مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ماہِ محرم الحرام 1439 ھ کے چاند کی رویت کا شرعی فیصلہ کرنے کے لئے مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان کااجلاس کل (جمعرات)21ستمبر کو بعد نمازِ عصر دفتر محکمہ موسمیات (میٹ کمپلیکس)، موسمیات چورنگی ،یونیورسٹی روڈ کراچی میں منعقد ہو گا۔چاند کے بارے میں شہادت دینے یا معلومات فراہم کرنے کے لئے ان نمبروں0300-9285203،0321-2484604 (021)99261404،99261403پر رابطہ قائم
Monthly Archives: September 2017
وارنٹ گرفتاری جاری, چھاپوں بارے اہم خبر
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں، عدالت نے حکم دیا ہے کہ 25 ستمبر کو پیش کیا جائے۔ احتساب عدالت نے بار بار نوٹس جاری کیے لیکن اسحاق ڈار نے احتساب عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ وفاقی وزیرخزانہ ے خلاف ریفرنس کی سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ناجائز اثاثے بتائے، منی لانڈرنگ بارے کئی مقدمات نیب میں زیرسماعت ہیں۔
اہم ترین شہر میں خوفناک زلزلہ, 270افراد جان کی بازی ہار گئے
میکسیکو سٹی(ویب ڈیسک) میکسیکو سٹی میں ہولناک زلزلے سے اب تک 270 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.1 ریکارڈ کی گئی ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق میکسیکو سٹی میں 2 ہفتوں کے دوران دوسرے خوفناک زلزلے نے تباہی مچادی، میکسیکو سٹی میں ریکٹر اسکیل پر 7.1 شدت کے زلزلے کے بعد کم ازکم 270 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئےہیں جب کہ اس زلزلے میں اب تک 20 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہونے کی تصدیق کی جاچکی ہے۔مقامی وقت کے مطابق ایک بجے میکسیکو سٹی سے 100 میل دور زلزلہ آیا جس کی ابتدائی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.1 تھی لیکن زلزلے کے جھٹکے متواتر بہت دیر تک محسوس کئے گئے جس سے ذیادہ تباہی ہوئی ہے۔ زلزلے کے مرکز سے قریب ہونے کی بنا پر صوبہ موریلوس میں اب تک سب سے ذیادہ جانی نقصان ہوا ہے جہاں 42 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں تاہم زلزلے کے اثرات پورے ملک پر محسوس کئے گئے ہیں۔زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے کے اندر دبے لوگوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہیں جس کے تحت مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عین اسی مقام پر 32 سال قبل 1985 میں زلزلہ آیا تھا جس میں لگ بھگ 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے ۔میکسکو سٹی کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کو بھی اس واقعے سے نقصان پہنچا جس کے بعد ایئرپورٹ کو بھی بند کردیا گیا اور شہرمیں عمارتوں کو خالی کروادیا گیا ہے۔واضح رہے دو ہفتے قبل میکسیکو کی تاریخ کا شدید ترین زلزلہ آیا تھا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 8.1 تھی اور اس میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے
نثار کا اپنا نظریہ, خود ایسا کریں تو بہتر ہوگا, مریم ارونگزیب کا اہم بیان
اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ بیگم کلثوم نواز کے وزیراعظم یاپارٹی صدر بننے کی باتیں قیاس آرائیاںہیں وہ صحت یابی کے بعد جیسے ہی وطن واپس آئیں گی وہ قومی اسمبلی رکن کی طرح اپناکام کرینگے ،سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعدمسلم لیگ(ن) کے ارکان قومی اسمبلی شدید صدمے میں ہیں جوایک دو دن میں ختم نہیں ہوسکتا،قومی اسمبلی میں کورم کے مسئلے کو پارٹی اختلافات سے نہ جوڑاجائے، یہ ہررکن کی انفرادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اجلاس میں آئے،پریس کونسل آف پاکستان کے جعلی آرڈیننس کے ڈرافٹ سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ دیدی ہے اس کے ذمہ دار افسر ناصرجمال کے خلاف اب ایک کریمنل انکوائری ہوگی جنہوں نے حکومت کیلئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی انہیں معاف نہیں کیاجاسکتا، مسلم لیگ (ن) میں کوئی اختلاف نہیں ،چودھری نثار اپنے موقف سے متعلق بہترجواب دے سکتے ہیں۔منگل کی شام پی آئی ڈی میڈیا سنٹر میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر محمدسلیم بیگ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میڈیا نمائندوں سے درخواست ہے کہ بغیر کوئی تصدیق کوئی خبرشائع یانشرنہ کریں حکومت صحافیوں کے حقوق کاتحفظ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے وزارت اطلاعات دو قوانین پر کام کررہی ہے جن میں ایک اطلاعات تک رسائی اور دوسرا صحافیوں کی سیکیورٹی کا ہے اطلاعات تک رسائی کاقانون سینیٹ سے پاس ہوکراسمبلی میں آچکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ای پی ونگ کے ڈی جی شفقت جلیل نے جعلی آرڈیننس کے ڈرافٹ کی تحقیقات کی جس میں وزارت اطلاعات کے آفیسر ناصر جمال پرالزامات ثابت ہوئے ناصرجمال نے جان بوجھ کرایسا کیا انہوں نے یہ کیوں کیا انہیں اس کاجواب دینا ہوگا اس کیلئے کریمنل انکوائری کمیٹی قائم کی جائے گی جس کا نوٹیفکیشن بہت جلد ہوگاجس میں انکوائری کاٹائم فریم بھی طے کیاجائے گا انہوں نے کہاکہ حکومت اور پارلیمنٹ کاحق ہے کہ وہ قانون بنائے لیکن پریس کے حوالے سے جو ڈرافٹ سامنے آیا ہے اس میں وزارت اطلاعات کا کوئی کردارنہیں ایک فرد ناصرجمال نے ازخود اس پرکام کیا اور پی سی بی کے چیئرمین کو اپنے دفتربلاکرہدایات دیتے رہے ناصرجمال ایسا کیوں کرتے رہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ایسے موقع پرحکومت کیلئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو معاف نہیں کیا جاسکتا ناصرجمال نے مجھ سے دو تین مرتبہ کہاہے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں چھٹی پرجارہی ہوں اور اپ اس معاملے کو سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات دیکھیں گے انہوں نے مختلف دستاویزات میڈیا نمائندوں کو دکھاتے ہوئے کہاکہ میں نے کبھی بھی اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دیں کہ پریس آرڈیننس میں ترمیم کی جائے تمام ریکارڈ موجود ہے وزارت قانون کی اجازت کے بغیر کوئی بھی نیاقانون نہیں بنایاجاسکتا اور جمہوری دور میں کوئی بھی قانون متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لئے بغیرنہیں بنایاجاسکتا انہوں نے کہاکہ ڈی جی ناصرجمال نے جان بوجھ کراس کو محترمہ شہید بھٹو کے کیس کے ساتھ ملادیا کہ ہمیشہ ملبہ سرکاری افسران پرگرتا ہے وزیراطلاعات نے کہاکہ دو ٹی وی پروگرامز اورایک بیان سے میں دباﺅ میں آجاﺅں گی یہ درست نہیں رپورٹنگ حقائق کے مطابق ہونی چاہیے میڈیا میں بعض لوگ حقائق کے مطابق رپورٹنگ نہیں کرتے ایک سوال کے جواب میں وزیراطلاعات نے کہاکہ قوم کو مبارک ہو این اے 120 کے عوام نے اس سیاسی جماعت کو ووٹ دیا ہے جس پر وہ یقین رکھتے ہیں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے ملک کو اندھیروں سے دور کیا دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی ملک کی اقتصادی حالت بہتر کی قوم کو سی پیک کاتحفہ دیا جس پر قوم نے اعتماد کیا اور این اے 120 میں بیگم کلثوم نوازک کو منتخب کیا اوراس جماعت کو مسترد کیا جس نے چارسال بعد تسلیم کیاکہ وہ نااہل تھے اس لئے کے پی کے میں کارکردگی نہیںدکھائی انہوں نے کہاکہ بیگم کلثوم نواز نے ایک ڈکٹیٹرکیخلاف کارکنوں کے ہمراہ کھڑے ہوکرمقابلہ کیا بیگم کلثوم نواز کو وزیراعظم یاپارٹی صدر بنانے کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں یہ حقیقت پرمبنی نہیں وہ ایم این اے منتخب ہوئی ہیں اور صحت یابی کے بعد قومی اسمبلی آکر بطور ا یم این اے اپنا کردارادا کریں گی انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان ہے کہ ہم نے چارسال تک دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی نیشنل ایکشن پلان کے مطابق چاروں صوبوں نے بھرپورکردارادا کیا اچھے اور برے دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں دہشت گردی کے واقعات ستائیس سو سے کم ہوکر اب ایک سوساٹھ تک آگئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ واقعات بھی نہ ہوں امن وامان کامعاملہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے ویژن کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جوکوششیں کی گئیں اورجو قربانیاں دی گئیں وہ قابل تحسین ہیں انہوں نے کہاکہ این اے ایک سو بیس میں میڈیا نے انتہائی ذمہ داری کامظاہرہ کیا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بیگم کلثوم نواز شدید بیمار ہیں ان کے دوآپریشن ہوچکے ہیں اور غالباً تیسرآپریشن آج بدھ کو ہے ان کی ساری فیملی اس وقت لندن میں ہے بیگم کلثوم نواز کو جو بیماری ہے ایسی بیماری کسی دشمن کو بھی نہ ہو مریم نوازشریف لندن نہیں جاناچاہتی تھیں لیکن والدہ کی بیماری کے باعث انہیں جانا پڑا وہ جلد واپس آجائیں گی انہوں نے کہاکہ نیب کیسز کے حوالے سے پارٹی پالیسی فیملی اور ہمارے لیگل ایڈوائزر جو فیصلہ کرینگے اس پرعمل ہوگا لیکن ہم چاہتے ہیںکہ جو انصاف ہے وہ ہوتا ہوا بھی نظرآناچاہیے اس سوال کے جواب میں کہ کیاناصرجمال کے پیچھے کوئی اور کردارتھے ؟مریم اورنگزیب نے کہاکہ پہلے تو ناصر جمال کو جواب دینا ہوگا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا یہ کہنا قبل از وقت ہوگاکہ کوئی اس کے پیچھے تھا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ حقیقت ہے کہ این اے ایک سو بیس سے لوگ اٹھائے گئے تھے وہ لوگ کہاںگئے وزیرداخلہ احسن اقبال اس پربیان دینگے آرمی چیف اور وزیراعظم کے بیانات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دونوں کے بیانات میں فرق ہوسکتا ہے لیکن مقاصد ایک ہی ہیں اوردونوں بیانات پاکستان کے موقف کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان نے چار سال دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑی ہے بہت سی قربانیاں دی ہیں عالمی برادری کو دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اسمبلی میں کوریم پورا نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے مسلم لیگ نون کے ایم این ایز شدید صدمے میں ہیں یہ صدمہ ایک دودن میں ختم نہیںہوسکتا ہر ایم این اے اس سے محبت کرتاہے پوری قوم صدمے کی حالت میں ہے کہ انہیں اقامے پرنااہل کیاگیا جبکہ الزامات کچھ اور تھے انہوں نے کہاکہ برطانیہ میں اگر رکن اپنے حلقے میں بھی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں ہی تصورکیاجاتاہے مگر ہمارے ہاں قوانین مختلف ہیں کور م کے مسئلے کو پارٹی اختلافات سے نہ جوڑا جائے یہ انفرادی ذمہ داری ہے۔ چودھری نثار کے بیان کے سوال پر انہوں نے کہاکہ اس کا جواب چودھری نثارہی دے سکتے ہیں۔مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چودھری نثار کے بیانات کس تناظر میں دیئے۔ وہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ چودھری نثار کا اپنا ایک نظریہ ہے یقیناً وہ اس کو بیان کررہے ہیں۔ اگر چودھری نثار خود جواب دیں تو بہتر ہوگا۔
توانائی منصوبوں بارے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے عوام کو بڑی خوشخبری سُنادی
لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پینے کا صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور پنجاب حکومت نے یہ حق شہریوں کو لوٹانے کیلئے اربوں روپے کی لاگت سے ایک بڑا پروگرام بنایا ہے، لہٰذا متعلقہ محکموں اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پروگرام پر عملدرآمد کیلئے پیشہ وارانہ انداز اور یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے امو رکا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروگرام پر عملدرآمد کیلئے ساﺅتھ اور نارتھ پنجاب صاف پانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور ان کمپنیوں کو آپس میں قریبی کوآرڈینیشن کے تحت کام کرنا ہے۔ دونوں کمپنیوں کو تجربات اور مہارت کو ایک دوسرے سے شیئر کرنا چاہیئے اور پروگرام پر یکساں حکمت عملی اپنا کر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے کی عملدرآمد کے حوالے سے مانیٹرنگ انتہائی ضروری ہے۔ متعلقہ محکموں اور اداروں کے مابین مو¿ثر کوآرڈینیشن میں تساہل برداشت نہیں کروں گا۔ فلاح عامہ کے اس بڑے منصوبے میں غلطی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ متعلقہ محکموں اور اداروں کو نتائج دینا ہوں گے، تساہل سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے ذریعے بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے اور ایک ٹیم ورک کے طور پر کام کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد سے وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے ملاقات کی۔ ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اقدار کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔الزام تراشی اور جھوٹ پرمبنی منفی سیاست کرنے والے عناصر کو عوام نے ہر بار مسترد کیا ہے۔ملک محنت، خدمت اور دیانت سے آگے بڑھتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ترقیاتی منصوبے شفافیت، معیار اور رفتار کا شاہکار ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کا چار سالہ دور شفافیت ، دیانت ، امانت اور محنت سے عبارت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے جرمنی کی توانائی کی بین الاقوامی کمپنی کے اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی،جس میں توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کےاگےا۔جرمن کمپنی نے پنجاب میں توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے پر دلچسپی کا اظہارکےا۔وزیر اعلیٰ نے جرمن وفد کے ساتھ جرمن زبان میں گفتگو کی اور جرمن وفد نے وزیر اعلی کی جرمن زبان پر دسترس کی تعریف کی ۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے تیز رفتاری سے اقدامات کے باعث لوڈشیڈنگ میں نماےاں کمی ہوئی ہے۔ توانائی کے متعدد منصوبوں کو برق رفتاری کے ساتھ ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے جس کے باعث ہزاروں مےگاواٹ بجلی سسٹم مےں شامل ہوئی ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے منصوبوں پر انتہائی محنت کے ساتھ کام کیا گیا ہے۔ حکومت نے روایتی ذرائع کے ساتھ متبادل ذرائع سے بھی توانائی منصوبوں کو مکمل کیا ہے اورتوانائی کے منصوبے نہایت شفاف انداز سے مکمل کئے گئے ہیںاور ان منصوبوں کی تکمےل سے گزشتہ کئی برسوں سے ملک پر چھائے اندھیرے ختم ہو رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ گیس کی بنیادپر3600 میگا واٹ کے پاورپلانٹس ریکارڈ مدت میں مکمل کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے توانائی کی مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر 1200میگا وا ٹ کا نیا گیس پاور پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اورگیس سے بجلی کے حصول کے منصوبوں سے عوام کو بجلی سستی ملے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے ہمیشہ عوام کی بے لوث خدمت کی ہے اورملک کی ترقی ا ور عوام کی خوشحالی مسلم لیگ(ن) کی سیاست کا نصب العین ہے۔ گزشتہ سوا 4برس سے خدمت خلق کے لئے دن رات ایک کررکھا ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں نے عوام کو ریلیف دیاہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے کی ترقی کے لئے متوازن ترقیاتی پالیسی اپنائی ہے۔ شہری علاقوں کے ساتھ دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وسائل کا رخ پسماندہ او رکم ترقی یافتہ علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے اور جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے آبادی کے تناسب سے زیادہ فنڈز دےئے گئے ہیں۔
ملک سے باہر جاکر اپنے گھر کو بُرا نہ کہیں، دشمنوں کو تقویت ملے گی
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو پاکستان سے باہر جا کر ایسے بیان نہیں دینے چاہئیں کہ ”اپنے گھر کی صفائی کرنی چاہئے“ انہوں نے اپنے اس بیان سے امریکہ و بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے الزامات کو مزید تقویت دی۔ حکومتی پارٹی کے بقول جج و جرنیل ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے وزیراعظم ملک سے باہر جا کر دشمنوں کے الزامات کو تقویت دیں۔ شاہد خاقان عباسی کو خیال رکھنا چاہئے کہ اب وہ گیس کے وزیر نہیں بلکہ وزیراعظم ہیں۔ این اے 120 کے ضمنی لیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہارنے والے تو دھاندلی کا الزام لگاتے ہی ہیں لیکن جیتنے والے کہہ رہے ہیں کہ آج ہماری سپریم کورٹ نے فیصلہ دیدیا۔ یہ کہنا مناسب نہیں کہ ہم جیت گئے ہیں لہٰذا عوام نے فیصلہ دیدیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط تھا۔ عدلیہ و فوج کو چلنے دیا جائے۔ اپنے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے۔ دل کی بات فوج پر منطبق نہیں کرنی چاہئے۔ آرمی چیف نے خود کہا کہ ہمارا پانامہ سے کوئی تعلق نہیں، چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلتی رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب ایک بارڈر ایریا ہے۔ سیالکوٹ سے لے کر صادق آباد تک بارڈر بیلٹ ہے۔ جہاں زیادہ تر آبادی ہے۔ اگر نون لیگ نے فوج کے خلاف ایسا ہی طرز عمل جاری رکھا تو پارٹی میں مضبوط فارورڈ بلاک بنے گا۔ شاید الیکشن سے پہلے ہی ان کے لئے حکومت چلانی مشکل ہو جائے۔ ممکن ہے شریف خاندان میں بھی اختلاف رائے پیدا ہو جائے، باتیں تو پہلے ہی کی جا رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بھائی بھائی کے مقابلے میں کھڑا ہو جائے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اورنگزیب عالمگیر نے تخت نشینی کی جنگ میں کامیابی کے بعد اپنے سگے باپ کو 12 سال قلعے کے برج میں بند رکھا، وہ وہیں مر گیا۔ تخت نشینی ایسی خوفناک چیز ہوتی ہے۔ شہبازشریف، نوازشریف کی بہت عزت کرتے ہیں۔ مشرف دور میں ان کو مائنس نواز وطن آنے کی آفر ہوئی تھی لیکن اس وقت بھی وہ نہیں مانے تھے لیکن آخر کب تک ایسا ہو گا؟ حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے نامزد کیا گیا تھا، جب شہباز شریف وزیراعظم بن جائیں گے۔ حمزہ شہباز 4 سال سے پنجاب میں پارٹی چلا رہے ہیں۔ سارے یہاں فیصلے انہوں نے کئے، تمام ضمنی انتخابات انہوں نے کروائے لیکن این اے 120 میں وہ معلوم نہیں کہاں چلے گئے۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کے ”کسی کے سامنے نہ جھکنے“ کے بیان پر انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے انہیں کوشش کرنی چاہئے تھی کہ تمام سیاسی جماعتیں ان کی عزت و احترام کریں۔ ان کا بیان ثابت کرتا ہے کہ وہ خود فریق بنے ہوئے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں کہ انتخابی اصلاحات کی جائیں اور موجودہ الیکشن کمیشن کو دفع کیا جائے۔ کبھی بھی الیکشن کمیشن کے عملے کو اس طرح دھمکیاں دیتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عائشہ گلا لئی بچوں جیسی باتیں نہ کریں۔ تحریک انصاف وہی مانی جائے گی جس کے سربراہ عمران خان ہوں گے۔ وہ کون سے صاف ستھرے لوگوں کی پی ٹی آئی بنائے گی؟ خود کتنی صاف ہیں؟ ہم نے ان کی بہن کا انٹرویو چھاپا تھا وہ کہتی ہے کہ میں لڑکوں کے ساتھ رہنا زیادہ پسند کرتی ہوں، لڑکیاں مجھے پسند نہیں۔ والد نے انہیں اپنی اس بیٹی کو تو منع نہیں کیا کہ کوچ کے ساتھ مت گھومو، اس وقت اس بات کی غیرت کہاں تھی؟ چار سال تک گندے میسجز کرنے والے کو ایک دن پہلے ملنے گئی۔ شاید امیر مقام سے ملنے اور نقد رقم وصول کرنے کے بعد ان کو یہ خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے معاملات میں چار سال سے الجھی ہوئی ہے، الزامات بھی ہیں کہ نریندر مودی سے دوستیاں ہیں۔ اب امید کی کرن نظر آئی ہے، سوشل میڈیا پر 4 دن سے کچھ لوگوں نے ”فری جونا گڑھ“ کی تحریک شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پاکستان و ہندوستان بن رہا تھا تو جونا گڑھ پر فارمولا یہ طے پایا تھا کہ ریاست کے سربراہ طے کریں گے کہ وہ پاکستان یا بھارت کس کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں؟ جس طرح بہاولپور سمیت مختلف ریاستوں نے بھی الحاق کیا تھا۔ جونا گڑھ انڈیا کے علاقے میں تھا، اس کا کوئی بارڈر پاکستان سے نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنے کا اظہار کیا۔ قائداعظم نے مذاکرات کئے، الحاق کی دستاویزات پر بھی دستخط کر دیئے گئے۔ پھر نڈیا نے بغاوت کی اور بھارتی فوج نے جونا ڑھ پر قبضہ کر لیا۔ بھارت کی ”فری بلوچستان“ کی تحریک پر ”فری جونا گڑھ“ کی جوابی جنگ شروع ہوئی ہے۔ جو فوج یا حکومت نے نہیں بلکہ عوام کے ایک حلقے نے شروع کی ہے۔ انڈیا نے یو این او میں فری بلوچستان کی تحریک بھی جمع کرا دی ہے۔ اب عوام میدان میں نکل آئے ہیں اور بھارتی پروپیگنڈ کے خلاف یہ تحریک شروع کی ہے۔ اگلے مرحلے میں 3 جگہوں پر سکھوں کی تحریک بھی عروج پر پہنچ جائے گی، بہر کا سکھ انڈین حکومت کے خلاف ہے۔ کشمیر میں تو باقاعدہ لڑائی ہو رہی ہے۔ پاکستان نے مشرف دور میں معاہدہ کر لیا تھا کہ ہتھیار، یونیفارم، اسلحہ اور مالی وسائل سمیت کچھ نہیں دیں گے۔ اس وقت مظفرآباد میں موجود جہادی کیمپوں کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان اب چڑی بھی نہیں جانے دیتی۔ کشمیری اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ شہید ہو رہے ہیں۔
آرمی چیف نے درد دل سے بیان دیا 4سال مستقل وزیرخارجہ نہ لگانے سے نقصان پہنچا چینل ۵ پر قلم کاروں کا اظہار خیال
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار توصیف احمد خان نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے حوالے سے بیان اس لئے دیا کہ اب یو این او ان کیلئے اتنی کارآمد نہیں رہی، امریکہ اس سے جو کردار چاہتا ہے وہ یو این او ادا نہیں کر پا رہی، امریکہ نے یو این سے جتنا کام لینا تھا لے لیا اب مقاصد پورے ہونے کے بعد وہ اس پر پیسہ خرچ کرنا اسے ضائع کرنا سمجھتا ہے، ٹرمپ اپنی مقبولیت کو ہر صورت قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ 4 سال وزیرخارجہ نہ لگایا اب بھی نہ بناتے تو زیادہ بہتر تھا اسی لئے کہ وزیرخارجہ نے عجیب باتیں شروع کر دی ہیں۔ آرمی چیف نے دل کا درد بیان کیا کہ چار سال تک وزیرخارجہ نہ لگایا گیا جو ایک مجرمانہ غفلت تھی۔ وزارت دفاع اور داخلہ تو پہلے ہی فوج سنبھال رہی تھی اب وزارت خارجہ بھی اسی کی ذمہ داری بن گئی ہے کیونکہ سول حکومت کی اس جانب توجہ ہی نہیں ہے۔ کلثوم نواز کی بیماری پر عیادت کا پیغام بھیجا گیا جبکہ اس سے قبل گیلانی کا بیٹا اغوا ہوا، گورنر سلمان تاثیر قتل ہوا تو ان واقعات پر تو کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ فوج اب بھی نوازشریف خاندان کو اپنے لئے کارآمد سمجھتی ہے اس لئے ان سے تعلقات بالکل ہی ختم نہیں کرنا چاہتی۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے شاید خطبہ الٰہ آباد مکمل نہیں پڑھا اس لئے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔ معروف تجزیہ کار خالد چودھری نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ہمیشہ طاقتور ممالک کی سنی جاتی ہے فلسطین، کشمیر جیسے بے شمار مسائل ہیں جن پر آج تک کچھ نہیں کہا گیا۔ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت چلتی ہیں۔ اقوام متحدہ جس مقصد کیلئے وجود میں آئی اسے حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ عالمی سیاست تبدیل ہو رہی ہے، امریکہ میں عدالتی نظام بڑا مضبوط ہے۔ آرمی چیف کو سیاسی بات نہیں کرنی چاہئے، انہیں کسی کو مبارکباد یا عیادت کا پیغام دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ میڈیا پر اب ایک خاص ادارے کے تجزیہ کار ہر موضوع پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔ ملک کے تعلیمی نصاب پر نظرثانی کی سخت ضرورت ہے جس سے انتہا پسندی جنم لے رہی ہے۔ میرے نزدیک نجم سیٹھی نے ایسی کوئی غلط بات نہیں کی جسے متنازعہ بنایا جائے۔ معروف صحافی اور تجزیہ کار رحمت علی رازی نے کہا کہ یو این نے آج تک کوئی مسئلہ حل نہیں کیا اس کا بند ہو جانا ہی بہتر ہے، مفادات میں شاید ٹکراﺅ آ رہا ہے جس کے باعث امریکہ بھی خلاف ہو گیا ہے۔ ن لیگ فوج پر الزام لگا رہی ہے کہ اس کے بندے اٹھا رہی ہے، عدالتوں پر بھی دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیئے شخص کی ہدایت پر وزیراعظم اور وزیر خارجہ بیان دے رہے ہیں۔ امریکہ تو ہم پر پہلے ہی الزام لگا رہا تھا ہمارے اپنے وزراءہی الزامات لگائیں گے تو کیا نتائج نکلیں گے۔ ن لیگ فوج کی تضحیک کرتی ہے۔ نجم سیٹھی کی ذہنی صورتحال ٹھیک نہیں ہے اسے علاج کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس سے ہمدردی کرنی چاہئے۔ تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ یو این او کا رویہ مسلم ممالک کے ساتھ ہمیشہ غیر مساوی رہا ہے۔ یو این نے ابھی اپنی افادیت مکمل نہیں کھوئی اور اس کا متبادل بھی نظر نہیں آ رہا۔ امریکہ بجٹ کی آڑ میں اس کا خاتمہ چاہتا ہے۔ وزارت خارجہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ 4 سال بعد اب خواجہ آصف کو وزیرخارجہ لگا دیا گیا جو ایک جونیئر بنکر تھے۔ باہر کے ممالک میں تمام اداروں سے مشاورت کے بعد خارجہ پالیسی بنتی ہے۔ نجم سیٹھی کا بلوچستان میں کردار پاکستان کی سالمیت کے خلاف تھا۔ آج بھی ان کی ہمدردیا بھارت کے ساتھ ہیں، بے سروپا باتیں کرتے ہیں۔
سپاٹ فکسنگ، خالد کی قسمت کا فیصلہ آج
لاہو(نیوزایجنسیاں) اسپاٹ فکسنگ میں معطل کرکٹر خالد لطیف کے کیس کا فیصلہ آج ہوگا تاہم کرکٹر اس موقع پر ٹریبیونل میں نہیں آئیں گے۔خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے کہا ہے کہ وقت کی کمی کے سبب دوسرے شہر سے اتنی جلد آنا ممکن نہیں، سپریم کورٹ میں ٹریبیونل کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ اینٹی کرپشن ٹریبونل آج خالد لطیف کے مستقبل کا فیصلہ سنائے گا، کرکٹر پر کوڈ آف کنڈکٹ کی 5 شقوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھی کرکٹرز کو فکسنگ پر اکسانے کا الزام بھی ہے۔ انہوں نے کئی بار اینٹی کرپشن ٹریبیونل کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے انہیں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ذرائع کے مطابق کرکٹر پر 10سال پابندی کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کئے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث محمد عرفان کو ایک ماہ معطلی کی سزا دے چکی ہے جب کہ خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور سہولت کاری کے ملزم ناصرجمشید کے معاملات ٹریبیونل میں زیرسماعت ہیں۔شرجیل خان کی طرح خالد لطیف پر بھی چار سے پانچ الزامات ثابت ہوئے ہیں اور ان پر 10 سال کی پابندی کا خدشہ ہے۔رواں سال پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے پہلے ہی میچ میں اسپٹ فکسنگ کی باز گشت سنائی دی اور شرجیل خان اور خالد لطیف کو بورڈ نے معطل کردیا تھا۔ذرائع کے مطابق خالد لطیف کی جانب سے بار بار عدالت میں پٹیشن دائر کرنے اور عدم تعاون پر ان کے خلاف شرجیل خان سے زیادہ سخت سزا لاگو کی جاسکتی ہے۔کرکٹ بورڈ کے مطابق خالد لطیف کے ساتھ کرپشن کے لیے روابط کیے گئے، جب کہ ان پر پی سی بی کے محکمہ نگرانی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا گیا۔خالد لطیف اور ان کے وکلا نے ممکنہ پابندی کی صورت میں شرجیل کی طرح فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری کررکھی ہے۔دوسری جانب خالد لطیف کے وکیل بدر عالم نے کہا ہے کہ وقت کی کمی کے سبب دوسرے شہر سے اتنی جلد آنا ممکن نہیں، سپریم کورٹ میں ٹریبیونل کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث محمد عرفان کو ایک ماہ معطلی کی سزا دی چکی ہے، جب کہ خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور سہولت کاری کے ملزم ناصرجمشید کے معاملات ٹریبیونل میں زیرسماعت ہیں۔
بھارتی وکٹ کیپر دھونی ایئرپورٹ کے فرش پر سوگئے
کولکتہ (آئی این پی) بھارت اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیمیں خصوصی پانچ میچز کی سیریز کا دوسرا میچ کھیلنے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پیر کو کولکتہ پہنچ گئیں، جہاں میزبان کھلاڑی ایئرپورٹ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ ایم ایس دھونی کو سونے کیلئے بہانہ اور موقع چاہیے، وہ بیگ سرہانے رکھ کر لیٹ ہی گئے۔ بعدازاں کھلاڑیوں کو ہوٹل پہنچادیا گیا۔خیال رہے کہ دھونی گزشتہ سری لنکا کے خلاف ون ڈے میچ میں گراﺅنڈ میں تماشائیوں کے پتھراﺅ کے سبب کھیل روکے جانے کے دوران پچ پر بھی سوگئے تھے۔چنئی کے پہلے میچ میں فتح کے بعد میزبان ٹیم کافی ریلیکس ہے۔ دوسرا ایک روزہ میچ جمعرات کو کھیلا جائے گا۔ اس لیے کھلاڑیوں نے پیر کے روز آرام کیا۔ ث
آملہ کا پاکستان میں پی ایس ایل کھیلنے کا اعلان
کیپ ٹاون(آئی این پی) ورلڈ الیون میں شامل جنوبی افریقی بلے باز ہاشم آملہ نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے عمدہ اقدام اٹھایا جس کے لئے تمام انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے آزادی کپ کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈ الیون میں شامل جنوبی افریقا کے بلے باز ہاشم آملہ نے دورہ پاکستان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ الیون کے ساتھ پاکستان کا دورہ شاندار رہا جب کہ پاکستانیوں کی مہمان نوازی سے گھر جیسا ماحول محسوس ہوا اور ورلڈ الیون کے میچز کیلئے کیے گئے انتظامات سے پوری طرح مطمئن رہا۔ہاشم آملہ نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلیے عمدہ کام کیا ہے جس سے وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان پر دنیا کا اعتماد بھی بحال ہو جائے گا ۔جب کہ پی ایس ایل سیریز کے دوران ٹیسٹ کرکٹ میں مصروف ہوں گا، اگر فارغ ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان سپر لیگ نہ کھیلوں۔ہاشم آملہ نے کہا کہ جنوبی افریقا لیگ میں لاہور قلندرز کا حصہ بن کر اچھا لگا ہے، لاکھوں کھلاڑیوں کیلیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد کرنا آسان کام نہیں لیکن اس کے باوجود لاہور قلندرز نے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد کیا جس سے نئے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا مواقع میسر آئیں گے۔
انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے مستقبل کی تیاریاں شروع کردیں
ممبئی (بی این پی )انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کے درمیان قربتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اب وہ ان قربتوں کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔انوشکا شرما اور ویرات کوہلی اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔لیکن اپنے رشتے کو نام دینے سے متعلق نہیں بلکہ مشترکہ جائیداد خریدنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اپنے اپنے شعبوں میں سپر اسٹارز کا جوڑا پہلے ہی ایک ساتھ کاروبار کرچکا ہے دونوں نے مشترکہ طور پر ممبئی میں جائیداد خریدی ہے لیکن اب اسے مزید فروغ دینے کے لیے دونوں نے نئی دلی میں بھی بھی ایک ساتھ سرمایہ کاری کی ہے یہی نہیں بلکہ دونوں نے شراکت داری میں ایک ریسٹورینٹ بھی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ ویرات کوہلی نے ہمیشہ انوشکا کے لیے اپنے جذبات ظاہر کیے ہیں لیکن انوشکا نے کبھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔
سہواگ پاکستانی صارف کے ہاتھوں بے عزت ہوگئے
نئی دہلی ( آن لائن ) بھارتی ٹیم کے سابق اوپنر وریندر سہواگ عمومی طور پر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر دیگر کھلاڑیوں کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں تاہم گزشتہ روز وہ خود ایک ٹویٹ کرنے پر پاکستانی سوشل میڈیا صارف کے ہاتھوں ”ذلیل “ ہوگئے۔وریندر سہواگ نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ” ہر کسی کو صفائی مت دو، آپ انسان ہو ،واشنگ پاﺅڈر نہیں“۔وریندر سہواگ کے اس ٹویٹ پر ایک پاکستانی صارف نے ان کا ”توا “ بجاتے ہوئے لکھا کہ ” ہر وقت اچھی باتیں مت کرو،آپ سہواگ ہو انسان نہیں “۔
عزت‘ شہرت کسی شارٹ کٹ سے نہےں بلکہ محنت سے حاصل کی‘
لاہور(شوبز ڈیسک) فلم سٹار مےرا نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کو مےرے سےکنڈلز بنانے کا شوق ہے ‘مجھے جو عزت اور شہرت ملی ہے وہ کسی شارٹ کٹ سے نہےں بلکہ محنت سے حاصل ہوئی ہے ۔ اپنے اےک انٹر وےو مےں مےرا نے کہا کہ مےں کسی سے لندن مےں ملوں ےا دوبئی مےں ےہ مےرا ذاتی مسئلہ ہے مجھے سمجھ نہےں کچھ لوگوں کو کےوں مجھ سے ہر وقت تکلےف رہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مےری اپنی زندگی ہے مےں اس کو اپنی مر ضی سے گزاروں گی کسی کو مےری ذاتی زندگی مےں مداخلت کا حق نہےں اےسا کر نےوالوں کو منہ توڑ جواب دوں گی ۔


















