قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے غیر ملکی خبررساں ادرے کو اہم اںٹرویو میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ کہتا رہا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان ایک بار پھر خبردار کر رہا ہے کہ اگر مغرب نے افغانستان کے حوالے سے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ ایک اور تباہی کی طرف جا رہا ہے، افغانستان کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے جہاں 22.8 ملین افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، پیسہ ہے لیکن افغانستان میں بینکنگ چینلز کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔
ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی ہے، امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ رابطےمیں ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات چاہتا ہے، پاکستان نے جیو اسٹریٹجک سے جیو اکنامکس کی طرف مثالی تبدیلی کی ہے، پاکستان کی اکنامک بیسز پوری دنیا کے لیے کھلی ہیں۔
ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنا پاکستان کا حق ہے کیونکہ کشمیر کے لوگ ہمارے لوگ ہیں، پاکستان اور چین کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، سی پیک پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے اور ہم اسے ہر صورت مکمل کریں گے۔

