تہرا ن(ویب ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس شعبے کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکو مت دو سرکردہ اپوزیشن راہنماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کے بعد انہیں پھانسی دینے یا کم سے کم عمر قید کی سزا دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس اہلکار جنرل حسین نجات نے ایک ایرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حکومت سبز انقلاب تحریک کے دو سرکردہ قائدین مہدیکروبی اور میر حسین موسوی کے ٹرائل کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا سنائی جا سکے۔خیال رہے کہ میر حسین موسوی اور مہدی کروبی دونوں کئی سال سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔جنرل نجات نے کہا کہ اگر میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کا ٹرائل شروع ہوتا ہے تو ان کی نظر بندی ختم کر دی جائے گی۔ اس حوالے سے اعلیٰ قومی سلامتی کمیٹی میں بھی غور کیا گیا ہے۔مہدی کروبی ایرانی پارلیمنٹ کے تین بار اسپیکر رہ چکے ہیں جب کہ میر حسین موسوی ایران کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ دونوں 2011ء4 سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں۔ ایرانی حکومت سبز انقلاب تحریک چلانے کی پاداش میں انہیں مسلسل نظر بند رکھے ہوئے ہے۔ ان پر الزام ہے کہ سنہ 2009ء4 کے صدارتی انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف انہوں نے بڑے پیمانے پر ملک میں پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔میر حسین موسوی اور مہدی کروبی نے الزام عائد کیا تھا کہ 2009ء4 کے صدارتی انتخابات میں سرکاری سرپرستی میں دھاندلی کرائی گئی۔ دھاندلی کے نتیجے میں محمود احمدی نڑاد ملک کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ایرانی انٹیلی جنس عہدیدار نے کہا کہ حکومت نے نظر بند راہنماؤں کے سامنے رہائی کے لیے سنہ 2009ء4 کے مظاہروں کی معافی مانگنے کی شرط رکھی تھیمگر انہوں نے معافی مانگے سے انکار کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔جنرل نجات کا کہنا ہے کہ اگر مہدی کروبی اور میر حسین موسوی سے جبری نظربندی اٹھائی جاتی ہے تو اس سے ان کے خلاف ٹرائل کی راہ ہموار ہوگی اور ان کا معاملہ عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔ عدالت کی طرف سے انہیں سزائے موت یا کم سے کم عمر قید کی سزا کا قوی امکان موجود ہے۔واضح رہے کہ مہدی کروبی نے 25 اگست کو اپنی طویل بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ انہوں نے گھر پر فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی تعیناتی کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ حکومت نے ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے گھر سے فوج ہٹا دی تھی۔
Monthly Archives: September 2017
ماہرہ خان کی کمر پر نشان بارے اصل حقائق سامنے آگئے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی خوبرو اداکارہ اور بالی وڈ اداکار رنبیر کپور کی تصاویر جو سوشل میڈیا پر تنقید کا باعث بنی ہوئی ہیں جن سے متعلق مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اس موقع پر حمزہ علی عباسی نے ماہرہ خان کے حق میں انتہائی عجیب بیان دیا ہے کہ ماہرہ کی کمر پر نشان مثانہ ختم کرنے کے باعث پڑا جو رنبیر کے ساتھ نیویارک کے ہوٹل میں سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ رنبیر اور ماہرہ خان کی تصاویر دیکھنے کے بعد ہر کوئی ماہرہ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور کمر کے نشان کسی خفیہ تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ مگر ماہرہ خان کے ساتھی اداکار حمزہ علی عباس نے یہ وضاحت پیش کی ہے کہ ان کی کمر پر نظر آنے والے نشان سے متعلق کوئی غلط گمان نہ کیا جائے بلکہ یہ ماہرہ کے مثانہ ختم کرنے کے دوران ہونے والے آپریشن کے باعث پڑا ہے واضح رہے کہ حمزہ علی عباسی کی بہن ڈاکٹر ہیں اور ماہرہ خان نے اس نشان سے متعلق ان کی بہن سے تذکرہ کیا تھا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر رنبیر کپور اور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو نیویارک کے ہوٹل میں لی گئی نازیبا تصویروں کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرہ خان اور رنبیر کپور کی اخلاق باختہ تصویروں سے پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کو ان کے ساتھی اداکاروں سمیت ان کی چاہنے والی عوام نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد ان کے دفاع کے لئے رنبیر کپور بذات خود میدان میں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرہ پر جس طرح تنقید کی جا رہی ہے وہ بے جا اور غلط ہے۔ رنبیر کپور نے کہا کہ لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ماہرہ کے بارے میں غلط رائے قائم کریں۔ تاہم رنبیر کپور نے اپنے چاہنے والوں سے ریکوئسٹ کی کہ وہ ان کے اور ماہرہ خان سے متعلق غلط پروپیگنڈہ نہ کریں اور ان سب باتوں کو بھلا دیں۔
تمام افواہیں دم توڑ گئیں, پاکستان کی جانب سے سابق سپہ سالار بارے سعودی حکومت کا اہم ترین مطالبہ منظور
اسلام آباد(این این آئی) وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ روایتی آپریشنز اسلامی فوجی اتحاد کے مینڈیٹ میں شامل نہیں جبکہ مذکورہ اتحاد کے مینڈیٹ میں دہشت گردی کو شکست دینا، رکن ممالک میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد، خفیہ معلومات کا تبادلہ، دہشت گردوں کی مالی امداد کو روکنا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کوفروغ دینا شامل ہے۔وزیر دفاع نے پاک فوج کے سابق جنرل راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر سینیٹ کو اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ وزارت دفاع کو راحیل شریف کو فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے این او سی جاری کرنے کے حوالے سے سعودی عرب کی درخواست 14 فروری 2017 کو وزارت خارجہ کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو وزارت دفاع کی جانب سے جنرلز ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کے ساتھ 18 اپریل 2017 کو طریقہ کار وضع کرنے کیلئے زیر غور لایا گیا۔وزیر دفاع نے تحریری طور پر بتایا کہ راحیل شریف کو ٹی او آرز طے ہونے سے قبل فوجی اتحاد کی کمانڈ سنبھالنے کے لیے این او سی جاری کیا گیا اور تاحال ٹی او آرز کو حتمی شکل دینے سے متعلق مذکورہ کانفرنس منعقد نہیں ہوئی۔انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ اسلامی فوجی اتحاد کا مقصد دہشت گردی کو شکست دینا ہے جبکہ روایتی آپریشنز فوجی اتحاد کا مینڈیٹ نہیں اور اسلامی فوجی اتحاد ابھی تک تشکیل کے مراحل میں ہے۔وزیر دفاع نے جواب میں بتایا کہ سعودی حکام نے معلومات فراہم کی ہیں کہ اس اتحاد کا مقصد صرف دہشت گردی پر قابو پانا ہے لہذا ٹی او آر کا تعلق دہشت گردی کے خاتمے سے ہوگا اور ٹیاو آرز کو اتحاد کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کی کانفرنس کے دوران حتمی شکل دی جائیگی۔
حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر بڑا حملہ, گھمسان کارن پڑ گیا
جدہ (ویب ڈیسک)سعودی عرب کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے پیٹریاٹ میزائل کی مدد سے یمن سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے فضاء میں تباہ کردیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل داغا جسے خمیس مشیط کی فضائی حدود میں تباہ کردیا گیا ہے۔’العربیہ‘ چینل کے ایک ذریعے کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے ایک کارروائی کے دوران یمن میں میزائل حملوںکے لیے استعمال ہونے والے ایک لانچنگ پیڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔سعودی عرب پر یمنی علاقوں سے بیلسٹک میزائل حملے کی حالیہ ناکام کوشش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یو این جنرل اسمبلی سے خطاب کے جواب میں کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ایران، یمنی باغیوں کو میزائل اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ادھر یمنی فوج نے حوثی ملیشیا کے زیر استعمال ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ واقعہ الجوف گورنری میں پیش آیا۔ رواں ہفتے میں اپنی نوعیت کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔یمن کے محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق فوج نے المتون ڈاریکٹوریٹ کے حام محاذ پر تصاویر اتارنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔
خواجہ آصف نااہلی کیس, بڑی خبر آگئی
اسلام آباد (این این آئی) خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے درخواست ہائیکورٹ میں سماعت کیلئے مقرر،لارجر بنچ تشکیل دیدیا گیا،سماعت 26 ستمبر کو ہو گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لارجر بنچ جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس حسن اورنگزیب پر مشتمل ہے ¾3 رکنی لارجر بنچ 26 ستمبر کو درخواست کی سماعت کرے گاجس میں پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار نے موقف اختیار کیا کہ خواجہ آصف جولائی 2011 سے غیر ملکی کمپنی کے مستقل ملازم ہیں اور 50 ہزار درہم ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں،وزیر خارجہ کا ورک پرمٹ 2019 تک کاہے، بطور وزیر وہ غیر ملکی کمپنی میں نوکری نہیں کر سکتے،خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی میں اپنا اقامہ ظاہر نہیں کیااس کے علاوہ وہ منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کی نااہلی کیلئے درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی اور لارجر بنچ تشکیل دیدیا ہے جو 26 ستمبر کو سماعت کرےگا۔
غائب ہونیوالے کارکنوں کی انکوائری بارے نوازشریف کا بڑا بیان سامنے آگیا
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ این اے 120 ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی جیت میرے مو¿قف کی تائید ہے جب کہ پاکستان کے حالات عجیب رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ این اے 120 میں عوام کی جانب سے بہت پذیرائی ملی جب کہ لاہور کا ضمنی الیکشن میرے مو¿قف کی تائید ہے اور جی ٹی روڈ پر جو باتیں کیں وہ میرا ا صولی مو¿قف ہے۔ انہوں نے کہا کہ این اے 120 سے لاپتہ کارکنوں سے متعلق وزیراعظم کو کہا ہے اور لاپتہ کارکنوں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات سے متعلق سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ مشاورت ہوتی رہتی ہے اور آئندہ بھی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی تیسری سرجری بھی کامیابی سے ہوگئی ہے اور وہ صحت یاب ہو رہی ہیں۔ واضح رہے نواز شریف اپنی اہلیہ کی علالت کے باعث شاہد خاقان عباسی ا قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد لندن پہنچے جہاں ا نہوں نے نواز شریف سے ملاقات میں اہم معاملات پر مشاورت بھی کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسحاق ڈار چند روز میں استعفیٰ دے دیں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسحاق ڈار استعفی دینے کے بعد لندن میں قیام کریں گے۔ وزیرخزانہ کو سمن ہائی کمیشن کی جانب سے کل پہنچائے جائیں گے۔ سابق وزیر اعظم نے میڈیا نمائندوں سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض فرقہ وارانہ سوچ کی حامل جماعتوں کے امیدواروں کی این اے 120 کے الیکشن میں شرکت ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے، سیاست میں یہ رجحان خطرناک ہو سکتا ہے۔ وطن واپسی اور نئے چیئرمین نیب کی تقرری سے متعلق سوالات کے جواب میں سابق وزیر اعظم بولے، ابھی اسے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر لیگی قائدین نے لندن کا رخ کر لیا۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو امریکہ کے دورے پر تھے، گزشتہ رات لندن پہنچے۔ شہباز شریف بھی لندن پہنچ گئے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور دیگر رہنماءپہلے ہی سے لندن میں موجود ہیں جہاں لیگی رہنماءسر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور اہم فیصلے کر رہے ہیں۔ آج حسن نواز کے دفتر میں ہونے والی اہم بیٹھک میں عدالتی کیسز، پارٹی صدارت اور ملکی سیاسی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے ہوئے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے لندن پہنچنے کے بعد اگلے چوبیس گھنٹے میں نون لیگ کے بڑوں کی ایک اور اہم بیٹھک متوقع ہے جس میں اہم فیصلوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار آئندہ چند روز میں وزیر اعظم کو اپنا استعفیٰ بھجوا دیں گے اور وطن واپس نہیں آئیں گے جبکہ میاں نواز شریف اگلے تین سے چار ماہ لندن ہی میں رہیں گے۔ دوسری جانب بیگم کلثوم نواز کے متعلق بھی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ آئندہ چار سے چھ ماہ سفر نہیں کر سکیں گی جس کے باعث شاید این اے 120 کا الیکشن دوبارہ کرانا پڑے اور امکان ہے کہ یہ الیکشن شہباز شریف لڑیں گے اور پھر انہیں قومی اسمبلی سے وزیر اعظم منتخب کروایا جائے گا۔
پٹرول کی قلت, متعدد پٹرول پمپس بارے سب سے اہم خبر
لاہور ( کامرس رپورٹر )صوبائی دارلحکومت مےں سات روز گزر جانے کے باوجود بھی لاہوریوں کو پٹرول کی قلت کا سامنا، متعدد پٹرول پمپس بند، پمپ مالکان نے شہریوں کو سپر پٹرول کی بجائے ہائی اوکٹین پٹرول دینا شروع کر دیا۔شہر میں پٹرول کی قلت کی وجہ سے لوئر مال کے تین، اپر مال اور علامہ اقبال روڈ کا ایک، ایک فلنگ اسٹیشن بند ہوگیا۔تفصےلات کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر پٹرول پمپ کے بند ہونے کی وجہ سے شہریوں کو پٹرول کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری پٹرول کے لیے قطاروں میں لگ کر خوار ہوتے رہے۔شہر میں ایک بار بھر سے پٹرول کا بحران سر اٹھانے لگا۔ سیکرٹری جنرل پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن خواجہ عاطف کا کہنا تھا کہ لاہور میں پٹرول کی طلب 30 لاکھ لٹر جبکہ سپلائی صرف 15 لاکھ لٹر ہے۔ پمپ بند ہونے اور سپلائی بر وقت نہ پہنچنے کی وجہ سے پٹرول کی سپلائی آدھی رہ گئی ہے۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قلت پر جلد از جلد قابو پایا جائے تاکہ انہیں پٹرول کے حصول لے لیے خواری کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قلت پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر کے تمام فلنگ سٹیشنز پر پٹرول کی سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے
سی پی این ای ارکان کی ضیا شاہد سے ملاقات، صحافیوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال
بہاولپور (بیورو رپورٹ) چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ میڈیا گروپ ضیا شاہد و کرنل (ر) محمد مکرم خان اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی و مخدوم ناصر بخاری کی بہاولپور میں سی پی این ای کے اجلاس میں آمد ‘ سی پی این ای کے اجلاس میں سی پی این ای اراکین سے ملاقات ‘صحافت کے پیشہ کو درپیش مشکلات اور خطہ کی محرومیوں بارے تبادلہ خیال۔ اجلاس میں ”خبریں“ میڈیا گروپ کے اراکین کے علاوہ سی پی این ای اراکین احمد خان بلوچ ‘ہمایوں گلزار اور اکمل چوہان کی شرکت۔ سی پی این ای کے اجلاس میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ خطہ کی محرومیوں کو اجاگر کرنا صحافی برادری کا اولین فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاول پور ڈویژن کو ہر دور میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی اصل وجہ مخلص لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ انہوں نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس خطہ میں صحافیوں کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے لیکن عوامی مسائل کو اجاگر کرنا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ خطہ میں تعلیمی اداروں اور دیگر سہولیات عباسیہ خاندان کی مرہون منت ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام سے قبل خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا لیکن بد قسمتی سے ذاتی مفادات علاقے کی ترقی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 70سال گزرنے کے باوجود بہاول پور ڈویژن میں کسی ضلع کا مزید اضافہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں پسماندگی کی وجہ سے یہاں سے بڑے اخبارات کا اجراءآج تک نہ ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل کے حل کے لیے صحافی برادری کو متحد ہو کر مسائل اجاگر کرنے ہوں گے اور ارباب اختیار کی توجہ مبذول کرانی ہو گی ۔ قبل ازیں چیف ایڈیٹر ”خبریں ‘ ‘ضیا شاہد کی بہاول پور آمد پر انہیں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے خوش آمدید کہا جن میں ”خبریں“ ٹیم بہاول پور کے ساتھ ساتھ نوابزادی سائرہ عباسی ‘شعبہ تدریس سے وابستہ سدرہ ناز ‘محکمہ پولیس و دیگر معززین کی طرف سے پھول پیش کیے گئے۔
”بہاورلپور ڈویژن ہر دور میں نظر انداز ہوا،مخلص قیادت کا فقدان ہے“ چیف ایڈیٹرخبریں ضیاشاہد کا بہاولپورپریس کلب میں ”میٹ دی پریس“ سے اہم خطاب
بہاولپور (بیورورپورٹ) چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ میڈیا گروپ اور صدر سی پی این ای جناب ضیا شاہد نے سی پی این ای کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطہ کی محرومیوں کو اجاگر کرنا صحافی برادری کا اولین فریضہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہاول پور ڈویژن کو ہر دور میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے جس کی اصل وجہ مخلص لیڈر شپ کا فقدان ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس خطہ میں صحافیوں کو اَن گنت مسائل کا سامنا ہے لیکن عوامی مسائل کو اجاگر کرنا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں تعلیمی ادارے اور دیگر سہولیات عباسیہ خاندان کی مرہون منت ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام سے قبل خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا لیکن بد قسمتی سے ذاتی مفادات علاقے کی ترقی کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹ بنے رہے۔ انہوں نے کہا کہ 70سال گزرنے کے باوجود بہاول پور ڈویژن میں کسی ضلع کا مزید اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خطہ میں پسماندگی کی وجہ سے یہاں سے بڑے اخبارات کا اجراءآج تک نہ ہو سکا ۔انہوں نے کہا کہ پروفیشنل ایڈیٹرز ختم ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ چیک بک والے ایڈیٹرلیتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پروفیشنل جرنلزم کو فروغ دیا ہے اور چیک بک صحافت کی نفی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند افراد نے لفافہ کے نام پر پیشہ کو بد نام کر دیا ہے اور ورکنگ جرنلسٹ کےلئے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چھ ہزار 5سو افراد کو ملازمتیں فراہم کی ہیں اور آگے بھی خدمت کرتا رہوں گا۔ انہوںنے کہا کہ خطے کے مسائل کے حل کےلئے صحافی برادری کو متحد ہو کر مسائل اجاگرکرنے ہوںگے اور ارباب اختیار کی توجہ مبذول کراناہوگی۔ اجلاس میں کرنل (ر)محمد مکرم خان، سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی، مخدوم ناصر بخاری، سی پی این ای اراکین احمد خان بلوچ، ہمایوں گلزار اور اکمل چوہان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں صحافت کے پیشہ کو درپیش مشکلات اور خطہ کی محرومیوں بارے تبادلہ خیال کیاگیا۔
لندن میں پارٹی قیادت اور نیب مقدمات بارے کوئی بات نہیں ہوئی
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرِاعظم نے نیویارک جاتے ہوئے اور واپسی پر سابق وزیراعظم سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے نیویارک سے واپسی پر لندن میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف سے ہونے والی تفصیلی ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ملاقات کے دوران پارٹی قیادت اور شریف خاندان پر قائم نیب مقدمات سے متعلق امور زیرِ بحث نہیں آئے۔ وزیرِاعظم کی میاں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وزیرِاعظم کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز بھی موجود تھے۔ تاہم باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران گزشتہ روز سینٹ میں منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات کے بل کے تناظر میں پارٹی کی قیادت کے حوالے سے امور زیرِ بحث آئے اور ملاقات میں شریف خاندان پر چلنے والے نیب کے مقدمات پر بھی باہمی مشاورت کی گئی۔
بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، ملیحہ لودھی
نیو یارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکاردھوکا اورجارحیت ہے اوربھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی سے سشما سوراج کی تقریرکے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارت کوسیزفائرکی خلاف ورزی سے روکے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا، بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندرمودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہا، بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، بھارت دہشتگردی کوریاستی ہتھکنڈے کے طورپراستعمال کرتا ہے جب کہ بھارت کومذاکرات کیلیے دہشت گردپالیسی ترک کرنا ہوگی۔کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، کشمیرپربھارتی قبضہ غیرقانونی ہے، مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، پاکستان تمام مسائل کاحل مذاکرات سے چاہتا ہے، کشمیرمیں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیئں اورفریقین تنازعہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے ہرپڑوسی سے جنگیں لڑیں اورقائداعظم پرتنقید کرنے والوں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت بہتان تراشی پراترآیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکاردھوکا اورجارحیت ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پامال کررہا ہے جب کہ بھارت نے اپنے ہرپڑوسی سے جنگیں لڑیں اوربھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت بند کرے۔
کرپٹ حکومت نے ملک کو نقصان پہنچایا،قانون کے پیچھے نہیں چھپنے دینگے
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سینئر قانون دان بابر اعوان سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور قانونی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا، اور الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی فنڈنگ کی تفصیلات کے حوالے سے بھیجے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا فیصلہ کیاگیا، ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور قانونی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، عمران خان نے کہا کہ کرپٹ حکومت ملک کو نقصان اور ایک ہی خاندان کو فائدہ پہنچا رہی ہے جبکہ ہم پاکستان کا عالمی وقار بحال کرینگے، بابر اعوان کی جانب سے کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے ادارے مضبوط کئے اور آئین کی رکھوالی کی اور ہم کرپٹ مافیا کو قانون کے پیچھے چھپنے نہیں دینگے، دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پارٹی فنڈنگ کی تفصیلات کے حوالے سے عمران خان کو بھیجے گے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور عمران خان کی جانب سے بابر اعوان کو 25ستمبر کو شوکاز کا جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی
سنجے دت کی سنی لیون کے ساتھ کام کرنے کی خواہش
ممبئی (شوبز ڈیسک) فلم بھومی کے ہدایت کاراومنگ کمارکا کہنا ہے کہ سنجےدت بھارتی شوبز انڈسٹری کی آئٹم گرل سنی لیون کے ساتھ آئٹم نمبر ٹرپی ٹرپی میں پرفارم کرنے کے خواہشمند تھے تاہم انہیں بڑی مشکل سے باز رکھا۔بالی ووڈ کی بے باک اور بولڈ اداکارہ سنی لیون کے ساتھ کام تو تمام اداکار کرنا چاہتے ہیں لیکن اس بات کو کوئی بھی برملا اظہار نہیں کرتا ، تاہم سنجے دت نے نہ صرف سنی لیون کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا بلکہ وہ اس بات پر اڑ گئے کہ وہ کم سے کم ایک گانے میں تو ان کے ساتھ پرفارم کریں گے تاہم ہدایت کار اومنگ کمار نے بڑی مشکلوں سے سنجے دت کو باز رکھا کیونکہ فلم کی کہانی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ گانے میں شامل نہ ہوں ۔برطانوی میڈیا کے مطابق سنی لیون کا شمار بالی ووڈ کی مشہور اداکاراں میں ہوتا ہے لیکن وہ آج تک کسی بھی فلم میں بڑا اور مرکزی کردار حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں اورفلموں میں صرف آئٹم نمبرز یا چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتی ہیں، فلم بھومی کے ہدایت کار امنگ کمار سے جب اس بارے میں پوچھا گیا کہ سنی لیون کے ساتھ کوئی بھی کام کرنے کے لیے تیار نہیں کیا بالی ووڈ اداکاروں کو ان کے ساتھ کام کرنے میں شرم آتی ہے۔؟اس سوال کے جواب میں اومنگ کمار نے کہا کہ جو لوگ اس طرح سوچتے ہیں وہ دوہرے معیار کے مالک ہوتے ہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ کوئی ان کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتا وہ ایک باصلاحیت اداکارہ ہیں یہاں تک کہ بالی ووڈ کے صف اول کے اداکارعامر خان بھی ان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں اور سنجے دت نے خود مجھ سے سنی لیونی کے ساتھ گانے میں پرفارم کرنے کی بات کی تھی۔


















