دورہ صدر اشرف غنی کی دعوت پر ہورہا ہے‘کابل سے تجارتی راہداری پر بات چیت ایجنڈے کے مرکزی نکات میں شامل ہے‘دونوں راہنماافغان امن عمل، دوطرفہ تعلقات پربھی بات کریں گے.حکومتی ذرائع
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی کی دعوت پر کل ایک روزہ دورے پر کابل روانہ ہوں گے دفترخارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ 2018 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ وزیر اعظم کا افغانستان کا پہلا دورہ ہوگا. بیان میں کہا گیا کہ ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم برائے مشیر برائے تجارت رزاق داﺅد اور دیگر اعلی عہدیدار بھی ہوں گے اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم کے پروگرام میں صدر اشرف غنی کے ساتھ ون آن ون ملاقات، وفد کی سطح پر بات چیت اور مشترکہ پریس اسٹیک آﺅٹ شامل ہیں.
اس ضمن میں بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل، علاقائی ومعاشی ترقی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا دفتر خارجہ کے مطابق مشیر تجارت رزاق داﺅد وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان سے متعلق پہلے ہی کابل کا تین روزہ دورہ مکمل کرچکے ہیں اور انہوں نے دوطرفہ اور سرمایہ کاری کے تعلقات اور تجارتی راہداری سے متعلق امور پر بات چیت کی تھی.افغان حکومت کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے متعدد اہم شخصیات سے ملاقات کے رزاق داﺅد نے افغان صدر اشرف غنی سے بھی ملاقات کی تھی اور تجارت اور اقتصادی انضمام سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا تھا اپنے دورے کے دوران انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے مابین پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی (اے پی ٹی ٹی سی اے) کے اجلاس میں شرکت کی جس میں راہداری معاہدے پر حائل رکاوٹ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا.افغان حکومت میں ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرنے والے متعدد معززین اور قبائلی زعماءکے ساتھ ملاقات کے علاوہ ، رزاق داﺅد نے صدر غنی سے بھی ملاقات کی تھی اور تجارت اور اقتصادی انضمام سے متعلق متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا تھا. واضح رہے کہ رواں برس جون میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان صدر اشرف غنی اور امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے افغانستان میں آن ون آن ملاقاتوں میں خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا تھا‘عبداللہ عبداللہ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران صدر مملکت عارف علوی ‘وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سمیت اعلی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں.خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کی ہر حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے. وزیر اعظم عمران خان نے پاک افغان تجارت سرمایہ کاری فورم 2020 کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کے افغانستان سے روابط صدیوں سے ہیں تاہم افغانستان میں انتشار کے باعث دونوں ممالک کو نقصان پہنچا پاکستان پرامن افغانستان کا خواہاں ہے.انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو نقصان پہنچا جبکہ افغانستان میں انتشار نے دونوں ممالک میں غلط فہمیوں کو جنم دیا بیرونی دباﺅ سے افغانستان کے عوام پر رائے مسلط نہیں ہوسکتی اب افغانستان کے لوگوں کو اپنے فیصلے خود کرنے ہوں گے. وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ احساس کریں ماضی میں کیا کھویا کیا پایا، انسان ماضی سے سیکھتا ہے ماضی میں رہتا نہیں ہے اور عوامی روابط سے باہمی تعلقات کو فروغ ملتا ہے دونوں ممالک میں عوامی اورسیاسی روابط کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور میری حکومت کی مخلصانہ کوشش ہے کہ دونوں ممالک میں تجارتی تعلقات پیدا ہوں.انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں ترقی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور افغانستان میں امن آنے سے پاکستان اور دیگر ممالک کو بھی فائدہ ہو گا ہمیں ماضی سے نکل کرتجارت، معیشت اور امن کی جانب جانا چاہیے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہم نے بھارت سے دوستی کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے تاہم ہم بھارت سے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش پھر بھی کرتے رہیں گے.
