نیویارک : امریکا ایران کشیدگی اور جنگ بندی امکانات پر بڑے پیمانے پر شرطیں لگائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ، روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرز کی ٹریڈنگ کی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی سیاسی حالات اور جنگی خطرات اب صرف سفارتی ایوانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل شرط بازار کا مرکز بن گئے ہیں۔
‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ (AP) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولی مارکیٹ پر جغرافیائی سیاسی واقعات، بالخصوص ایران امریکہ کشیدگی پر اربوں ڈالرز کی شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہنا تھا کہ صارفین کی دلچسپی فوجی کارروائیوں، جنگ کے پھیلاؤ اور جنگ بندی کے امکانات میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے، ایران سے متعلق مختلف پیش گوئیوں پر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرز کی ٹریڈنگ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
صارفین اس بات پر بڑی رقوم لگا رہے ہیں کہ آیا خطے میں مستقل جنگ بندی ہوگی یا فوجی کارروائیوں میں شدت آئے گی۔
پولی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ لانے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، ٹرمپ کے جارحانہ یا غیر متوقع بیانات مارکیٹ میں اچانک تیزی یا مندی پیدا کر دیتے ہیں۔
ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس براہِ راست مارکیٹ کے فیصلوں اور شرطوں کے رجحان کو متاثر کر رہی ہیں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ جونیئر سے منسلک کمپنیاں بھی پولی مارکیٹ کی ان سرگرمیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پولی مارکیٹ جیسی پلیٹ فارمز اب عالمی سیاست کے رخ کو سمجھنے کا ایک نیا ذریعہ بن چکی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ حساس عالمی معاملات پر اس طرح کی بڑے پیمانے پر شرطیں لگانا اخلاقی اور مالیاتی لحاظ سے کئی پیچیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

