استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کے حوالے سے تحریری طور پر معافی مانگ لی۔
الیکشن کمیشن میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق عوان کے خلاف پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
فردوس عاشق اعوان نے تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کروا دیا جبکہ تھپڑ کھانے والے پولیس اہلکار کی جانب سے بھی تحریری جواب جمع کرایا گیا۔
بینچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آج کی سماعت کا حکم نامہ بعد میں جاری کرے گا۔
ممبر سندھ نثار درانی نے فردوس عاشق اعوان سے استفسار کیا کہ آپ کون ہوتی ہیں قانون ہاتھ میں لینے والی؟۔
جس پر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میرے حلقے میں 381 پولنگ اسٹیشنز تھے یہ واقعہ کہیں اور نہیں ہوا، اس پولنگ اسٹیشنز پر ٹھپے لگ رہے تھے عجیب سا ماحول تھا، جوا ہوا غلط ہوا میں اس پر معافی مانگتی ہوں، قانون کا کام تھا مجھے تحفظ دیتا ہجوم مجھے ہراساں کررہا تھا، پولیس تماشائی بنی ہوئی تھی لیکن میں معذرت کرتی ہوں۔
ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ ہم آپ سے تھپڑ بازی کی توقع نہیں رکھتے تھے۔
بعدازاں فردوس عاشق اعوان نے تھپڑ مارنے کے حوالے سے تحریری طور پر معافی مانگ لی۔
واضح رہے 8 فروری کو این اے 70 سیالکوٹ کے پولنگ اسٹیشن گورمنٹ ہائی اسکول گنہ کلاں میں ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکار کو فردوس عاشق اعوان نے تھپڑ مارا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

