لندن،کراچی (آن لائن) تھر کے ضلع نگرپار کے پسماندہ علاقے کی دلت برادری سے تعلق رکھنے والی پیپلز پارٹی کی نو منتخب سینیٹر کرشنا کماری کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو اسلام آباد میں بہت بڑی نوکری مل گئی ہے اور اب وہ اسلام آباد چلی جائیں گی۔بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام میں کرشنا کماری نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین کو پتا ہی نہیں کہ سینیٹر کیا ہوتا ہے اور ان کا رکن منتخب ہو جانا کیا معنی رکھتا ہے۔کرشنا کماری نے کہا کہ ان کی برداری کے جو لوگ ان کے گھر انھیں مبارک باد دینے کے لیے آ رہے ہیں ا±ن سے ا±ن کے والدین کا یہ ہی کہنا ہے کہ ا±ن کی بیٹی کو بہت بڑی نوکری مل گئی ہے اور وہ جلد اسلام آباد چلی جائیں گے۔کرشنا کماری نے کہا کہ ان کے گھر والے اور ان کی برداری والے بہت خوش ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔ملک کی سینیٹ میں منتخب ہونے پر کرشنا کماری نے اپنے جذبات اور تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اتنی خوشی ہوئی ہے کہ اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ سب کچھ خواب سا لگ رہا ہے اور وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ وہ سینیٹر منتخب ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھ ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔’کرشنا کماری نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کی یہ سوچ تھی کہ انھیں کوئی اچھی نوکری مل جائے گی اور وہ اپنی برداری کی کچھ خدمت کر سکیں گی۔کرشنا کماری عمرانیات میں ایم اے کی ڈگری رکھتی ہیں اور اپنے علاقے میں سماجی خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ سیاست میں آنے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سیاست میں آنے کے بارے میں جب بھی وہ سوچتی تھیں تو انھیں یہ ہی خیال آتا تھا کہ کبھی موقع ملا تو صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہو کر اپنے علاقے کے پسماندہ اور غریب لوگوں کے لیے کچھ کریں گی۔صوبہ سندھ میں ہندو اقلیت کی بھیل، کوہلی، میگاوار اور اوڈ برادریوں سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت انتہائی غریب ہے اور ان میں خواندگی کی شرح بھی بہت کم ہے۔ سندھ کے ان دور آفتادہ علاقوں میں بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا ایک انہونی سے بات ہے۔ ان علاقوں میں غربت کی وجہ سے لوگوں میں اتنی سکت ہی نہیں ہوتی کہ وہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہروں میں بھیج سکیں۔کرشنا کماری اپنی برداری کے لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیے کچھ کرنے کے عزم سے سرشار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ جرنل سیٹ سے منتخب ہوئی ہیں اس لیے وہ زیادہ مو¿ثر طریقے سے کام کر سکتی ہیں۔کرشنا کماری کو اس بات کا پوری طرح ادراک ہے کہ سینیٹر کا کردار زیادہ تر قانون سازی تک محدود ہوتا ہے اور وہ پارلیمان کے ایوان بالا میں اپنے صوبے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کرشنا نے کہا کہ سینیٹ کا پلیٹ فارم ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کا مو¿ثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے خواتین کی تعلیم اور صحت کو اجاگر کرنے اور انھیں حل کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔کرشنا کماری کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی برداری کے اسی فیصد سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور ان کا اپنی برادری کے لوگوں سے قریبی رابطہ ہے۔ کرشنا کماری کے فون کی رنگ ٹون اپنے وقت کے مقبول ترین قومی ترانے ’سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد‘ ہے۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

