لاہور(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے قائم ٹریبونل خالد لطیف کیس کا فیصلہ کل سنائے گا۔پی سی بی زرائع کے مطابق شرجیل خان کی طرح خالد لطیف پر بھی چار سے پانچ الزامات ثابت ہوئے ہیں اور ان پر بھی پانچ سے سات سال کی پابندی کا خدشہ ہے۔رواں سال پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی باز گشت سنائی دی اور شرجیل خان اور خالد لطیف کو بورڈ نے معطل کردیا تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اصغر حیدر کی سربراہی میں تین رکنی ٹریبونل قائم کیا کس میں سابق وکٹ کیپر وسیم باری اور سابق پی سی بی چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیا بھی شامل تھے۔اس کے بعد اینٹی کرپشن یونٹ نے اسپاٹ فکسنگ ملوث ہونے کے جرم میں محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ناصر جمشید کو معطل کردیا تھا۔محمد عرفان نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ان پر مختصر پابندی اور جرمانہ کیا گیا جبکہ شرجیل خان کو پانچ سال کی پابندی کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق خالد لطیف کی جانب سے بار بار عدالت میں پٹیشن دائر کرنے اور عدم تعاون پر ان کے خلاف شرجیل خان سے زیادہ سخت سزا لاگو کی جاسکتی ہے۔کرکٹ بورڈ کے مطابق خالد لطیف کے ساتھ کرپشن کے لیے روابط کیے گئے، جب کہ ان پر پی سی بی کے محکمہ نگرانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔خالد لطیف اور ان کے وکلا نے ممکنہ پابندی کی صورت میں شرجیل کی طرح فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری کررکھی ہے۔خیال رہے کہ خالد لطیف پر پی سی بی کے اینٹی کرپشن ایکٹ 2015 کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔
Monthly Archives: September 2017
پاکستان آئیں گے یا نہیں ،اہم فیصلہ کرلیا
اسلام آباد (امتیاز احمد بٹ ) مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کا فوری پاکستان نہ آنے کا فیصلہ ، آئندہ حکمت عملی کے لیے قریبی ساتھیوں سے مشاورت ، شریف خاندان آئندہ بھی احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہو گا ۔ مسلم لیگ ن کے قریبی ذرائع کے مطابق میاں محمد نواز شریف نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور بعض دیگر قریبی ساتھیوں سے طویل مشاورت کے بعد کچھ عرصہ کے لیے بیرون ملک ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ محمد نواز شریف نے مسلم لیگ ن کے چئیرمین راجہ ظفر الحق ، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور بعض دیگر مرکزی رہنماﺅں کی جانب سے مشورے کے بعد اداروں سے متعلق ”لچک “دکھانے پر رضا مندی ظاہر کی ہے تا ہم اس حوالے سے سابق وزیر اعظم نے مو¿قف اپنایا ہے کہ پانامہ کیس میں نا اہلی کے فیصلے کے خلاف کی گئی نظر ثانی اپیل پر سپریم کورٹ کے 12رکنی لارجر بینچ میں واپس لینے کی صورت میں مو¿قف میں تبدیلی آ سکتی ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ اداروں سے معاملات طے ہونے تک وہ بیرون ملک رہیں گے اور احتساب عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔ قبل ازیں متعدد نوٹسز کے اجراءاور رائیونڈ میں موجود ہونے کے باوجود احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔
سول ملٹری تعلقات میں تناﺅ ہے یا نہیں ،آرمی چیف نے سب واضح کردیا
راولپنڈی (آئی این پی، بیورو رپورٹ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہہمارا پاناما کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،لوگ جو اندازے لگاتے رہتے ہیں،لگاتے رہیں،پاناما کا معاملہ عدالتیں ہی چلا رہی ہیں، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناﺅ نہیں ،سابق وزیراعظم سے بھی اچھے تعلقات تھے اورموجودہ سے بھی ہیں،میں نے شہبازشریف کو کلثوم نواز کی جیت کی مبارکباد دی ہے،ملک میں چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا،وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے،وزیرخارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے،معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں،مجھے پورے ایوان کی کمیٹی میں بلائیں،جس مرضی معاملے پربریفنگ لیں،فوجی عدالتیں اس لیے بناناپڑیں کہ بڑے بڑے دہشتگرد چھوٹ جاتے ہیں،بینظیر بھٹو قتل کیس میں عدالت نے جیٹ بلیک دہشتگردوں کوچھوڑدیا،فاٹا کے خیبرپختونخوامیں انضمام کامعاملہ سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے،،فاٹاریفارمزناگزیرہیں، بھارت اورافغانستان سے بات چیت کیلئے تیارہیں،تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے،ہمیں دشمن کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا، ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کی قراردادیں خوش آئند ہیں ، امریکہ کا ڈومور کا مطالبہ درست نہیں ، ہم سے زیادہ کس نے ڈومور کیا ہے،افغان حکومت سے دراندازی روکنے کو کہا ہے ،کنٹرول لائن پر حالات خراب کرنے کا ذمہ دار بھارت ہے۔پیر کو نجی ٹی وی چینلز کے مطابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم کی سربراہی میں سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے اراکان نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں انھوںنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں قوم کے تعاون سے انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم دہرایا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ ہمارا پاناما کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،لوگ جو اندازے لگاتے رہتے ہیں،لگاتے رہیں،پاناما کا معاملہ عدالتیں ہی چلا رہی ہیں۔انھوںنے کہاکہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناﺅ نہیں ،سابق وزیراعظم سے بھی اچھے تعلقات تھے اورموجودہ سے بھی ہیں،میں نے شہبازشریف کو کلثوم نواز کی جیت کی مبارکباد دی ہے۔انکا کہنا تھاکہ چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا،وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے۔آرمی چیف نے کہاکہ وزیرخارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے،معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔مجھے پورے ایوان کی کمیٹی میں بلائیں،جس مرضی معاملے پربریفنگ لیں۔انھوںنے کہاکہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں عدالت نے جیٹ بلیک دہشتگردوں کوچھوڑدیا،فوجی عدالتیں اس لیے بناناپڑیں کہ بڑے بڑے دہشتگرد چھوٹ جاتے ہیں۔انھوںنے کہاکہ فاٹا کے خیبرپختونخوامیں انضمام کامعاملہ،سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے،فاٹا کے عوام کو صوبائیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے،فاٹاریفارمزناگزیرہیں، فاٹامیں انتظامی اقدامات جلد کر نے کی ضرورت ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ بھارت اورافغانستان سے بات چیت کیلئے تیارہیں،تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے،ہمیں دشمن کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا ۔انھوںنے کہاکہ ، ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کی قراردادیں خوش آئند ہیں ، امریکہ کا ڈومور کا مطالبہ درست نہیں ، ہم سے زیادہ کس نے ڈومور کیا ہے اب کہنے والے ڈومور کریں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کوئی اختلافات نہیں ، افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ دراندازی روکے ، ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ،ا فغانستان بھی کرے ، کنٹرول لائن پر حالات خراب کرنے کا ذمہ دار بھارت ہے ۔نجی ٹی وی چینلز کے مطابق آرمی چیف نے سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی میں بریفنگ پرآمادگی ظاہرکردی۔آرمی چیف نے دفاعی بجٹ پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے کہاکہ دفاعی بجٹ کل بجٹ کا 18فیصد ہے،مہنگائی بڑھ چکی ہے،نئے ہتھیار خریدنے میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم کی سربراہی میں سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے اراکان نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی نے یاد گار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔وفد کو ملک کی سیکورٹی اور سرحدی صورتحال ،امن وامان کے قیام کیلئے سیکورٹی فورسز کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ۔ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ قوم کے تعاون سے پرتشدد انتہا پسندی کی لعنت کے خاتمے کیلئے اجتماعی قوت اور ذمہ داری کے تحت کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات مین کوئی تناﺅ نہیں ہے ہمیں مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے تمام شراکت داروں کو باہمی تعاون کرنا ہوگا جمہوری اداروں کیمضبوطی کا حامی ہوں ، امریکہ کو پتہ چل چکا ہے کہ ہمیں ٹرمپ پالیسی پر اعتراضات ہیں پارلیمنٹ کی قراردادوں کا اس معاملے پر متفقہ پاس ہونا خوش آئند ہے بھارت کا محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کر رہے ہیں افغانستان سے کوئی اختلاف نہیں انھیں اپنی طرف دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنھوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چئیرمین شیخ روحیل اصغر اور سینیٹ کی دفاعی پیداوار کی کمیٹی کے چئیرمین عبد القیوم کی سربراہی میں پیر کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا ، کمیٹی اراکین نے یاد گار شہدا پر حاضری دی ، پھول چڑھائے اور وطن کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے چئیرمین شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ارمی چیف نے ہر سوال کا جواب دیا بڑے اوپن ماحول میں گفتگو ہوئی ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک بھارت تعلقات۔پاک افغان تعلقات پر بریفنگ دی جبکہ ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال و جواب کا طویل سیشن ہوا شیخ روحیل اصغر نے بتایا کہ کہ ارمی چیف کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات مین کوئی تناﺅ نہیں ہے۔اس معاملے پر کنفیوڑن نہیں ہونی چاہیے۔دشمن کے خلاف ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جمہوری ا داروں کی مضبوطی کا حامی ہوں جبکہ نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کا قراردادیں پاس کرنا خوش ایند ہے امریکہ کو پتہ چل چکا کہ ہمیں یہ پالیسی پسند نہیں۔ڈو مور کا امریکی مطالبہ درست نہین ہے۔ ہم سے زیادہ کس نے ڈو مور کیا اب کہنے والے ڈو مور کریں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ہمارا کوئی اختلاف نہیںافغانستان کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دراندازی ر وکے ہم نے اپنی طرف سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا وہ بھی کریںبھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کی توجہ کشمیر میں اپنے مظالم سے ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر حالات خراب کرتا ہے مگر پاکستان اس کا بھرپور جواب دیتا ہے اور ہم بھارت کا محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کر رہے ہیںدفاعی کمیٹیوں نے پاک فوج کی تیاریون پر اظہاد اطمینان کیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ : دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کوشیش جاری رکھی جائیں گی۔چئیرمین کمیٹی نے بتایا کہ ڈی جی ملٹری اپریشن کی بریفنگ بہت اچھی تھی۔ترجمان پاک فوج کے مطابق اس بات پر اتفا ق تھا کہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی اور باپمی شراکت داری کے تحت اگے بڑھنا ہوگا اور پوری قوم کی حمایت سے انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
بھارتی کپتان کوہلی نے پرستاروں کو منفرد چیلنج دیدیا
چنئی(آئی این پی) بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے اپنے پرستاروں کو ایک ہاتھ سے پش اپس کا چیلنج دے دیا۔انھوں نے ٹویٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ ایک ہاتھ سے پش اپس کررہے ہیں، انھوں نے شائقین سے سوال کیا ہے کہ ان میں سے کتنے اس انداز میں ایکسرسائز کرسکتے ہیں۔ویرات کوہلی اپنی فٹنس پر بہت زیادہ توجہ دیتے اور انھوں نے شائقین سے بھی یہی کہا ہے کہ وہ بھی تندرستی کیلیے باقاعدہ سے ورزش کیا کریں۔
جنرل قمر باجوہ کی شہباز شریف کو مبارکباد،اہم وجہ بھی سامنے آگئی
راولپنڈی (آئی این پی، بیورو رپورٹ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہہمارا پاناما کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،لوگ جو اندازے لگاتے رہتے ہیں،لگاتے رہیں،پاناما کا معاملہ عدالتیں ہی چلا رہی ہیں، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناﺅ نہیں ،سابق وزیراعظم سے بھی اچھے تعلقات تھے اورموجودہ سے بھی ہیں،میں نے شہبازشریف کو کلثوم نواز کی جیت کی مبارکباد دی ہے،ملک میں چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا،وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے،وزیرخارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے،معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں،مجھے پورے ایوان کی کمیٹی میں بلائیں،جس مرضی معاملے پربریفنگ لیں،فوجی عدالتیں اس لیے بناناپڑیں کہ بڑے بڑے دہشتگرد چھوٹ جاتے ہیں،بینظیر بھٹو قتل کیس میں عدالت نے جیٹ بلیک دہشتگردوں کوچھوڑدیا،فاٹا کے خیبرپختونخوامیں انضمام کامعاملہ سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے،،فاٹاریفارمزناگزیرہیں، بھارت اورافغانستان سے بات چیت کیلئے تیارہیں،تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے،ہمیں دشمن کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا، ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کی قراردادیں خوش آئند ہیں ، امریکہ کا ڈومور کا مطالبہ درست نہیں ، ہم سے زیادہ کس نے ڈومور کیا ہے،افغان حکومت سے دراندازی روکنے کو کہا ہے ،کنٹرول لائن پر حالات خراب کرنے کا ذمہ دار بھارت ہے۔پیر کو نجی ٹی وی چینلز کے مطابق سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم کی سربراہی میں سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے اراکان نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں انھوںنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں قوم کے تعاون سے انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم دہرایا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہاکہ ہمارا پاناما کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے،لوگ جو اندازے لگاتے رہتے ہیں،لگاتے رہیں،پاناما کا معاملہ عدالتیں ہی چلا رہی ہیں۔انھوںنے کہاکہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناﺅ نہیں ،سابق وزیراعظم سے بھی اچھے تعلقات تھے اورموجودہ سے بھی ہیں،میں نے شہبازشریف کو کلثوم نواز کی جیت کی مبارکباد دی ہے۔انکا کہنا تھاکہ چار سال تک وزیرخارجہ نہ ہونے سے نقصان ہوا،وزارت خارجہ کی سربراہی میں خلا نہیں ہونا چاہیے۔آرمی چیف نے کہاکہ وزیرخارجہ کی پوزیشن اہم ہوتی ہے،معاملات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں۔مجھے پورے ایوان کی کمیٹی میں بلائیں،جس مرضی معاملے پربریفنگ لیں۔انھوںنے کہاکہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں عدالت نے جیٹ بلیک دہشتگردوں کوچھوڑدیا،فوجی عدالتیں اس لیے بناناپڑیں کہ بڑے بڑے دہشتگرد چھوٹ جاتے ہیں۔انھوںنے کہاکہ فاٹا کے خیبرپختونخوامیں انضمام کامعاملہ،سیاسی سیٹ اپ نے دیکھنا ہے،فاٹا کے عوام کو صوبائیت کا احساس دلانے کی ضرورت ہے،فاٹاریفارمزناگزیرہیں، فاٹامیں انتظامی اقدامات جلد کر نے کی ضرورت ہے۔آرمی چیف نے کہاکہ بھارت اورافغانستان سے بات چیت کیلئے تیارہیں،تالی دونوں ہاتھوں سے بجنی چاہیے،ہمیں دشمن کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا ۔انھوںنے کہاکہ ، ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کی قراردادیں خوش آئند ہیں ، امریکہ کا ڈومور کا مطالبہ درست نہیں ، ہم سے زیادہ کس نے ڈومور کیا ہے اب کہنے والے ڈومور کریں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے کوئی اختلافات نہیں ، افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ دراندازی روکے ، ہم نے ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ،ا فغانستان بھی کرے ، کنٹرول لائن پر حالات خراب کرنے کا ذمہ دار بھارت ہے ۔نجی ٹی وی چینلز کے مطابق آرمی چیف نے سینیٹ کی پورے ایوان کی کمیٹی میں بریفنگ پرآمادگی ظاہرکردی۔آرمی چیف نے دفاعی بجٹ پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے کہاکہ دفاعی بجٹ کل بجٹ کا 18فیصد ہے،مہنگائی بڑھ چکی ہے،نئے ہتھیار خریدنے میں بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقیوم کی سربراہی میں سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے اراکان نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی نے یاد گار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔وفد کو ملک کی سیکورٹی اور سرحدی صورتحال ،امن وامان کے قیام کیلئے سیکورٹی فورسز کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ۔ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ قوم کے تعاون سے پرتشدد انتہا پسندی کی لعنت کے خاتمے کیلئے اجتماعی قوت اور ذمہ داری کے تحت کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سول ملٹری تعلقات مین کوئی تناﺅ نہیں ہے ہمیں مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا ہے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دینے کے لیے تمام شراکت داروں کو باہمی تعاون کرنا ہوگا جمہوری اداروں کیمضبوطی کا حامی ہوں ، امریکہ کو پتہ چل چکا ہے کہ ہمیں ٹرمپ پالیسی پر اعتراضات ہیں پارلیمنٹ کی قراردادوں کا اس معاملے پر متفقہ پاس ہونا خوش آئند ہے بھارت کا محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کر رہے ہیں افغانستان سے کوئی اختلاف نہیں انھیں اپنی طرف دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنھوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چئیرمین شیخ روحیل اصغر اور سینیٹ کی دفاعی پیداوار کی کمیٹی کے چئیرمین عبد القیوم کی سربراہی میں پیر کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا ، کمیٹی اراکین نے یاد گار شہدا پر حاضری دی ، پھول چڑھائے اور وطن کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹی کے چئیرمین شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ارمی چیف نے ہر سوال کا جواب دیا بڑے اوپن ماحول میں گفتگو ہوئی ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک بھارت تعلقات۔پاک افغان تعلقات پر بریفنگ دی جبکہ ارمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سوال و جواب کا طویل سیشن ہوا شیخ روحیل اصغر نے بتایا کہ کہ ارمی چیف کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات مین کوئی تناﺅ نہیں ہے۔اس معاملے پر کنفیوڑن نہیں ہونی چاہیے۔دشمن کے خلاف ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جمہوری ا داروں کی مضبوطی کا حامی ہوں جبکہ نئی امریکی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ کا قراردادیں پاس کرنا خوش ایند ہے امریکہ کو پتہ چل چکا کہ ہمیں یہ پالیسی پسند نہیں۔ڈو مور کا امریکی مطالبہ درست نہین ہے۔ ہم سے زیادہ کس نے ڈو مور کیا اب کہنے والے ڈو مور کریں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے ہمارا کوئی اختلاف نہیںافغانستان کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ دراندازی ر وکے ہم نے اپنی طرف سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا وہ بھی کریںبھارت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ دنیا کی توجہ کشمیر میں اپنے مظالم سے ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر حالات خراب کرتا ہے مگر پاکستان اس کا بھرپور جواب دیتا ہے اور ہم بھارت کا محدود وسائل کے باوجود مقابلہ کر رہے ہیںدفاعی کمیٹیوں نے پاک فوج کی تیاریون پر اظہاد اطمینان کیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ : دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مل کر کوشیش جاری رکھی جائیں گی۔چئیرمین کمیٹی نے بتایا کہ ڈی جی ملٹری اپریشن کی بریفنگ بہت اچھی تھی۔ترجمان پاک فوج کے مطابق اس بات پر اتفا ق تھا کہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری نبھانی اور باپمی شراکت داری کے تحت اگے بڑھنا ہوگا اور پوری قوم کی حمایت سے انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
”سابق سپہ سالار کو سزا دی جائے “ہائیکورٹ میں3 اپیلیں دائر
راولپنڈی (نیوز رپورٹر) بے نظیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی نے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف 3 اپیلیں دائر کردیں۔ سابق صدر اور بینظیر بھٹو شہیدکے شوہر آصف علی زرداری کی مدعیت میں پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے رجسٹرار آفس میں تین اپیلیں دائر کیں۔بینظیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پہلی اپیل میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس کیس میں سزا دینے کی درخواست کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ 8 مئی 2017 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے پرویز مشرف کا کیس الگ کرکے 31 اگست کو ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، اپیل میں استدعا کی گئی کہ دہشت گردی عدالت کے 8 مئی اور 31 اگست کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو حکم دیا جائے کہ مشرف کے خلاف ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کرکے ملزم کو تمام دفعات میں سخت سے سخت سزا سنائی جائے۔دوسری اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے میں سابق سٹی پولیس افسر (سی پی او) سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) خرم شہزاد کو محض 17 ¾17 سال کی سزا دی گئی جبکہ مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں لہذا پولیس افسران کو دیگر دفعات میں بھی سزائیں سنائی جائیں۔ پرویز مشرف کے علاوہ مقدمہ میں سزا پانے والے دونوں پولیس افسران اور بری ہونے والے پانچوں ملزمان کے خلاف یہ اپیلیں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی جانب سے ان کے وکلا نیئر بخاری ایڈووکیٹ اور سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہیں جن میں سابق صدر پرویز مشرف ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز ،سابق ایس پی راول خرم شہزا د کے علاوہ رفاقت حسین ، حسنین گل ، شیر زمان اور رشید احمدترابی کو فریق بنایا گیا ہے اپیلیں دائر کرنے کے بعد سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں اپیلیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ بے نظیر قتل کیس میں شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیاانہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویزمشرف کے خلاف اس لئے بھی اپیل دائر کی گئی ہے پرویز مشرف نے بےنظیر بھٹو کو دھمکی دی تھی،بے نظیر کو سب سے زیادہ خطرہ پرویز مشرف سے تھاانہوں نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کو سازش کے تحت قتل کرایا گیا18 اکتوبر 2007 کو کارساز میں پہلا حملہ کیا گیا،بےنظیر بھٹو کی ہدایات پرہم نے شکایت کی تھی لیکن اس شکائیت پر مقدمہ درج نہیں کیا گیابعد ازاںعدالتی حکم کے باوجود بھی ہماری مدعیت میں کراچی حملہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا اسی طرح مارک سیگل کو بےنظیر نے ای میل کی تھی کہ مجھے مشرف نے دھمکی دی ہے بےنظیر کو پرائیوٹ سکیورٹی بھی رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی بےنظیر نے اپنی ای میل میں مشرف کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار پرویز مشرف ہو گاامریکن ایمبیسی سے ویڈیو لنک کے ذریعے مارک سیگل کا بیان ریکارڈکیا گیا مشرف نے بینظیر کو دھمکی دی تھی کہ تمہاری سیکورٹی مجھ سے تعلقات سے مشروط ہے سعود عزیز اس وقت آر پی اوگوجرانوالہ تھا اسے چھوٹی سیٹ پر سی پی او لگایا گیابے نظیر کا جو سکیورٹی پلان بنایا گیا اس میں بھی تبدیلی کر کےسعود عزیز نے آخری لمحات میں ایس پی کو ہٹا کرسکیورٹی خراب کردی اوردنیا نے دیکھا کہ شارپ شوٹر نے بے نظیر کے گاڑی پر چڑھ کر فائر کیاانہوں نے کہا کہ مشرف کے مفرور ہونے پر کیس کو الگ کرنے کوبھی چیلنج کیا گیا ہے کیونکہ68 گواہان مشرف کی موجودگی میں بیانات قلمبند کئے گئے سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اورسابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو17,17 سال قید کے ساتھ باقی دفعات میں سزا ہی نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ تیسری اپیل بری کئے جانے والے پانچوں ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے عدالت نے اعتزاز نامی ملزم کونابالغ قرار دے کر بری کیا حالانکہ مقدمہ میں شامل دفعہ کے تحت اس کی سزا سزائے موت ہے اس طرح بری ہونیوالے ملزمان کوپھانسی ہونی چاہئے تھی۔
مولانا طارق جمیل کی کپتان سرفراز احمد سے ملاقات
کراچی (بی این پی )معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کراچی میں چیمپین کپتان سرفراز احمد سے ملاقات کی ہے جس میں کرکٹ کے علاوہ دیگر امور پر بھی گفتگو کی گئی۔تفصیلات کے مطابق آزادی کپ کے کامیاب انعقاد اور پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی کے بعد مولانا طارق جمیل کی کپتان سرفراز احمد سے ملاقات ہوئی ہے جس میں کرکٹ کے علاوہ دیگر معاملات بھی زیر غور آئے۔اس سے قبل بھی مولانا طارق جمیل پاکستانی کرکٹرز سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں اور ان کی دعوت کی بدولت بہت سے کرکٹرز تبلیغ دین کا کام بھی کر رہے ہیں، ان میں سعید انور، شاہد آفریدی اور انضمام الحق کے نام نمایاں ہیں۔دوسری جانب سرفراز احمد حافظ قرآن اور دعوت اسلامی سے وابستہ ہیں اور گاہے بگاہے دعوت اسلامی کے مرکز فیضان مدینہ کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے مولانا طارق جمیل اور سرفراز احمد کی اس ملاقات کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے پاکستان میں فرقہ پرستی کی فضا کم کرنے اور مختلف مسالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔
سوئزر لینڈ میں ”آزاد بلوچستان“ کے قیام بارے شرمناک اقدام،جنیوا میں جگہ جگہ اشتہار ،بسوں میں بھی مہم ،کون چلا رہا ہے؟
اسلام آباد‘ جنیوا (این این آئی) جنیوا میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم پر سوئٹزر لینڈ کے سفیر تھامس کولی کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے احتجاجی مراسلہ انہیں دیا اور کہا ہے کہ اشتہاری مہم پاکستانی سالمیت اور خود مختاری پر حملہ ہے جو کہ عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ پیر کو دفترخارجہ نے سوئٹزر لینڈ کے پاکستان میں نامزد سفیر تھامس کولی کو طلب کر کے جنیوا میں ہونے والی پاکستان مخالف اشتہاری مہم پر شدید احتجاج کیا ہے۔ دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی سرزمین کا استعمال عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ سوئٹزر لینڈ کسی خود مختار ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں پاکستان مخالف اشتہاری مہم کو پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب فرخ عامل نے سوئس ہم منصب کو مراسلہ بھیج کر اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ سوئس حکام کو بھجوائے گئے اپنے مراسلے میں فرخ عامل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جسے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نمائندگی حاصل ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ’آزاد بلوچستان‘ کا نعرہ پاکستان کی سالمیت و خود مختاری پر حملہ ہے۔ جنیوا میں جگہ جگہ اشتہاروں اور بسوں پر جاری اشتہاری مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے اپنے مراسلے میں سوئس حکومت سے شدید احتجاج کیا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ احتجاجی مراسلے کے مطابق ’پاکستان کے خلاف سوئس سرزمین کا استعمال تشویش کا باعث ہے جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ برطانیہ اور امریکہ میں بی ایل اے کے کئی نمائندے دہشت گرد قرار دئیے جا چکے ہیں اور یہ کالعدم دہشت گرد تنظیم ¾ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث ہے۔ پاکستانی سفیر نے مو¿قف اختیار کیا کہ کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بچوں، خواتین، مسیحی برادری اور شیعہ آبادی کے قاتل ہیں اور دہشت گردوں کی جانب سے سوئس سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی سفیر کے بھیجے گئے احتجاجی مراسلے کے مطابق اقوام متحدہ کا دفتر رکھنے والے پرامن شہر جنیوا میں دہشت گرد سرگرمیاں تشویش کا باعث ہیں جبکہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دہشت گردوں نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کے لیے جنیوا کا استعمال کیا۔ اپنے مراسلے میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے سامنے پاکستان دشمن عزائم کا ہونا انتہائی تشویشناک ہے لہذا سوئٹزرلینڈ حکومت پوری قوت اور سنجیدگی سے ان اشتہاروں کے معاملے سے نمٹے ¾جنیوا شہر کے حکام کو کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کر کے آئندہ ایسا ہونے سے روکا جائے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ کالعدم بی ایل اے کے دہشت گردوں اور اشتہاری کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مشن اور سفارت کاروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔
بے نظیر بھٹو کی ای میل میں تہلکہ خیز انکشافات ،جان کون لینا چاہتا تھا؟سب واضح کردیا
راولپنڈی (نیوز رپورٹر) بے نظیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی نے انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف 3 اپیلیں دائر کردیں۔ سابق صدر اور بینظیر بھٹو شہیدکے شوہر آصف علی زرداری کی مدعیت میں پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے رجسٹرار آفس میں تین اپیلیں دائر کیں۔بینظیر قتل کیس کے فیصلے کے خلاف دائر پہلی اپیل میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اس کیس میں سزا دینے کی درخواست کرتے ہوئے موقف اپنایا گیا کہ 8 مئی 2017 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے پرویز مشرف کا کیس الگ کرکے 31 اگست کو ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، اپیل میں استدعا کی گئی کہ دہشت گردی عدالت کے 8 مئی اور 31 اگست کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو حکم دیا جائے کہ مشرف کے خلاف ٹرائل کو جلد از جلد مکمل کرکے ملزم کو تمام دفعات میں سخت سے سخت سزا سنائی جائے۔دوسری اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے میں سابق سٹی پولیس افسر (سی پی او) سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) خرم شہزاد کو محض 17 ¾17 سال کی سزا دی گئی جبکہ مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں لہذا پولیس افسران کو دیگر دفعات میں بھی سزائیں سنائی جائیں۔ پرویز مشرف کے علاوہ مقدمہ میں سزا پانے والے دونوں پولیس افسران اور بری ہونے والے پانچوں ملزمان کے خلاف یہ اپیلیں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری کی جانب سے ان کے وکلا نیئر بخاری ایڈووکیٹ اور سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے دائر کی ہیں جن میں سابق صدر پرویز مشرف ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز ،سابق ایس پی راول خرم شہزا د کے علاوہ رفاقت حسین ، حسنین گل ، شیر زمان اور رشید احمدترابی کو فریق بنایا گیا ہے اپیلیں دائر کرنے کے بعد سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں اپیلیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ بے نظیر قتل کیس میں شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیاانہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویزمشرف کے خلاف اس لئے بھی اپیل دائر کی گئی ہے پرویز مشرف نے بےنظیر بھٹو کو دھمکی دی تھی،بے نظیر کو سب سے زیادہ خطرہ پرویز مشرف سے تھاانہوں نے کہا کہ بےنظیر بھٹو کو سازش کے تحت قتل کرایا گیا18 اکتوبر 2007 کو کارساز میں پہلا حملہ کیا گیا،بےنظیر بھٹو کی ہدایات پرہم نے شکایت کی تھی لیکن اس شکائیت پر مقدمہ درج نہیں کیا گیابعد ازاںعدالتی حکم کے باوجود بھی ہماری مدعیت میں کراچی حملہ کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا اسی طرح مارک سیگل کو بےنظیر نے ای میل کی تھی کہ مجھے مشرف نے دھمکی دی ہے بےنظیر کو پرائیوٹ سکیورٹی بھی رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی بےنظیر نے اپنی ای میل میں مشرف کے بارے میں لکھا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار پرویز مشرف ہو گاامریکن ایمبیسی سے ویڈیو لنک کے ذریعے مارک سیگل کا بیان ریکارڈکیا گیا مشرف نے بینظیر کو دھمکی دی تھی کہ تمہاری سیکورٹی مجھ سے تعلقات سے مشروط ہے سعود عزیز اس وقت آر پی اوگوجرانوالہ تھا اسے چھوٹی سیٹ پر سی پی او لگایا گیابے نظیر کا جو سکیورٹی پلان بنایا گیا اس میں بھی تبدیلی کر کےسعود عزیز نے آخری لمحات میں ایس پی کو ہٹا کرسکیورٹی خراب کردی اوردنیا نے دیکھا کہ شارپ شوٹر نے بے نظیر کے گاڑی پر چڑھ کر فائر کیاانہوں نے کہا کہ مشرف کے مفرور ہونے پر کیس کو الگ کرنے کوبھی چیلنج کیا گیا ہے کیونکہ68 گواہان مشرف کی موجودگی میں بیانات قلمبند کئے گئے سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اورسابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کو17,17 سال قید کے ساتھ باقی دفعات میں سزا ہی نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ تیسری اپیل بری کئے جانے والے پانچوں ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے عدالت نے اعتزاز نامی ملزم کونابالغ قرار دے کر بری کیا حالانکہ مقدمہ میں شامل دفعہ کے تحت اس کی سزا سزائے موت ہے اس طرح بری ہونیوالے ملزمان کوپھانسی ہونی چاہئے تھی۔
اظہر کی لنکا کےخلاف پہلے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک
لاہور(آئی این پی)پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کامیاب ترین بیٹسمین اظہر علی گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے ، جس کی وجہ سے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ان کی شرکت مشکوک دکھائی دے رہی ہے۔ٹیسٹ کرکٹر اظہر علی کے گھٹنے کی پرانی تکلیف دوبارہ ابھر آئی ہے، جس کے سبب وہ خاصی مشکل سے دو چار ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ اظہر علی مکمل فٹ نہیں۔سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ شروع ہونے میں ابھی دس دن ہیں۔ امید ہے کہ وہ فٹ ہو جائیں گے لیکن فی الحال ان کی پہلے ٹیسٹ میں شرکت مشکوک دکھائی دے رہی ہے ۔مینجمنٹ کی تجویز ہے کہ اظہر علی سمیت اسکواڈ میں کھلاڑیوں کی تعداد 17کردی جا ئے، ٹریننگ کیمپ منگل سے شروع ہو گا۔
کلثوم نواز کو دھکا دینے پر میرے ساتھ افسوسناک سلوک ہوا۔۔۔
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ الیکشن کیشن کو 25پٹیشنز ویں لیکن ایک پر بھی الیکشن نہیں ہوا۔ انہوں نے الزام عائد کیا الیکشن میں پری پول رگنگ ہوئی قانون توڑنے والے کو سزا ملنی چاہیے نوٹس نہیں یاسمین راشد کنے اس بات کا اعتراف کیا کہ الیکشن میں فوج کی تعیناتی سے ماحول پرسکون رہا لیکن جو پری پول رگنگ ہوئی مجھے اس کا جواب چاہیے قواعد کے مطابق الیکشن کا اہم اعلان ہونے کے بعد حلقے میں ترقیاتی کام شروع نہیں ہوسکتے لیکن اس قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔ الیکشن مہم کے دوران مریم نواز کے پیچھے 50گاڑیاں چلتی تھیں اور تین سو سے زائد اہلکار ساتھ ہوتے تھے یہ سرکاری وسائل میں تو ہیں لیکن یہ لوگ بھولے بنے ہوئے ہیں علاقے میں زکوة کمیٹی کے چیئرمین نے اس لئے استعفیٰ دے دیا کیونکہ ان سے زکوة وصول کرنے والے خاندانوں پر ووٹ لینے کیلئے ن لیگ کی جانب سے دباﺅ ڈالا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا ایک الیکشن میں میں نے کلثوم نواز کو دھکا دیا جس کی شکایت انہوں نے شہبازشریف سے کروں اور میرا تین سال سے تبادلہ کردیا گیا اور لاہور ٹرانسفر نہیں ہونے دیا گیا انہوں نے بتایا کہ میرے خیال میں مجھے 50ہزار سے زائد ووٹ ملنے چاہیے تھے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ الزام کہ میرے ساتھ اسٹیبلشمنٹ تھی غلط ہے۔ انہوں نے بتایا وہ آرمی سے بہت محبت کرتی ہیں لیکن جب بھی مارشل آیا سب نے پہلے مخالفت میں باہر نکلیں۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت صدیقی اچانک رونے لگے ،وجہ کیا بنی؟
اسلام آباد (آن لائن ) بیٹی کے ساتھ جنسی بداخلاقی کا الزام دوران سماعت والدہ کے سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی آبدیدہ ہوگئے دوران سماعت لڑکی کی جانب سے نزیراں ملک ایڈووکیٹ جبکہ بچی کے والد مجرم جو کہ اسلام آباد پولیس میں بطور کانسٹیبل تعینات تھا کی جانب شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تفیصلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے بیٹی سے بداخلاقی کے الزام میں ماتحت عدالت سے 25سال قید کی سزا دئیے جانے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر سماعت کی دوران سماعت والدہ کی جانب سے عدالت میں سچ اگلنے پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت آبدیدہ ہوگئے جب بچی کی والدہ نے عدالت کو بتایاکہ وہ اپنے دوست کے ساتھ دوسری شادی کرنا چاہتی تھی اس لئے اپنے شوہر کے خلاف جھوٹا الزام لگایا جس پر شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو شرم نہیں آئی اپنے شوہر پر اتنا بڑا جھوٹا الزام لگایا جس سے نہ صرف اس کی نوکری چلی گئی بلکہ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے جل رہا ہے جس پر خاتون کی جانب سے عدالت سے معافی کی استدعا کی گئی بعدازاں عدالت نے سچ سامنے آنے کے بعد پولیس کانسٹیبل کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا واضع رہے نجی ٹی وی پر پروگرام نشر کئے جانے کے اسلام آباد کے تھا نہ کورا ل پولیس نے باعزت بری ہونے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
سنسر بورڈ کا اعتراض‘ سنجے دت کی فلم بھومی مشکلات کا شکار
ممبئی (شوبز ڈیسک) بھارتی سنسر بورڈ کی طرف سے فلم کے کچھ سین نامناسب قرار دینے کے بعد بالی ووڈ کے سنجے دت کی فلم بھومی ریلیز سے قبل ہی مشکلات کا شکار ہوگئی ۔بالی ووڈ کے منا بھائی سنجے دت ان دنوں اپنی فلم بھومی کی تشہیر میں مصروف ہیں ، یہ فلم سنجے دت کے کیرئیر کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ جیل سے رہائی کے بعدسنجے دت اس فلم کے ذریعے طویل عرصے بعد دوبارہ فلموں میں جلوہ گر ہورہے ہیں تاہم بھارتی سنسر بورڈ نے سنجےدت کی خوشیوں پر پانی پھیرتے ہوئے فلم کے کچھ مناظر نامناسب قراردیتے ہوئے انہیں فلم سے ہٹادیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق فلم بھومی کی کہانی باپ اور بیٹی کے رشتے کے گرد گھومتی ہے جس میں سنجے دت باپ اور آدیتی را حیدری ان کی بیٹی کاکردار نبھارہی ہیں تاہم فلم میں کچھ مکالمے اور سینز پر اعتراض کرتے ہوئے بھارتی سنسر بورڈ نے انہیں فلم سے خارج کرنے کا حکم دیاہے۔ ، کل ملا کر سنسر بورڈ نے فلم میں 12 سینز کاٹے ہیں جس کے باعث سنجے دت اور فلم کے ہدایت کار امنگ کمار کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔بھومی 22 ستمبر کو ریلیز کی جانی تھی۔


















