(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے بہترین بلدیاتی حکومتوں کا نظام لے کر آرہے ہیں۔
فیصل آباد میں برآمد کنندگان اور تاجر برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نظام میں ہر شہر کا الگ الیکشن ہوگا جس میں میئر کو بھی منتخب کیا جائے گا، پہلے کی طرح بلاواسطہ انتخاب نہیں ہوگا کہ یونین کونسل کے انتخاب کے بعد اسے چنا جائے کیوں کہ بدقسمتی سے اس میں پیسہ چل جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میئر کو براہ راست منتخب کیا جائے گا جس کے بعد وہ اپنی کابینہ منتخب کرے گا جس میں ماہرین شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ملک پر اندرونی اور بیرونی قرضہ اتنا زیادہ کبھی نہیں تھا جتنا ہیں 2018 کے پاکستان میں ملا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ماضی کی بات کی جائے تو ملائیشیا، جنوبی کوریا نے پاکستان سے سیکھ کر ترقی کی، پاکستان کی دنیا میں عزت تھی اور ہمارے ادارے ہماری یونیورسٹیز کو دنیا میں مانا جاتا تھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘مشرق وسطیٰ سے لوگ کراچی اپنی چھٹیاں منانے آتے تھے، ہمارے نیچے آنے کی بہت دکھ بھری کہانی ہے، پاکستان میں اس وقت لیفٹ اور رائٹ کی سیاست سامنے آچکی تھی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘1970 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامک سوشلائزیشن کے نام پر قومیانے کی مہم کا آغاز کیا، کہا جاتا تھا کہ پاکستان میں 22 خاندانوں میں پیسہ جمع ہوگیا ہے، ہمیں ایسے قانون بنا کر پیسے غریبوں تک پہنچانے چاہیے تھے تاہم اسے کے بجائے ہم قومیانے پر گئے اور اپنی صنعتوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا’۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کبھی بھی معاشرہ آگے اس وقت تک نہیں بڑھ سکتا کہ کوئی زیادہ منافع کمائے اسے غلط کہہ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جائز کمائیں اور ٹیکس بھی دیں، چینی مافیا نے جس طرح کارٹلائزیشن کی اس کے خلاف کام کرنا چاہیے تاہم جائز طریقے سے نفع بنے گا تو مزید سرمایہ کاری ہوگی’۔

