کا لے موتیا کا آسان گھریلو نسخہ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) امریکی تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ جو روزانہ گرم چائے پیتے ہیں‘ دیگر لوگوں کے مقابلے میں ان میں کالے موتیا (گلوکوما) کے مرض میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ مطالعے میں شریک افراد جو گرم چائے کا ایک یا زیادہ کپ استعمال کرتے رہے ہیں‘ ان میں ”گلوکوما“ کی بیماری کی علامات پیدا ہونے کے 74فیصد کم امکانات ہیں۔

پاکستان کا فاتحانہ آغاز،نیوزی لینڈ الیون کو120رنز سے شکست

نیلسن(ویب ڈیسک)پاکستان نے کیویز کی سرزمین پر سیریز کا فاتحانہ آغاز کرتے ہوئے پریکٹس میچ میں نیوزی لینڈ کو ایک سو بیس رنز سے شکست دے دی۔ پاکستان کی جانب سے اوپنر اظہر علی اور فخر زمان نے سینچریاں اسکور کیں۔تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کے شہر نیلسن میں کھیلے گئے پاکستان اور نیوزی لینڈ الیون کے پریکٹس میچ میں پاکستان نے حریف ٹیم کو باآسانی ایک سو بیس رنز سے شکست دے دی۔ میچ کے آغاز پر نیوزی لینڈ الیون نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جو پاکستان کے حق میں بہتر فیصلہ ثابت ہوا۔

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے نیوزی لینڈ الیون کو 341 رنز کا ہدف دیا، پاکستان کی جانب سے اوپنر فخر زمان 106 اور اظہر علی نے 104 رنز اسکور کرتے ہوئے سینچریاں بنائیں۔ تاہم پاکستان کی دو وکٹیں 219 رنز پر گرنے کے بعد بلے بازوں کی لائن لگ گئی۔ حسن علی نے 36 جب کہ شاداب خان نے 24 نز بنائے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا، پوری ٹیم 342 ہدف کے تعاقب میں 221 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے 4، جب کہ  فہیم اشرف نے نیوزی لینڈ کے دونوں اوپنرز کو آؤٹ کیا۔ محمد عامر، رومان رئیس، حسن علی اور فخر زمان نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایک روزہ میچز کا سلسلہ چھ جنوری سے شروع ہو رہا ہے، میچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح تین بجے شروع ہوگا۔

امریکہ پاکستان میں کیا کرنے والا ہے۔۔۔؟وزیر دفاع کے بیان سے تشویش کی لہر

 اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔بی بی سی کو انٹرویو میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے اور پاکستان میں امریکی آپریشن کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا جب کہ دونوں کا تعلق اب ’دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے‘۔پاکستان میں کسی مسلح گروہ کے خلاف یکطرفہ کارروائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ پارہ صفت انسان ہیں، اس لیے ایسے کسی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی کارروائی کا امکان کم ہے۔ فوجی امداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ  دونوں ملکوں کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکا نے اب بھی دس ارب ڈالر پاکستان کو ادا کرنے ہیں، تاہم ہماری معیشت میں وہ طاقت آ گئی ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کو پوری طرح سپورٹ کرسکتے ہیں، لہذا امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا، دفاعی تعاون ختم ہونے سے ان پرزہ جات کا نقصان ہوگا جو پاک فوج امریکا سے لیتی ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کر رہا ہے، امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کے بعد پاکستان پر الزام تراشی نہ کرے، اگر امریکا کو افغانستان میں امن مقصود ہے تو پاکستان مکمل معاونت کو تیار ہے، مگر افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکہ کے لیے مکمل کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں، اس کے بغیر امریکا کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی۔ اس لیے امریکا بہتر ہوگا کہ نو مور کہنے اور نوٹسز دینے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔وزیر دفاع خرم دستگیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق اب دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے،  جماعت الدعوۃ کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا تعلق امریکہ سے نہیں بلکہ یہ آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے، اگرچہ بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان سوچ سمجھ کر اقدامات کر رہا ہے، ’ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پر چڑھ دوڑیں گے بلکہ وہ وقت گزر گیا، اب ہم نپے تلے اقدامات اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں خفیہ ڈیل کا پول کھل گیا

لاہور (خصوصی رپورٹ) سینٹ انتخابات کی صف بندی کے لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں رابطے بحال ہوگئے۔ پیپلزپارٹی نے رحمن ملک کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی شرط پر چیئرمین سینٹ کے لئے مسلم لیگ ن کے نامزد کردہ امیدوار کی حمایت کی یقین دہانی کرادی۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے مشاہد اللہ خان یا نہال ہاشمی کو چیئرمین سینٹ کے لئے امیدوار نامزد کئے جانے کا امکان ہے۔ سینٹ انتخابات کے لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں اعلیٰ سطحی رابطہ ہوا اور دونوں جماعتوں نے ایک بار پھر یہ طے کیا ہے کہ سینٹ کا آئندہ چیئرمین بھی صوبہ سندھ سے ہوگا جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے مابین مشاورت میں چیئرمین سینٹ کا عہدہ مسلم لیگ ن اور اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلزپارٹی کو دینے کے لئے بیشتر امور پر اتفاق ہوگیا۔ معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے سینٹ انتخابات 2018ءکے لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں اہم امور طے کرلئے گئے ہیں اور سینٹ انتخابات کے انعقاد کی صورت میں مارچ 2018ءکے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) سینٹ میں 38 ممبران کے ساتھ اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئے گی اور ممکنہ طور پر پیپلزپارٹی 14 جبکہ پی ٹی آئی 12 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی سیاسی جماعت ہوگی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین نئے چیئرمین سینٹ کے لئے مشاورت کراچی میں اہم سیاسی شخصیت کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک تاجر شخصیت نے پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رہنما کو لیگی قیادت کا پیغام اور معاہدہ یاد دلایا جو موجودہ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کے انتخاب کے وقت دونوں جماعتوں کے مابین ہوا تھا کہ اکثریتی جماعت کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے سیاسی تعاون کیا جائے گا۔ معتمد ترین ذرائع کے مطابق نئے چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے معاملہ پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں ایک بار پھر رابطے بحال ہونے سے معاملات افہام و تفہیم اور مشاورت سے حل ہونے کی امید ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سابق وزیراعظم نوازشریف سے ایک بزنس مین ٹائی کون شخصیت کے ذریعے رابطے میں ہیں۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے سینٹ چیئرمین کے لئے وفاقی وزیر برائے موسمی تغیرات مشاہد اللہ خان یا نہال ہاشمی میں سے کسی ایک کو امیدوار نامزد کئے جانے کا امکان ہے اور اس کے لئے وہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ حتمی امیدوار کا فیصلہ میاں نوازشریف کریں گے۔

حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد،ن لیگ کو بڑا دھچکا

کوئٹہ (بیورو رپورٹر) بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی جانب سے وزیراعلی بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائے جانے کے بعد وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کو وزارت سے الگ کو کر دیا گیا۔ وزیر ماہی گیری بلوچستان میر سرفراز چاکر ڈومکی نے وزیراعلی بلوچستان کو اپنا استعفی پیش کردیا ہے۔ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے وزیراعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔ بلوچستان اسمبلی کے 14 اراکین کی جانب سے وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی۔ تحریک عدم اعتماد رکن اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور سید آغارضا کی جانب سے جمع کرائی گئی جس پر 14 اراکین اسمبلی کے دستخط ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک پر رکن اسمبلی میر قدوس بزنجو، میر کریم نوشیروانی، آغا رضا، میر خالد لانگو، نوابزادہ طارق مگسی، ڈاکٹر رقیہ سعید ہاشمی، محمد اختر مگسی، زمرد خان اچکزئی، حسین بانو، شاہدہ رف، خلیل الرحمان، عبدالمالک کاکٹر اور امان اللہ نوتیزئی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور ان سے قبل نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک بلوچ وزیراعلی بلوچستان کے عہدے پر فائز تھے۔ رکن صوبائی اسمبلی میرعبدالقدوس بزنجونے سیکرٹری بلوچستان اسمبلی کے پاس وزیراعلی نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی درخواست جمع کرادی۔ درخواست میں 14ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے میرعبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں ہمارے تحفظات تھے جنہیں دورنہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے ہم نے نواب ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی 65 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سے 52حکومتی اتحاد میں شامل ہیں۔

2014کے دھرنوں سے خفیہ اداروں کے سربراہ کا براہ راست تعلق ، آخر کار نواز شریف نے سینے میں چھپے راز اگلنے شروع کر دئیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نواز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ 2014 کے دھرنوں سے خفیہ ادارے کے سربراہ کا براہ راست تعلق تھا۔ تفصیلات کے مطابق معروف اور سینئر صحافی سہپیل وڑائچ کی جانب سے لکھے گئے کالم میں تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ان سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے تہلکہ خیز انکشاف کیے ہیں۔سہیل وڑائچ کا بتانا ہے کہ نواز شریف نے انہیں بتایا ہے کہ 2014 کے دھرنوں سے خفیہ ادارے کے سربراہ کا براہ راست تعلق تھا۔ اس حوالے سے ان کے پاس ٹھوس شواہد بھی آ گئے تھے۔ سہیل وڑائچ کا مزید بتانا ہے کہ نواز شریف کے پاس یہ مبینہ شواہد اب بھی موجود ہیں۔ گفتگو کے دوران نواز شریف نے انہیں مزید بتایا کہ انہوں نے اس تمام معاملے کا پہلے اس لیے انکشاف نہیں کیا کیونکہ تب وہ وزیراعظم تھے۔ بطور وزیراعظم ان پر اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کا دباو تھا۔ تاہم اب ان پر ایسا کوئی دباو نہیں رہا اس لیے وہ ایسے حقائق سامنے لے کر آئیں گے۔

رانا ثناءکا استعفیٰ لیکر رہیں گے ۔۔۔ تحریک لبیک کا پاور شو کا فیصلہ

لاہور (آئی این پی) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان کے استعفی لینے کیلئے دینی جماعتیں ایک مرتبہ پھر سرگرم ہوگئیں۔ سنی تحریک، تحریک مستقیم اور تحریک لبیک نے احتجاجی پروگراموں کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق تفصیلات کے مطابق دینی جماعتوں نے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفے کے لیے حکومت پر دبا بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سنی تحریک، تحریک صراط مستقیم اور تحریک لبیک نے احتجاجی پروگراموں کو حتمی شکل دے دی۔ تحریک صراط مستقیم نے 4 جنوری کو احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے داتا دربار سے اسمبلی ہال تک ختم نبوت ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک 4 جنوری کو اسلام آباد میں پاور شو کرے گی جبکہ سنی تحریک 5 جنوری کو اسلام آباد سے کراچی تک ٹرین مارچ کرے گی لا ہور ریلوے اسٹیشن پر جلسہ بھی کیا جائے گا6 جنوری کو متحدہ علما بھی لاہور اسمبلی ہال کے سامنے احتجاج کرے گی۔

رانا ثنا ءڈٹ گئے ۔۔۔ ’باس‘کو مستعفی ہونے سے انکار کر دیا

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے اپنے باس وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کا حکم رد کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے اور پارٹی صدر میاں نواز شریف پر واضح کیا ہے کہ وہ ان کے استعفے کے حوالے سے فیصلہ کر دیں وہ صرف ان کا حکم مانیں گے مگر پیر حمید الدین سیالوی کے مطالبے اور وزیر اعلی کی ہدایت پر بھی وہ مستعفی نہیں ہونگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف چاہتے تھے کہ رانا ثنا ءاللہ مستعفی ہو جائیں تاکہ پیر حمید الدین سیالوی کے میدان میں آنے کی وجہ سے جو مذہبی ووٹ ن لیگ سے دور ہو رہا ہے وہ نہ ہو اور آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اس مذہبی ووٹ سے کہیں محروم نہ ہو جائے شہباز شریف چونکہ ن لیگ کے آئندہ عام انتخابات کے بعد وزارت اعظمی کے امیدوار ہونگے اس لئے وہ اس مذہبی ووٹ کی کسی اور کے حق میں تقسیم نہیں چاہتے اور رانا ثناءاللہ کو اسی لئے انہوں نے مستعفی ہونے کا کہا تھا لیکن رانا ثناءاللہ نے یکسر انکار کر دیا اور ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ چند دن قبل رائے ونڈ میں ہونے والے ایک اجلاس میں بھی یہ معاملہ زیر غور آیا تھا اور شہباز شریف سمیت بعض رہنماﺅ ں کی رائے تھی کہ رانا ثنائ اللہ مستعفی ہو جائیں ورنہ مذہبی اور دینی ووٹ کی تقسیم سے ن لیگ کو آئندہ انتخابات میں نقصان ہوگا اس موقع پر رانا ثناءاللہ نے موقف اختیار کیا کہ وہ بلیک میل ہو کر استعفی نہیں دینگے میرے استعفے کا فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کر دیں میں انھیں مکمل اختیار دیتا ہوں کہ وہ جب چاہیں میرے استعفے کے حوالے سے اعلان کر دیں مگر کسی اور کے کہنے پر مستعفی نہیں ہون گا جس پر شہباز شریف اور رانا ثناءمیں ناراضگی بھی ہو گئی تھی تاہم نواز شریف نے معاملے کو سنبھالا اور کہا کہ وہ پارٹی کے سینئر رہنماﺅ ں سے مشاورت کے بعد رانا ثناءکے استعفے پر حتمی فیصلہ کرینگے تاہم ایسی روایت نہیں ڈالنی چاہیے کیونکہ وفاقی حکومت پہلے ہی ختم نبوت کے معاملے پر زاہد حامد سے استعفی لے چکی اس لئے رانا ثناءاللہ سے استعفی مانگنا درست نہیں تاہم وہ ایک دو دن میں اس حوالے سے واضح فیصلہ کرینگے اور رانا ثناءاللہ کے موقف کو بھی سنا جائے گا ۔

حکومت پھر باز نہ آئی ،بچوں سے مسکراہٹیں چھیننے کا منصوبہ

جھنگ (خصوصی رپورٹ) حکوتم نےپنجاب بھر میں مشینی جھولوں پر الئسنس فیس عائد کر نے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلے ”دی ڈسٹرکٹ کونسل“ ریگولیشن آف ملینیکل رائڈز بائی لاز 2017ءکے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے متینی جھولوں کی رجٹریشن لازمی قرار دے کر نہ صرف لائسنس فیس وصولی کا فیصلہ کر لیا ہے بلکہ جھولا مالکان کو 10 مختلف سرکاری محکموں سے این او سی حاصل کرنے کا بھی پابند کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کہ دیہی علاقوں میں بغیر اجازت کے مشینی جھولے نصب کرنے والے مالک کالائسنسن منسوخ ، جھولے ضبط اور سزاد جرمانے کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا جبکہ انسانی سانحہ کی صورت میں متاثرہ خاندان کو مالی امداد بھی مالک کی طرف سے دلوائی جائے گی۔

ایشوریہ کا بیٹا منظر عام پر آگیا ۔۔۔ خبر نے بھارتی میڈیا میں ہلچل مچا دی

حیدر آباددکن(شوبز ڈیسک) بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکا پٹنم کے 29 سالہ نوجوان سنگیت کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشوریا رائے بچن ان کی ماں ہیں اور اب وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔سابق ملکہ حسن اور نامور بالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے بچن بہترین اداکارہ ہونے کے ساتھ بہت اچھی ماں بھی ہیں۔ ایشوریا دیگر اداکاراؤں کے برعکس اپنی 6 سالہ بیٹی آرادھیا رائے بچن کو ہروقت اپنے پاس رکھتی ہیں۔ تاہم حال ہی میں ایشوریا رائے بچن کا ایک اور بیٹا منظر عام پر آیا ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایشوریا رائے ان کی ماں ہیں اور وہ اپنی ماں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے شہر وشاکاپٹنم کے رہائشی 29 سالہ نوجوان سنگیت کمار کا کہنا ہے کہ ان کی پیدائش لندن میں 1988 میں بذریعہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ہوئی تھی اور اپنی  پیدائش کے 2 سال تک وہ ایشوریا کے والدین وریندا رائے اور آنجہانی کرشنا راج رائے کے ساتھ رہے تھے۔ بعد ازاں اس کے والد آدی ویلو ریڈی انہیں ویشاکا پٹنم لے آئے اور جب ہی سے وہ یہیں رہائش پزیر ہیں۔ سنگیت کا مزید کہنا تھا کہ وہ 27 سال تک اپنی ماں سے دور رہے ہیں وہ انہیں بہت یاد کرتے ہیں اور اب وہ اپنی ماں یعنی ایشوریا رائے بچن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔

 سنگیت کے پاس اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے رشتے دار نے تمام ثبوت ضائع کردئیے۔ جب کہ ایشوریا رائے یا ان کے گھر والوں کی طرف سےابھی تک اس دعوے کا کوئی جواب نہیں آیا ہے۔

امریکہ سے تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی کرسکتے ہیں، ملیحہ لودھی

نیویارک (محسن ظہیر ) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنی امریکی ہم منصب کی جانب سے پاکستا ن کی امداد کی بندش کے اعلان اور پاکستان کے خلاف دئیے جانیوالے ریمارکس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ پاکستان امریکہ سے اپنے تعاون پر نظر ثانی کرسکتا ہے اگر اس کو سراہا نہ گیا ۔
اقوام متحد ہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ سے تعاون کسی امداد نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات اور اصولوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ پاکستان اپنے اس تعاون پر نظر ثانی کرسکتا ہے اگر اس تعاون کو سراہا نہ گیا۔
ملیحہ لودھی کی جانب سے مذکور رہ ردعمل کا اظہار نکی ہیلی کی اس پریس کانفرنس میں کیا گیا کہ جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کی اس بات کو دوہرایا کہ جس میں کیا گیا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دوہری گیم کھیل رہا ہے اور اس کی 25کروڑکی امداد کو روکا جا رہا ہے ۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یکم جنوری کو پاکستان کے خلاف جاری کئے جانیوالی ٹویٹ کے بعد جہاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہو گئے ہیں وہاں دونوں ممالک کے اقوام متحدہ میں سفارتکاروں کے درمیان الفاظ کی جنگ بھی شروع ہو گئی ہے ۔
ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا کردار ادا کیا اور اس جنگ میں ملک قوم نے دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا الزام کسی اور پر نہیں دھرنا چاہئیے ۔

 

خواجہ سراﺅں کوبڑی خوشخبری مل گئی

واشنگٹن(خصوصی رپورٹ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوج میں ہجڑوں کی بھرتی روکنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد نئے سال سے امریکی فوج میں تیسری صنف بھی شامل ہوسکے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ نئے سال کےآغاز سے عدالت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہجڑوں کی فوج میں بھرتی کی درخواستیں وصول کرنا شروع کردیں گے۔اس سال کے آغاز پر امریکی صدر نے گزشتہ صدر براک اوباما کی جانب سے ہجڑوں کی فوج میں بھرتی سے پابندی اٹھانے کے فیصلے کو واپس لینے کی خواہش کا اظہارکیاتھا۔امریکی صدر کی خواہش کےآگے قانون آڑے آگیا جبکہ امریکی صدرکے ممکنہ اقدام کو تیسری صنف کے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور امریکی فوج کے افسروں نے امتیازی قراردیا تھا۔قانون اور عوامی اعتراض کےبعد امریکی صدر نے ہجڑوں کی فوج کی بھرتی کو جاری رکھنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا۔

بلاول کا بڑا اعلان

لاہور (آئی این پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے کہاہے کہ صرف پیپلزپارٹی کوہی دہشت گردی اور امریکا سے نمٹنے کا تجربہ ہے، انتہاپسندی کاخاتمہ اس لیے نہیں کرینگے کہ ٹرمپ نے کہا بلکہ یہ ہمارے مفادمیں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی دھمکی پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ ہم انتہاپسندی کا خاتمہ کریںگے کیونکہ یہ ہمارے مفادمیں ہے، انتہاپسندی کاخاتمہ اس لیے نہیں کریں گے کہ ٹرمپ نے کہا۔صرف پیپلزپارٹی کوہی دہشتگردی اورامریکا سے نمٹنے کا تجربہ ہے، ہمارے دور میں پہلی بار انسداد دہشتگردی کا کامیاب آپریشن لاﺅنچ کیاگیا، سلالہ حملے پر امریکا کے معافی مانگنے تک نیٹو سپلائی اور فضائی اڈے بند کیے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ٹرمپ کو کولیشن سپورٹ فنڈ، خدمات کے عوض ادائیگی کا فرق سمجھائے، یو ایس ایڈ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دلوں کو جیتنے کیلئے دی جاتی ہے، خدمات کے عوض عدم ادائیگی سے مستقبل میں تعاون پر اثر پڑسکتا ہے۔