لاہور (خصوصی رپورٹ) بھارت میں شدت پسند نریندر مودی کی حکومت میں یونیورسٹی کے طلباءکو تشدد کا نشانہ بنایا جانے کا سلسلہ جاری ہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے لیکر بنارس ہندو یونیورسٹی یا حیدر آباد سینٹرل یونیورسٹی میں طلباءکے ساتھ زیادتیوں کی اطلاعات مودی حکومت کی بیڈ گورننس کی عکاس ہے۔ تازہ واقعات وزیراعظم مودی کے حلقہ انتخاب لوک سبھا میں بنارس ہندو یونیورسٹی میں پیش آئے ہیں، تشدد اور پولیس کی زیادتیوں سے بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات متاثر ہوئی ہیں۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کیمپس میں لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور دست درازی کے بڑھتے واقعات کے خلاف طالبات نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کرکے نمائندگی کی کوشش کی تھی مگر ان پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے طالبات کے احتجاج کو تشدد میں تبدیل کرنے کی غلطیوں کا ارتکاب کیا۔ یونیورسٹی طالبات وائس چانسلر جی سی ترپاتھی سے مایوس ہوگئیں تھے جنہوں نے ان سے ملاقات کا وعدہ کرکے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ طالبات خود پر ہونے والی زیادتیوں اور یونیورسٹی حکام کی بے حسی او رلاپروائی کے خلاف پرامن احتجاج کر رہی تھیں۔ طالبات پر پولیس لاٹھی چارج مودی حکومت کے ساتھ ساتھ اترپردیش کی ادتیہ ناتھ یوگی حکومت کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یوپی میں جب سے ہندو شدت پسند آدتیہ ناتھ کی حکومت آئی ہے عوامی مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ اب وارانسی میں قدیم بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلباءبھی پولیس زیادتیوں سے محفوظ نہیں رہے۔ ان لڑکیوں نے کیمپس میں چھیڑ چھاڑ کی شکایت کو اخلاقیات کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے اس لوک سبھا حلقہ کا دورہ کیا تھا عین ان کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی طالبات کے احتجاج کو سیاسی زاویہ سے دیکھنے والے بدبخانہ رویہ اختیار کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اپنی حکومت میں طالبات کے تحفظ میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کا بیٹی بچاﺅ اور بیٹی پڑھاﺅ کا نعرہ اس واقعہ کے تناظر میں اہمیت کھو دیتا ہے۔ چیف منسٹر اترپردیش کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ یوگی نے ایک پرامن ماحول دینے کا وعدہ کیا تھا اور ریاست میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے رومیو اسکواڈ بھی بنایا تھا۔ پولیس کو کامل اختیارات دیتے ہوئے لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کو روکنے کی ہدایت بھی دی تھی لیکن بنارس ہندو یونیورسٹی کی طالبات کا احتجاج اس حکومت کی ناقص کارکردگی کو عیاں کرتا ہے۔ اس تناظر میں میں اگر بنارس ہندو یونیورسٹی کے طالبات کی شکایت کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف جنسی ہراسانی اور طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ نہیں بلکہ طالبات کے تعلیمی مستقبل کو تباہ کرنے والے واقعات ہیں۔ مودی ایک طرف خواتین، بچوں اور طلباءکے مستقبال کو بہتر بنانے کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کے ہی حلقہ لوک سبھا کی یونیورسٹی میں طالبات کوجنسی ہراسانی سے بچانے کے بجائے ان پر پولیس لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

