لاہور (خصوصی رپورٹ) فلسطینی سرزمین پر قابض یہودی انتظامیہ نے فلسطین کی تاریخی مسجد کو شراب خانہ بنادیا۔ صہیونی انتظامیہ نے پرفضا مقام قیساریہ میں واقع جامع مسجد قیساریہ میں 90انواع کی شراب مہیا کرنے کی منظوری دی ہے۔ قدیم ترین مسجد کی تعمیر اموی خلفیہ عبدالملک بن مروان نے کی تھی۔ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع مسجدقیساریہ جامع مسجد تھی جسے 1948ءمیں اسرائیل نے قبضے میںلے لیا تھا۔ مسجد قیساریہ کا نام ان 80مساجد کی لسٹ میں شامل تھا جنہیں سیاحتی مقامات پر واقع ہونے کی بنا پر اسرائیلی انتظامیہ نے شراب خانہ‘ ریستورانوں‘ اصطبل‘ نائٹ کلب اور دیگر سرگرمیوں کے مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسرائیلی انتظامیہ نے قیساریہ جامع مسجد مقبوضہ علاقوں میں ریستوران چلانے والی ایک کمپنی کو ٹھیکے پر دے دیا تھا۔ کمپنی نے مسجد کے اندر تبدیلیاں کرنے کے بعد انٹرنیٹ پر اپنی سائٹ پر اس کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ تصاویر میں یہودی کمپنی کے افراد شراب کی گلاس لئے مسجد کے پاس کھڑے ہیں۔ مسجد قیساریہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح ہوئی تھی۔ قیساریہ مسجد کے اولین معمار اموی خلفیہ عبدالمالک بن مروان تھے جنہوں نے بحیرہ روم کے کنارے واقع اس خوبصورت مقام پر عبادت کیلئے مسجد بنانے کا حکم دیا تھا‘ بعدازاں مملوکی دور میں اس کی دوبارہ مرمت ہوئی۔ تیسری مرتبہ انیسویں صدی عیسوی میں بوسنیا میں آسٹریا کے استبدادی اداروں کے مظالم سے فرار ہونے والے بوسنیائی مسلمانوں نے اس مسجد کی مرمت کی۔ 975ءمیں یہاں بیزنطی قابض ہوئے جنہوں نے فاطمیوں کو شکست دے کر قیساریہ پر قبضہ کیا تاہم کچھ عرصے بعد فاطمی دوبارہ اس علاقے کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہوئے۔ 1101ءتا 1265ءکی درمیانی مدت اس علاقے پر مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان شدید کشمکش رہی۔ 1011ءمیں صلیبی حملہ آوروں نے قیساریہ مسجد اور الناصریہ میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ 1878ءمیں اسرائیلی قبضے کے بعد صہیونی وزیراعظم اسحاق رابین نے الناصریہ سے مسلمانوں کی بے دخلی کا نہ صرف حکم دیا بلکہ وہ خود مسلمانوں کی یہاں سے جبری بے دخلی کی نگرانی کر رہے تھے۔ اسرائیل نے اس جگہ قیساریہ کے نام سے اسرائیلی دولت مند اور کاروباری یہودی بسانے کیلئے ایک پوش بستی بسائی ہے جسے سدوت یام کا نام دیا گیا ہے۔ بعدازاں فلسطینی مسلمانوں نے اس مسجد کی تاریخی حیثیت کے پیش نظر اس کا مقدمہ لڑا اور کئی عالمی فورموں پر مسجد کا مسئلہ لے جا کر ماضی میں انہیں بالآخر ایک مرتبہ کامیابی بھی ہوئی۔ 1993ءمیں اسرائیلی انتظامیہ نے عالمی دباﺅ میں آ کر قیساریہ جامع مسجد کو دوبارہ نماز کیلئے استعمال کی اجازت دے دی تھی جہاں فلسطینی مذہبی رہنما شیخ رائد صلاح نے نماز جمعہ کی امامت کی۔ یہ النکبہ کے بعد اس مسجد میں پہلی نماز تھی۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

