نے انتظامیہ پر دباﺅ ڈال کر اجلاس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔عوامی مظاہرین نے بتایا کہ فری میسن نے افریقی ممالک کی اقدار کو بری طرح سے نشانہ بنائے رکھا ہوا ہے۔ شادی کے بغیر مرد عورت تعلق، اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کی لعنت جیسی گھناﺅنی سرگومیوں کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اور ان شیطانی اعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ سینیگال کی پچانوے فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ملک میں اسلامک تنظیمیں کافی حد تک مضبوط ہیں۔ اسلامک تنظیم ”جمرہ“ کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ فری میسن نے سینیگال میں اسلامی تعلیمات کے خاتمے کے لئے گزشتہ کئی سالوں سے مہم چلا رکھی تھی جس میں اسے خاصی کامیابی ملنے لگی تھی۔ 1975ءمیں سینیگال میں ایسے قوانین رائج ہوئے تھے جس کے باعث ناجائز تعلقات کو خاصی آزادی دی گئی ہے۔ 2013ءمیں ملک میں فری میسن کے دباﺅ پر ہم جنس پرستوں کے درمیان شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ سینیگال میں فری میسن کے اجلاس کی منسوخی عالمی تنظیم کی جانب سے ابھی متبادل جگہ پر اجلاس کے انعقاد کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ سینیگال میں فری میسن کے اجلاس کی منسوخی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل سینیگال کے سابق صدر عبداللہ واد نے ایک اخباری بیان میں فری میسن سے اپنے تعلق کا اعتراف کیا ہے۔ سابق صدر نے دعوی کیا کہ وہ اب فری میسن سے اپنی رکنیت ختم کرا چکے ہیں اور تنظیم سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ سینیگال کا شمار ان افریقی ممالک میں ہے جو ماضی میں فرانس کے زیر استعمار رہے ہیں۔ فرانسیسی اثر و رسوخ سے ملک ابھی تک آزاد نہیں ہوا۔ مسلمان آبادی کی اکثریت کے باوجود ملک مین لادین اور الحادی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ سینیگال کی آبادی ڈیڑھ کروڑھ کے قریب ہے لیکن یہ ملک دیگر افریقی ممالک کی طرح غربت زدہ ہے۔ 1960ءمیں فرانس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد فری میسن اور فرانسیسی ادارے ملک میں غربت اور جہالت مٹانے کے دعوے کر رہے ہیں لیکن ملک میں غربت اور جہالت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے۔ سینیگال افریق کے ان ممالک میں ہے جہاں دینی مدارس کو غیر معمولی مقبولیت مل رہی ہے ملک میں واقع دینی مدارس میں 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں۔ مقامی ذرائع کا ماننا ہے کہ فری میسن کے خلاف حالیہ مہم کے پیچھے بھی حقیقی محرک دینی مدارس ہی ہیں۔ فری میسن کے ذیلی گروپوں نے سینیگال میں دینی مدارس کے خاتمے کے لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں لیکن دینی مدارس کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا ہے بلکہ رواں برس تو فری میسن کو منہ کی کھانی پڑ گئی۔

پو ر نو گرافی ،اجرتی قا تلوں کے لیے الگ سائٹس ،انکشاف نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

لاہور (نادر چوہدری سے) امریکی نیوی کی جانب سے ماضی میں تیار کیا گیا نظام جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں لگ کر ڈیپ ویب ڈارک ویب اور مریاناز ویب کی شکل اختیار کر گیا، انٹر نیٹ کی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کی آن لائن ادائیگی کے بعد کوئی بھی غیر انسانی اور غیر قانونی عمل باآسانی ممکن، انٹر نیٹ کے ان حصوں میں بینکوںاور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ڈیٹا،یڈ رومز کے نام سے پیچز پر ویڈیوز اوربراہ راست بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ،انسانوں کے جسم کے مختلف حصوںکو کاٹنے ، کھال اُتارنے ، اجرتی قاتل ،منشیات، اسلحہ اور دیگر غیر قانونی اشیاءفراہم کی جاتی ہیں، اونین کو بنانے والی امریکی حکومت سمیت دیگر ممالک اس کے جرائم پیشہ مافیا کے ہاتھوں استعمال کو ختم کر نے سے قاصر ، پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے بچوں کو اغواءکر کے پورنوگرافی کے واقعات کا انکشاف ،لاہورسمیت ملک کے مختلف حصوں سے ملنے والی تشدد زدہ بوری بند اور ندی نالوں سے ملنے والی ایسی لاشیں بھی مشکوک ہوگئیںجن کے ملزمان تک آج تک رسائی نہیں ہوسکی ،حساس اداروں کی جانب سے پورنوگرافی سمیت دیگر پہلوﺅ ں پر تحقیقات جاری ۔ ذرائع کے مطابق ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس کوورلڈوائڈ ویب، سرفس ویب ، اور لائٹ ویب کہا جاتا ہے۔ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا۔ پھر یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی۔انٹر نیٹ کی دنیا ورلڈ وائڈ ویب،ڈیپ ویب ،ڈارک ویب اور مریاناز ویب4حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے عام طور پر دنیا بھر کے عام شہریوں کی جانب سے استعمال کیئے جانے والا انٹر نیٹ کا ورلڈ وائڈ ویب کہلاتا ہے جو کہ WWWسے شروع ہوتا ہے اور ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیںاوراچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے انٹر نیٹ کا صرف 5سے 8فیصد ہے جبکہ باقی 92سے 95فیصد انٹر نیٹ تک عام انسانوں کی رسائی ممکن نہیں ۔ یہ باقی کا انٹر نیٹ ڈیپ ویب ،ڈارک ویب اور مریاناز ویب پر مشتمل ہے ۔ڈیپ ویب انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلا آپ کسی ٹیلی کام کمپنی کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے چنانچہ وہی ٹیلی کام کمپنی والے صرف اپنا ہی ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے اور عام انٹر نیٹ دنیا (ورلڈوائڈ ویب)پر ڈیٹا اس قدر محفوظ نہیں ہوتا اور ہر کسی کی پہنچ میں ہوتا ہے۔ ڈیپ ویب کے بعد باری آتی ہے ڈارک ویب کی جو کہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔ یہاں جانے کے لئے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے جس کو متعلقہ ویب پیچ پر ڈالنے سے متعلقہ ویڈیو یا براہ راست مناظر سامنے آجاتے ہیں۔ڈارک ویب پر ریڈ رومز کے نام سے مختلف پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں انٹر نیٹ کی کرپٹو کرنسی(بٹ کوائن)کی ادائیگی کے بعد جاتے ہیں اوروہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے ، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اورکرائے کا قاتل ، کرائے کا ہیکر اور دیگر جرائم پیشہ افراد باآسانی مل جاتے ہےں کیونکہ ہر مافیا کی دنیا کے ہر ملک میں جڑیں موجود ہیں۔ان میں سے چن ایک ڈارک رومز میں باقائدہ اجرتی قاتلوں کی فراہمی کے حوالے سے ریٹ لسٹیںلگی ہوتی ہیں کہ کس سطح کے آدمی کے قتل کی کتنی اجرت ہے مثلا صحافی قتل کرنے کے کتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے کتنے پیسے، اور گریڈ ز کے حساب سے افسران کے قتل کی قیمتیں وغیرہ۔اسی قسم کی ایک ویب سائٹ( سلک روڈ) کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے شب و روز محنتوں کے بعد بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا۔ Marianas web مریاناز ویب انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا اور محفوظ ترین سمجھا جانے والا حصہ ہے جس میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر دجالی قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے جو کہ عام طور پر ملنا بالکل ناممکن ہے۔

 

مجھے کیوں بلایا“ علیم خان کی پھر پیشی

لاہور (خصوصی رپورٹ) تحر ےک انصاف سنٹر ل پنجاب کے صدر عبد العلےم خان کی آف شور کمپنی کے معاملے پر نےب مےں پےشی جبکہ ان سے2گھنٹے سے زائد تک پوچھ کچھ کی گئی ‘دوبارہ بھی بلائے جانے کا امکان جبکہ عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ انہیں نیب نے جس کمپنی کی تحقیقات کیلئے بلایا وہ پہلے بھی 4 نیوز کانفرنسز کے دوران اس کے بارے میں عوام کو آگاہ کرچکے ہیں۔تفصےلات کے مطابق تحر ےک انصاف سنٹر ل پنجاب کے صدر عبدالعلےم خان نےب لاہور مےں پےش ہوئے جہاں ان سے انکی بےرون ملک موجود آف شور کمپنی کے حوالے سے پوچھ کچھ کی گئی جبکہ نےب مےں پےشی کے بعد میڈےا سے گفتگو مےں عبدالعلیم خان نے کہا کہ ان کی جس آف شور کمپنی کی تحقیقات کیلئے نیب نے انہیں طلب کیا گےا اس کا نام پاناما میں شامل نہیں تھا ، یہ کمپنی پہلے سے ہی ڈکلیئرڈ ہے میں نے نواز شریف کے مجھے کیوں نکالا کی طرح نیب سے پوچھا کہ مجھے کیوں بلایا تو انہوں نے مجھے اچھی سی چائے پلائی۔انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے ان سے جو بھی سوال کیے گئے ان کے جوابات دے دیے اور متعلقہ دستاویزات فراہم کیں ۔ جس کمپنی کے بارے میں نیب نے سوال کیے اس کے بارے میں پہلے بھی بہت بار عوامی سطح پر بتا یا جا چکا ہے۔ یہ کمپنی 2006 میں بنی ، 2006 کے بعد تمام ٹیکس ریٹرز میں یہ کمپنی موجود ہے، اس کمپنی کے نام پر 4 پراپرٹیز ہیں جو ڈکلیئر کی گئی ہیں نیب کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ جس وقت بھی کسی دستاویز کی ضرورت پڑے گی وہ پیش کردی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مےں شہبا زشر ےف سے پوچھتاہوں کہ کےسے پنجاب حکومت کی200اےکڑز زمےن پےراگون سٹی کو دی گئی ہے مےں سب کے سامنے کہتاہوں کہ مجھ پر اےک روپے کی بھی کر پشن ثابت ہوجائے تو مجھے ہتھکڑی لگا دی جائے مےں10سالوں سے حکومت کے نشانے پر ہوں مگر آج تک مےرے خلاف کوئی کر پشن ثابت نہےں ہوئی اورمےری جس آف شور کمپنی کی بات کی جارہی ہے اس کا پانامہ کےس مےں کوئی ذکر نہےں ۔

نواز شریف کو ایک اور نوٹس جاری

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ایف ون کی تشریح کے کیس کی سماعت کے سلسلے میں آج پیش نہ ہونے پر نوازشریف کو کل کے لیے نوٹس جاری کردیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے لیے 13 درخواستوں کی سماعت کی۔آج سماعت کے سلسلے میں نوازشریف عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کو کل پیش ہونے کے لیے دوبارہ نوٹس جاری کردیا۔جب کہ عدالت عظمیٰ نے منیر اے ملک ایڈووکیٹ اور بیرسٹر علی ظفر کو عدالتی معاون مقرر کیا ہے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کہ ہم سب کو سننا چاہتے ہیں اور سب کا مؤقف لینا چاہتے ہیں، جب کیس کی سماعت کا سوچا تو نواز شریف اور جہانگیر ترین کا نام ذہن میں آیا، اسی لیے دونوں کو نوٹس جاری کیا۔