دوحہ (آئی این پی) قطر کے سابق وزیراعظم شہزادہ حماد بن جاسم نے کہا ہے کہ میں پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے قوانین کا نہایت احترام کرتا ہوں‘ مجھے افسوس ہے میرے معاملے کو پاکستان میں غیر ذمہ دارانہ طور پر اچھالا گیا‘ عشروں پر محیط شریف خاندان سے کاروباری تعلق کم کرکے پیش نہیں کیا جاسکتا‘ میں پاکستان کا شہری نہیں نہ ہی وہاں میری کوئی سرمایہ کاری ہے اس لئے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کا پابند نہیں‘ پاکستان میں شریف خاندان جیسے دیانتدار اورعزت دار لوگوں کی قدر نہیں کی گئی شرف خاندان نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ہم وطنوں کے لئے روز گار پیدا کرتا ہیں‘میاں شریف مرحوم دیانت دار اور محنتی شخص تھے ایسے لوگوں کو پاکستانمیں قانونی تحفظ دےناچاہئے تاکہ جو لوگ وطن سے باہرجانے ولے واپس اپنے وطن میں کاروبار کرسکیں، پاکستان میں تنگ ذہن اور سوچ والے لوگ وسعت پیدا کریں اور اس خول سے نکلیں جس میں دوسروں کو برا بھلا کہہ کر وہ سکون حاصل کرتے ہیں، اگر جے آئی ٹی کے اراکین قطر آئے تو میں شریف خاندان کو لکھے گئے خط کے مندرجات کی مکمل تصدیق کرونگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ حماد بن جاسم نے کہا کہ میاں شریف جیسی شخصیت کے کاروبار کو پاکستان میں تباہ کیا گیالیکن وہ بھی کسی مرحلے پر ہمت نہیں ہارے۔ میرے شریف فیملی کے کاروبار سنبھالنے والے نوجوان افراد سے گہرے روابط رہے ہیں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اخلاقیات کے تحت ہمارے پارٹنر اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ رضامندی کے بغیر اپنے کاروبار کی تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتے۔ دنیا بھر میں ہماری جن افراد کے ساتھ بھی پارٹنر شپ ہے وہ اس معاہدے کے پابند ہیں اس لئے پاکستانی وزیراعظم نے اپنی قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اصول اور ضابطے کا احترام کرتے ہوئے ہمارے خاندان کے تعلق کا حوالہ نہیں دیا تھا جس کے بعد ہم نے انہیں رضامندی سے اپنے خاندان کا حوالہ دینے کی اجازت دی۔ انہوں نے پاکستان میں کاروباری رابطوں کے حوالے سے پھیلایا گیا منفی تاثر پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنگ ذہن اور سوچ والے لوگ وسعت پیدا کریں اور اس خول سے نکلیں جس میں دوسروں کو برا بھلا کہہ کر وہ سکون حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہے چھان بین کے بعد دنیا میں کاروباری لوگوں کے ساتھ تعلق استوار کرنا اور وہ اچھے خاندانی لوگ ہیں۔ شرافت اور نیک نامی کا جائزہ لیا جاتا ہے ہماری دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے کاروباری اداروں میں حصہ داری ہے جن میں ہوٹلز اور بڑی بڑی عمارات شامل ہیں۔ شہزادہ حماد بن جاسم نے اعلان کیا کہ پاکستان میں تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر جے آئی ٹی کے اراکین قطر آئے تو میں شریف خاندان کو لکھے گئے خط کے مندرجات کی مکمل تصدیق کرونگا۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

