پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب میاں اسلم اقبال کی راہداری ضمانت منظور کرلی۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد نے پی ٹی آئی کے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب میاں اسلم کی راہداری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے میاں اسلم کی راہداری درخواست ضمانت منظور کرلی۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار پر اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور میں 18 مقدمات درج ہے۔
جسٹس وقار نے ایڈیشنل اڈوکیٹ جنرل استفسار کیا کہ کیا ان کو 9 مئی کے بعد گرفتار نہیں کیا، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ میاں اسلم نو مئی کے بعد روپش ہو گئے تھے، اب سامنے آنے ہیں، ان کو اپنے خلاف مقدمات کا علم تھا۔
خیال رہے کہ رہنما تحریک انصاف میاں اسلم اقبال کے خلاف مختلف نوعیت کے 21 مقدمات درج ہیں۔
شبلی فراز کی 26 فروری تک ضمانت منظور
دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ نے سینیٹر شبلی فراز کی 26 فروری تک ضمانت منظور کرلی۔
پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس عتیق شاہ نے شبلی فراز کی جانب سے درج مقدمات کی تفصیل کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے شبلی فراز کی 26 فروری تک ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ شبلی فراز کو کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ نے شبلی فراز کو 26 فروری کو پیش ہونے کا بھی حکم دے دیا۔
اس سے قبل شبلی فراز نے محمد انعام یوسفزئی ایڈوکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس میں وفاقی حکومت، چاروں صوبائی حکومتوں اور گلگلت بلتستان حکومت کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ شبلی فراز سینیٹر ہے اور ان کے خلاف سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں، کتنے مقدمات ہیں، تفصیل دی جائے۔

