اسلام آباد (7 اپریل 2026): شرمیلا فاروقی نے کہا ہے مہنگے پٹرول پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی غیر ضروری گاڑی چلانے سے گریز کر رہی ہوں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اس وقت خطے میں سب سے مہنگا پٹرول پاکستان میں فروخت ہو رہا ہے۔ بطور رکن اسمبلی میں خود بھی غیر ضروری گاڑی چلانے سے گریز کر رہی ہوں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے مسائل گھمبیر ہو گئے ہیں اور ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان اب رکتا نظر نہیں آ رہا۔ چھوٹی گاڑی رکھنے والا عام آدمی بھی اب پٹرول ڈلوانے سے قاصر ہے۔
پی پی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ایک ماہ کا ریلیف دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ مارکیٹیں اور دکانیں جلد بند کرنے کا فیصلہ بھی محض جز وقتی ہے، حکومت کے کفایت شعاری کے اقدامات دیرپا ثابت نہیں ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 24 گھنٹے میں پٹرول 80 روپے سستا کرنے کے فیصلے پر حیرت ہوئی۔ حکومت بتائے پٹرول مہنگا کرنا درست تھا یا 80 روپے سستا کرنا؟
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ان آرٹیفیشل اقدامات کے بجائے پاکستان کا عام آدمی اب حکومت سے براہ راست ریلیف چاہتا ہے۔ حکومت آئل کمپنیوں سے بات کر کے ان کا کمیشن کم کرائے۔
