واشنگٹن(این این آئی)افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق ادارے سی آئی جی اے آر کے سپیشل انسپکٹر جنرل نے کہا ہے کہ نائین الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد افغانستان کو ایک محفوظ ملک بنانے کے لیے امریکی قیادت کے تحت فوجی کارروائیوں کے 16 سال گذر جانے کے بعد جنوبی ایشیاءکے اس جنگ زدہ ملک کے حالات میں اطمینان بخش بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ افغانستان کے علاقوں پر طالبان قبضہ بڑھتا جارہاہے، صرف اکتوبر کے مہینے میں افغانستان میں موجود 11 ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے جو 2012 کے بعد کسی ایک مہینے میں مہلک بم گرانے کا ایک ریکارڈ ہے اور جو ایک سال پہلے ، اکتوبر کے دوران حملوں سے تین گنا زیادہ ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق افغانستان میں امن و امان سے متعلق ایک حالیہ رپورٹ اس صورت حال کی ایک مایوس کن تصویر پیش کرتی ہے۔افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق ادارے سی آئی جی اے آر کے سپیشل انسپکٹر جنرل نے کہا کہ امریکی فوج کی کارروائیاں افغان حکومت کے اپنے عوام پر کنٹرول کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف اکتوبر کے مہینے میں افغانستان میں موجود 11 ہزار امریکی فوجیوں پر مشتمل فورسز نے دشمنوں کے ٹھکانوں پر 653 بم گرائے جو 2012 کے بعد کسی ایک مہینے میں مہلک بم گرانے کا ایک ریکارڈ ہے اور جو ایک سال پہلے ، اکتوبر کے دوران حملوں سے تین گنا زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جانی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سال کے 11 مہینوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہیں۔ امریکی کانگریس، محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات پر کنٹرول کے لیے 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کی امداد کے باوجود پچھلے سال افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 87 فی صد اضافہ ہوا اور پوست کے زیر کاشت رقبے میں بھی 63 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے کنٹرول کے اضلاع کی تعداد گھٹ رہی ہے جب کہ ان علاقوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جن پر طالبان کا قبضہ یا اثر و رسوخ ہے۔افغان صوبے فرح کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہاں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ طالبان نے کئی سرکاری چوکیاں تباہ کر دی ہیں اور سپائیوں کا ہلاک کیا جانا تقریباً روز مرہ کا معمول ہے۔رپورٹ میں ایشیا فاو¿نڈیشن کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے سروے میں جواب دینے والے 50 فی صد افغان باشندے یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت ہو سکتی ہے اور 16 فی صد رائے دہندگان طالبان کے پر جوش حامی تھے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے سال افغانستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے 167 واقعات ریکارڈ ہوئے۔پچھلے چند دنوں میں دارالحکومت کابل میں تشدد کے بدترین واقعات دیکھنے میں آئے میں ۔ ان تین حملوں میں سوا سو سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

