پاکستان :(ویب ڈیسک ) پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف سب سے بڑی شکایت مقدمات کی تاخیر سے تکمیل کے حوالے سے ہے جبکہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایک مقدمے کا فیصلہ آنے میں اوسطاً 15 سے 20 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اس حوالے سے جب بی بی سی نے سپریم کورٹ کے ذیلی ادارے لا اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان (ایل اینڈ جے سی پی) کے سیکریٹری ڈاکٹر رحیم اعوان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ سارا الزام عدلیہ پر لگتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ عدلیہ پر خود کتنا دباو¿ ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’آپ کسی بھی چھوٹے کورٹ کے ایک بھی جج کا ریکارڈ اٹھا لیں تو نظر آئے گا کہ انھیں ایک دن میں 150 سے 200 کیس سے نمٹنا ہوتا ہے جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ اگر تمام کیسز کو سننا ہو تو ان کے پاس فی کیس صرف ڈیڑھ منٹ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسی حالات میں جج کیا کرے گا، اس کے پاس تو سانس لینے کا بھی وقت نہیں بچے گا
Trending
- روبن آبزرویٹری نے ہزاروں سیارچے دریافت کر لیے
- سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ گیا، محمد اورنگزیب
- چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی تصاویر وائرل
- پاکستان نیوی نے بحری بیڑے میں جدید پی این ایس خیبر شامل کر لیا
- پاسداران انقلاب کا تل ابیب میں موساد کا ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ
- انفلوئنسر نے اداکار علی رضا پر تعلقات اور بے وفائی کا الزام لگادیا
- پیٹرولیم مصنوعات مہنگی؛ سندھ حکومت نے سبسڈی کی تفصیلات جاری کردیں
- پی ایس ایل: جڑواں شہر اسلام آباد اور راولپنڈی آج پہلی مرتبہ مدمقابل آئیں گے

