اسلام آباد(صباح نیوز) سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید نے مارگلہ ہلزپر درختوں کی کٹائی کے از خود نوٹس کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی اور عدلیہ تو حکومت پر اعتماد کرتی ہے مگر حکومت شاید عدالت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں،عدالتی احکامات کو ساس بن کر نہ دیکھا کریں، ججز ڈنڈے لے کر مارگلہ ہلزخالی نہیں کرواسکتے، قانون پر عمل کروانا ہمارا کام ہے ناراض نہ ہوا کریں، سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں، ناکامی ہوئی تو آپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی، اور بھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں، امید ہے میری ان کہی بات سمجھ گئے ہوں گے، بے احتیاطی ریاست کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔بدھ کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے مارگلہ ہلز اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ریاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے، مگر پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی، عدلیہ تو حکومت پر اعتماد کرتی ہے مگر حکومت شاید عدالت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے کبھی کسی منتخب امیدوار کو بھی عدالت نہیں بلایا ، ہم تو منتخب کونسلر کی بھی عزت کرتے ہیں، لیکن جو عوامی نمائندے اور سرکاری افسران کام نہیں کرسکتے وہ استعفیٰ دے دیں، اور جس دن کام نہ کرسکا میں بھی استعفیٰ دے دوں گا، غیر قانونی پلازوں کے مالکان کا پتا کریں تو کارروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آجائے گی، بتایا جائے کہ عدالتی حکم کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کیوں ختم نہیں کی گئیں۔جسٹس عظمت سعید نے وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری سے کہا کہ عدالتی احکامات کو ساس بن کر نہ دیکھا کریں، ججز ڈنڈے لے کر مارگلہ ہلزخالی نہیں کرواسکتے، قانون پر عمل کروانا ہمارا کام ہے ناراض نہ ہوا کریں، سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں، ناکامی ہوئی تو آپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی، اور بھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں، امید ہے میری ان کہی بات سمجھ گئے ہوں گے، بے احتیاطی ریاست کی صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی۔سی ڈی اے کے وکیل منیر پراچہ نے بتایا کہ دھرنے کی وجہ سے پولیس میسر نہیں تھی اس لیے آپریشن نہیں ہوسکا، تعمیرات ہٹانے میں شدید مزاحمت ہوتی ہے اور پولیس کی مدد کے بغیرآپریشن نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہاں پولیس دستیاب تھی وہاں اس نے کیا کرلیا، غیرقانونی تعمیرات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کیا اب غیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت کوئی معاہدہ کرے گی، پھر آخر میں آپ نے یہی کہنا ہے کہ فوج بلادیں۔ وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ عدالت کے گزشتہ حکم نامے میں معمولی غلطی تھی، جسٹس شیخ عظمت سعید ہم تو ہمیشہ غلط آرڈر پاس کرتے ہیں اور فرشتے تو سی ڈی اے والے ہیں۔طارق فضل چوہدری نے تجاوزات ختم کرانے کے لیے عدالت سے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں عدالت کو ایکشن پلان پیش کریں گے۔عدالت نے طارق فضل چوہدری کی استدعا منظورکرتے ہوئے سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کردی۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

