اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں1 روپے 82پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی، نرخوں میں کمی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی جس سے ساڑھے 22 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ تفصیلات کے مطابق نیپرا نے بجلی کے نرخوں میں 1 روپے 82پیسے فی یونٹ کی منظوری کا اعلان کردیا یہ کمی بجلی کے نرخوں میں اگست کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کی گئی ہے بجلی کے نرخوں میں کمی سے عوام کو ساڑھے 22ارب روپے کا ریلیف ملے گا (سی پی پی اے) نے اگست کے بلوں میں ریلیف دینے کی درخواست دائر کی تھی نرخوں میں کمی کا اطلاق 300یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہوگا۔
Monthly Archives: September 2017
”باپ کی جگہ گورو“ خواجہ سراﺅں کی بھی آخر کار سنی گئی
لاہور (خصوصی رپورٹ) خواجہ سراﺅں کی کوششیں رنگ لے آئیں‘ لاہور ہائیکورٹ نے شناختی کارڈ بنانے کا قانونی حق دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے نارووال کے خواجہ سراءمیاں آسیہ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ سراﺅں کو شناختی کارڈ بنانے کا قانونی حق دے دیا۔ خواجہ سراءشناختی کارڈ پراپنے باپ کی جگہ گرو کا نام لکھوائیں گے جبکہ گرو اپنے چیلوں کے نام نادرا میں درج کروانے کا پابند ہوگا۔ دوسری جانب خواجہ سراﺅں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کے حوالے سے نادرا نے بھی پالیسی لاہور ہائیکورٹ میں پیش کر دی ہے جس کے مطابق خواجہ سراﺅں کو شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے‘ جبکہ دوسری طرف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے خواجہ سراﺅں اور قیدیوں کیلئے مفت تعلیم کا اعلان کر دیا۔ منصوبے کے تحت خواجہ سراﺅں اور قیدیوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کیلئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ سنٹرل اور کوٹ لکھپت جیل میں خصوصی امتحانی مراکز قائم کئے جائیں گے جبکہ ان جیلوں میں موجود قیدیوں کو مفت کتابیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ خواجہ سراﺅں کو بھی مفت تعلیم فراہم کرنے کیلئے بغیر قیمت کے پراسپکٹس دیئے جائیں گے۔ ان پر داخلہ کیلئے عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔
مہلت مل گئی
کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ ہائیکورٹ نے امریکہ سے لڑکیوں کی تعلیم کے 7 ارب کے معاہدے اور فنڈز میں کرپشن سے متعلق سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کیلئے 16اکتوبر تک مہلت دے دی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز نے جون 2016ءمیں مشل اوباما کے ساتھ امریکہ میں پریس کانفرنس کی۔ نیوز کانفرنس میں”لیٹ گرلز لرن“ مہم کا اعلان کیا گیا۔ دو لاکھ لڑکیوں کی تعلیم اور بہبود کا معاہدہ سردخانے کی نذر ہوگیا۔ نیب سے سات ارب روپے کے فنڈز کی تحقیقات کرائی جائے۔ پوچھا جائے مریم نواز نے سرکاری عہدے کی بغیر کس حیثیت میں معاہدہ کیا۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے معاہدے ”لیٹ گرلز لرن“ اور فنڈز کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت داخلہ اور دیگر کو خط لکھ دیئے ہیں جواب کا انتظار ہے۔ عدالت نے جواب کیلئے 16 اکتوبر تک مہلت دے دی۔ درخواست میں وفاقی وزارت خزانہ، مریم نواز اور نیب کو فریق بنایا گیا ہے۔
بختاور کا ٹویٹ, عمران خان کو کونسا لقب دیدیا, جان کر سب ششدر رہ گئے
لاڑکانہ (خصوصی رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں کبھی ان ماﺅں سے پوچھا جنہوں نے اپنے اکلوتے بچے کھوئے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عمران خان کے گزشتہ روز دیئے گئے بیان کے ردعمل میں دیا ۔ عمران خان نے طالبان سے مذاکرات کے حق میں بیان دیا تھا بختاور بھٹو زرداری نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان خان ہمیشہ طالبان ہی رہتا ہے عمران خان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں مذاکرات سے پہلے ان متاثرین اور ماﺅں سے پوچھو جنہوں نے اپنے پیاروں کو اور اپنے اکلوتے بیٹوں کو کھویا ان تمام ماﺅں اور متاثرین سے پوچھو کہ کیا ہم قاتلوں سے مذاکرات کر سکتے ہیں ؟ پھر طالبان خان مذاکرات کی بات کریں۔
مولانا فضل الرحمن کی شاعری نواز شریف بھی محفوظ ہوتے رہے
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)سابق وزیر اعظم نواز شریف اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کشت زعفران میں تبدیل کردی۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کے بعد جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ان سے پنجاب ہا ﺅس اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں مسلم لیگ کے کئی رہنما بھی شریک تھے نجی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کے سامنے سید حنیف اخگر ملیح آبادی(مرحوم)کی شاہکار غزل سے شعر دل پہ جو گزرنا ہے گزر جائے مگر ۔۔۔۔آپ یونہی زلف برہم کو سنوارے جائیے پڑھا تو وہاں موجود سابق وزیر اعظم سمیت تمام افراد داد دینے لگے۔اس موقع پر موجود سینیٹر مشاہد اللہ خان بھی چپ نہ رہ سکے اور انہوں نے جواب میں شاعر آغا حشر کاشمیری کا شعر تیرے بکھرے بکھرے گیسو انہیں لاکھ تم سنوارو ۔۔۔۔ میرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی سنایا تو پوری محفل میں کشت زعفران پھیل گیا اور سب کے چہرے کھل اٹھے۔
حافظ سعید کی جماعت ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن بارے چونکا دینے والی خبر, وزارت داخلہ کا حیرت انگیز جواب
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) وفاقی وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے معاملے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اپنے مو¿قف سے آگاہ کرتے ہوئے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی مخالفت کر دی ہے۔ منگل کو وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو 21ستمبر کے خط کے جواب میں خط تحریر کرتے ہوئے آگاہ کیا گیا ہے کہ حساس اداروں نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن پر تحفظات ظاہر کئے کیونکہ ملی مسلم لیگ کے صدر سیف اللہ خالد جماعة الدعوة سے نظریاتی وابستگی کا اقرار کر چکے ہیں‘ خط میں مزید تحریر ہے کہ لشکر طیبہ پر 2002ءسے پابندی عائد ہے‘ جماعة الدعوة اور فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن پر بھی پابندیاں عائد ہیں اور ان تنظیموں کو بین الاقوامی پابندیوں کا بھی سامنا ہے جبکہ ملی مسلم لیگ کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر سفارتی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ خط میں خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سیاست میں تشدد اور انتہاپسندی کو فروغ دے گی۔ خط کے اختتام پر وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی مخالفت کی ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 21ستمبر کو خط لکھ کر ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے معاملے پر وزارت داخلہ سے 11اکتوبر تک جواب طلب کیا تھا اور مقررہ تاریخ تک جواب نہ آنے کی صورت میں فیصلہ کرنے سے آگاہ کیا تھا۔ یاد رہے کہ ملی مسلم لیگ کے وکیل راجہ عبدالرحمن ایڈووکیٹ نے الیکشن کمیشن کو بتایا تھا کہ وزارت داخلہ جان بوجھ کر جواب دینے میں تاخیر کر رہی ہے‘ وہ نہیںچاہتے کہ ہماری جماعت رجسٹرڈ ہو۔ وفاق اس خط کا جواب نہیں دے گا اور اس میں مزید تاخیری حربے استعمال کریں گے۔
بہشتی دروازہ کھُل گیا, زائرین کا جم غفیر
پاکپتن (خصوصی رپورٹ) عرس بابا فرےدالدین مسعود گنج شکرؒ کے مو قع پر گز شتہ روز بہشتی دروازہ کھول دیا گیا۔ اس موقع پر دیگر مزاروں کے سجادہ نشین، علماءاور ہزاروں افراد موجود تھے۔ دس محرم کی صبح بعد نماز فجر بہشتی دروازہ آئندہ سال کے لےے بند کر دےا جاتا ہے۔
چین راضی ہوگیا, لاہوریوں کیلئے بڑی خوشخبری
لاہور (خصوصی رپورٹ) چین کے بینک نے صاف پانی منصوبوں کیلئے 47ارب کا قرض دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیراعلیٰ کی دعوت پر لاہور آنے والے چینی وفد نے صوبائی محکمہ ترقیاتی بورڈ اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ چینی وفد کو مختلف پراجیکٹس پر قرضے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی جس پر ایشین انفراسٹرکچر بینک نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کیلئے آسان شرائط پر قرضہ دینے کیلئے گرین سگنل دے دیا ہے۔ محکمہ ہاﺅسنگ کے حکام کے مطابق چینی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک پنجاب حکومت کو لاہور میں تین ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ایک سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کیلئے 47ارب روپے کا قرض دے گا۔ محکمہ ہاﺅسنگ حکام کے مطابق بی آر بی کینال پر 250یو ایس ملین ڈالر سے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا جس میں جرمنی کے بعد چین بھی قرضہ دینے کیلئے رضامند ہو گیا ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ شادباغ‘ محمودبوٹی اور شاہدرہ میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر 186ملین یو ایس ڈالر خرچ ہوں گے۔
میاں صاحب کو بھی پرویز مشرف کی یاد ستانے لگی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آمرانہ دور میں دہشت گردی کی عدالتوں میں سزائیں پانے کے بعد بھی مجھے 2,2 اپیلوں کا حق حاصل تھا لیکن آج اس جمہوری دور میں مجھے اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آمرانہ دور میں دہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں پانے کے بعد بھی مجھے 2,2 اپیلوں کا حق حاصل تھا لیکن آج اس جمہوری دور میں مجھے اس حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک عدالت نے پہلے پٹیشن کو فضول اور ناکارہ قرار دیا اور پھر اسی عدالت نے مقدمے کی سماعت شروع کر دی۔ کوئی ثبوت نہ ملا تو اسی عدالت نے پراسرار طریقے سے جے آئی ٹی بنا دی اور اسی عدالت نے اس جے آئی ٹی کی نگرانی بھی سنبھال لی۔ اسی عدالت نے کبھی پانچ اور کبھی تین معزز جج صاحبان کے ساتھ فیصلے بھی سنا دئیے اور پھر اسی عدالت نے نیب کو حکم دیا کہ اپنے سارے ضابطے توڑ کر براہ راست ریفرنس دائر کرو۔ پھر اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول بھی سنبھال لیا، پھر وہی عدالت احتساب کورٹ کی نگران بھی بن گئی اور اگر ضرورت پڑی تو یہی عدالت میری آخری اپیل بھی سنے گی۔ کیا ایسا ہوتا ہے انصاف، کیا اسے کہتے ہیں قانون کی پاسداری، کیا آئین کا آرٹیکل 10 اے یہی کہتا ہے، کیا شفاف ٹرائل اسے ہی کہتے ہیں، میں نے وکلاکنونشن میں 12 سوالات اٹھائے تھے، ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر ایک بھی سوال کا جواب نہیں مل سکا ہے۔
بھارت میں 19علیحدگی پسند تحریکیں پاکستان انہیں کیوں نہیں اُچھالتا
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز تجزیہ کار توصیف احمد خان نے چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نوازشریف آج عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے دھواں دار پریس کانفرنس بھی کر ڈالی۔ یہ معاملہ مولوی تمیز الدین سے شروع ہوا اور آج نوازشریف تک آ گیا ہے جب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا ہے۔ نوازشریف اس پر اعتراض کر رہے ہیں نوازشریف نے اگر اپنا رویہ ایسا ہی رکھا تو انارکی پھیلے گی۔ سوئیزرلینڈ ایک آزاد حکومت سمجھی جاتی ہے، وہاں بلوچستان کی آزادی کے بینر لگوانے میں کیا وہاں کی حکومت ملوث ہو سکتی ہے؟ ملیحہ لودھی نے غلط تصویر دکھا کر پوری دنیا میں ہمارا مذاق اڑایا۔ بھارت، پاکستان کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہمسائے ہم سے ناراض ہیں۔ خالد فاروقی نے کہا میاں محمد نوازشریف کو خود کو مولوی تمیز الدین سے موازنہ نہیں کرنا چاہئے ان کی آئینی اور قانونی حکومت کو ختم کیا گیا۔ جبکہ نوازشریف کو کرپشن پر نااہل قرار دیا گیا۔ مولوی تمیز الدین اور نوازشریف میں کوئی موازنہ نہیں۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کے ساتھ بہت رعایت کی، وہ تو نااہل ہونے کے باوجود عیش کر رہے ہیں۔ میاں نوازشریف اداروں پر اعتماد نہیں کرتے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے سامنے غلط بیانی کی۔ وہ عدلیہ کے سامنے سچائی پیش کرنے سے قاصر رہے۔ آج انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنانے سے پرہیز کیا۔ نوازشریف نااہل ہو چکے اب ان کے ساتھی توہین کر رہے ہیں۔ سیاست میں این آر او ہوا کرتے ہیں۔ لیکن اگر نوازشریف کے ساتھ این آر او ہو گا تو جیل میں پڑے ہر قیدی کے ساتھ این آر او کرنا پڑے گا۔ نوازشریف اگر مخلص ہیں تو اپنے اثاثے قوم کے سامنے رکھ دیں۔ سوئیزرلینڈ میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے بینر لگوانے کے پیچھے بھارت کی ایجنسی را تھی۔ لیکن ہماری حکومت اس کو رکوا نہیں سکی۔ بھارت میں 19 علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، ہم انہیں کیوں نہیں اوپن کرتے۔ خالد چودھری نے کہا ذوالفقار علی بھٹو کو قیدیوں والی وین میں لایا جاتا تھا۔ نوازشریف صاحب کو گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ عدالت آئے۔ ان کے گارڈ مسلح تھے۔ لوگوں میں تاثر ہے کہ پنجاب کے لوگوں کے ساتھ اور سلوک ہو گا۔ اور چھوٹے صوبوں کے لیڈروں کے ساتھ سلوک اور ہو گا۔ جونیجو کو نکالنے میں کس کا ہاتھ تھا۔ بینظیر بھٹو کو فارغ کیا گیا ان کے پیچھے کون تھے نوازشریف نے پریس کانفرنس کے ذریعے عدالتوں پر چڑھائی کی۔ نوازشریف نے فیصلہ کر لیا ہے، تخت یا تختہ۔ آج کا نوازشریف بدل چکا ہے۔ ضیاءالحق کے دور کا نوازشریف نہیں ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اندرخانے مفاہمت ہو چکی ہے۔ اگر این آر او ہوتا ہے تو جج، وکیل اور تمام ادارے ہی کرپٹ ہوں گے عوام مایوس ہوئے تو انارکی پھیلے گی۔ امجد اقبال نے کہا اس وقت دو کیس چل رہے ہیں۔ ایک عدالتوں کے اندر اور دوسرا عدالت کے باہر۔ عدالت کے اندر نوازشریف ہار چکے ہیں۔ اب وہ عدالت کے باہر خود کو معصوم ظاہر کر کے عوام میں مقدمہ جیتنا چاہتے ہیں۔ باہر کا کیس اندر کے کیس کو متاثر نہیں کر سکتا۔ عدالتیں فیصلے دیتی رہیں گی۔ بھارت والے سوئیزرلینڈ میں پاکستان کے خلاف، بلوچستان کی علیحدگی کے بینر لگوا کر خود پھنس گیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے لوگوں کو نیا راستہ دکھا رہا ہے۔ کچھ تنظیموں نے تو کام شروع بھی کر دیا ہے ابھی خالصتان نے بھی آگے آنا ہے۔ حکومت اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر کرے اور اچھے طریقے سے اپنا مقدمہ لڑے۔
12شہداء کی ابھی تک ڈی این اے رپورٹ تک نہیں آئی, چیف ایڈیٹر خبریں ضیاشاہد کی سانحہ احمد پور شرقیہ کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی
احمد پور شرقیہ (رپورٹ: عبیداللہ راجپوت) چیف ایڈیٹر ضیاشاہد نے اپنے ایک روزہ دورے کے موقع پر سانحہ احمد پور شرقیہ کے شہدا کے قبرستان نذیر آباد محراب والا گئے اور مرحومین کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ ان کے ہمراہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات و سنیٹر محمد علی درانی، نواب بہاول خان عباسی اور چیئرمین یونین کونسل نذیر آباد محراب والا سردار زبیر خان لاشاری تھے جب ضیاشاہد قبرستان پہنچے تو وہاں پر موجود شہدا کے لواحقین اور سینکڑوں افراد موجود تھے جنہوں نے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کے دورہ پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا اور زارو قطار دھاڑیں مار کر اپنے پیاروں کےلئے رونے لگے جس پر چیف ایڈیٹر ضیاشاہد بھی آبدیدہ ہو گئے۔ اس موقع پر یونین کونسل نذیر آباد محراب والا سردار زبیر خان لاشاری کی قیادت میں لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اتنا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک مکمل لواحقین کو چیک نہیں ملے اور میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف نے نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا اس پر عمل درآمد آج تک نہیں ہو سکا ہے۔ 12 شہدا کے ابھی تک ڈی این اے ٹیسٹ رپورٹ بھی نہیں آئی ہے لواحقین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ مزید برآں انہوں نے بتایا ہے کہ حکومتی ارکان اسمبلی بھی اس بارے خاموش ہیں اور مقامی انتظامیہ نے بھی چپ سادھ رکھی ہے ہماری آواز تخت لاہور تک پہنچائی جائے۔ اس موقع پر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ لواحقین کے ساتھ بھونڈہ مذاق کیا جا رہا ہے ہر سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کےلئے آ جاتا ہے لیکن لواحقین کےلئے کوئی مالی امداد نہیں ہو رہی ہے، صرف فوٹو سیشن ہو رہے ہیں۔ نواب بہاول خان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت لواحقین کےلئے امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے اور ان کےلئے مشکلات کم کرے جو خاندان محروم رہ گئے ہیں ان کےلئے حکومت فوری نوٹس لے۔ چیف ایڈیٹر ضیاشاہد نے اس موقع پر لوگوں کے مسائل سنے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ لواحقین کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جائے گا اربابِ اختیار اور حکمران اس پر نوٹس لیں اور سانحہ احمد پور شرقیہ کی جگہ پر یادگار تعمیر کرے اور قبرستان کو پختہ بنائے اور شہدا کے ورثاءکو نوکریاں دی جائیں میاں برادران سے اس بارے جلد ملاقات کروں گا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ محمد طیب خان نے اپنا مو¿قف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ سانحہ احمد پور شرقیہ کے شہداءکے لواحقین کو 20-20 لاکھ روپے کی مالی امداد کے چیک مل چکے ہیں۔ ابھی تک چند افراد کے ڈی این اے نہیں آئے ہیں۔ رپورٹ ملتے ہی انہیں چیک مل جائیں گے اور سرکاری نوکریوں کے بارے میں کمنٹس نہیں دے سکتا۔ اس موقع پر سردار زبیر خان لاشاری اور متاثرین افراد نے چیف ایڈیٹر ضیاشاہد کو حکومت کی طرف سے درج ہونے والی ایف آئی آر پیش کی اور احتجاج کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نذیر آباد محراب والا کے 39 نامزد اور 145 نامعلوم افراد کے خلاف ناجائز مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں سانحہ احمد پور شرقیہ کے شہداءکے لواحقین بھی شامل ہیں ان پر سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں جبکہ نذیر آباد علاقہ کچی آبادی پر مشتمل ہے اور لوگ 1938ءسے قیام پذیر ہیں جنہیں مالکانہ حقوق ملنے چاہئیں مگر حکومت نے سانحہ احمد پور شرقیہ کے چند دن بعد ہی مقدمہ درج کرایا۔ لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے انہیں ایف آئی آر کا تحفہ دیا گیا جوکہ افسوسناک ہے۔ اس پر ضیاشاہد نے انہیں انصاف دلوانے کی یقین دہانی بھی کرائی جس پر عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
دیویابھارتی کی چھوٹی بہن نے سوشل میڈیا پر کھلبلی مچادی
ممبئی(ویب ڈیسک)ماضی کی نامور اداکارہ دیویا بھارتی کی بہن کائنات اروڑا کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، کائنات اپنی بڑی بہن مرحومہ دیویا بھارتی سے خوبصورتی میں کسی طرح بھی کم نہیں ہیں۔نوے کی دہائی کی نمبرون اداکارہ دیویا بھارتی اداکاری کے ساتھ خوبصورتی کے لیے بھی بے حد مشہور تھیں، دیویا بھارتی نے بہت کم عمری میں بالی ووڈ میں اپنی پہچان بنائی اوربہت جلد اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کراس دنیا سے چلی گئیں تاہم ان کی چھوٹی بہن کائنات اروڑا دیویابھارتی سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں۔کائنات اروڑا کو چارو اروڑا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 2 دسمبر 1982 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کائنات کو بہت کم لوگ جانتے ہیں، کائنات دیویا بھارتی کی کزن ہیں، انہوں نے نئی دہلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنا لوجی سے اکنامکس میں گریجویشن کیا ہے۔
ویسے تو بالی ووڈ میں آج تک کوئی بھی دیویا بھارتی کی جگہ نہیں لے سکا لیکن کائنات خوبصورتی کے معاملے میں کسی بھی طرح دیویا بھارتی سے کم نہیں ہیں، کائنات اپنی بہن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بالی ووڈ میں کیرئیر بنانا چاہتی ہیں اوراب تک ہندی، تامل اور تیلگو سمیت متعدد فلموں میں کام کرچکی ہیں۔کائنات نے 2010 میں فلم ”کھٹا میٹھا“ میں شامل ایک گانے میں پرفارمنس کرکے بالی ووڈ میں ڈیببیوکیا تھا، اس کے علاوہ انہوں نے فلم ”گرینڈ مستی“”من کاٹھا“،”لیلیٰ او لیلیٰ“اور رام گوپال ورما کی فلم”سیکریٹ“میں بھی کام کیا ہے،تاہم آج تک اپنی بہن کی طرح نام بنانے میں ناکام رہی ہیں۔واضح رہے کہ فلموں میں انٹری سے قبل کائنات مختلف اشتہارات میں ماڈلنگ بھی کرچکی ہیں
30لوگوں کو کھانے والے آدم خور میاں بیوی نے دہشت پھیلادی،علاقہ میں خو ف و ہراس
ماسکو(ویب ڈیسک) روس میں ایک آدم خور جوڑے نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے کم ازکم 30 افراد کو مار کر انہیں اپنا نوالہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے گھر میں مرنے والوں کے اعضا جمع کرنے اور ان کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کا اعتراف بھی کیا ہے۔پولیس نے آدم خور خاندان کے گھر سے 8 بڑے انسانی اعضا دریافت کرنے کی تصدیق کی ہے جبکہ مزید شواہد کے لیے گھر کے چپے چپے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس خونی واقعے کے مرکزی ملزم 35 سالہ دمیتری بکشیو ہیں جس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ 1999 سے انسانوں کو مار کر کھا رہا ہے۔ یہ خاندان جنوبی روس کے علاقے کراسنوڈر میں مقیم تھا اور اس شخص کی بیوی 42 سالہ نتالیہ ایک نرس ہیں جو خود اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔پولیس نے گھر کی تلاشی کے دوران بعض تصاویر اور ’آدم خوری کے اسباق‘ سکھانے والی ویڈیوز بھی برآمد کی ہیں۔ نتالیہ کو گرفتار کر کے فوری طور پر اس کا نفسیاتی تجزیہ کرایا گیا تو انکشاف ہوا کہ آدم خور ذہنی اور نفسیاتی طور پر مکمل صحت مند ہے۔دمیتری بکشیو اور اس کی بیگم نے فریج اور فریزر کے علاوہ برتنوں اور مرتبانوں میں انسانی گوشت بھی جمع کر رکھا تھا۔ فریج سے انسانی اعضا کی 7 تھیلیاں بھی ملیں جن میں منجمند گوشت موجود ہے۔ اس کے علاوہ گھر سے مرنے والوں کی جلد کے 19 بڑے ٹکڑے بھی برآمد ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ معمولی دباو¿ پر آدم خور جوڑے نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔ سب سے پہلے 12 ستمبر کو ایک گھر کے تہہ خانے سے خاتون کے اعضا برآمد ہوئے تھے جو ایک بالٹی اور شاپنگ بیگ میں موجود تھے جبکہ دوسرے بیگ میں خاتون کی دیگر اشیا رکھی تھیں۔دمیتری کی ایک خاتون کے سر کے ساتھ تصاویر بھی ملی ہیں۔ اسی طرح ان کے گھر کے پاس کام کرنے والے مزدوروں کو ایک موبائل فون ملا جس میں اس شخص کی انسانی اعضا کے ساتھ سیلفی لی گئی تھی۔ اسی طرح 28 دسمبر 1999 کو لی گئی ایک تصویر میں انسانی سر ایک پلیٹ پر رکھا ہے اور اطراف میں نارنگیاں دھری ہوئی ہیں۔ اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ آدم خور خاندان گزشتہ 18 برس سے لوگوں کو شکار کر رہا ہے۔آدم خور جوڑے نے اپنے شکار کو کوروالول نامی دوا پلا کر بے ہوش کرنے کا اعتراف کیا اور اس کے بعد وہ انہیں آسانی سے کاٹ کر کھاتے تھے۔ پولیس نے دونوں کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔


















