اسلامو فوبیا، نسل پرستی کا رحجان دنیا میں بڑھتا چلا جا رہا ہے، لوگ مشتعل ہیں اس بلاجواز حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے. وزیر خارجہ
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے‘شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہیں، شائع کردہ گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے. انہوں نے کہا کہ ہم نے سفیر کے ذریعے اپنے جذبات، حکومت فرانس تک پہنچا دیے ہیں اور حکومت فرانس کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامو فوبیا، نسل پرستی کا رحجان دنیا میں بڑھتا چلا جا رہا ہے، لوگ مشتعل ہیں اس بلاجواز حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے.
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اس مسئلے کی نشاندہی کی، وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں معاملے کی نشاندہی کی انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے رحجانات کو کیسے روکا جائے، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے ہم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امید کرتے ہیں عالمی برادری فی الفور اس مسئلے کا تدارک کرے گی گزشتہ روز دفتر خارجہ نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا عمل مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے گا.فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے شان سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دوبارہ گستاخی کی گئی ہے اور ایک مرتبہ پھر وہی گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے 2015 میں فرانسیسی میگزین کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا. دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایسا عمل مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے گا، آزادی اظہار رائے کے نام پر ایسے عمل کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ میگزین کا ایسا عمل بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کی کوششوں کو متاثر کرے گا.ادھر ترکی کے دفتر خارجہ کے ترجمان حامی آکسوئے نے بھی فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں اور دین اسلام کی بے حرمتی کرنے کی شدید مذمت کرتے کہا کہ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے اس عمل کو پریس یا پھر فن کی آزادی سے تعبیر کیے جانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا. صدر میکرون سمیت فرانسیسی اعلی حکام کی اس معاملے کو آزادی اظہار کے دائرہ کار میں بیان کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں‘ترک دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہر موقع پر اپنے آپ کو ڈیموکریٹ اور آزادی پسند ہونے کے طور پر پیش کرنے والے اسلام اور غیر ملکی دشمنی کو شہہ دینے والی اس قسم کی نسل پرست اور تفریق بازی کی کاروائیوں کو آلہ کار بناتے ہوئے فرانس اور یورپ میں فاشزم اور نسل پرست تحریکوں کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ اس چیز کا بلا شعور دفاع کرنے والے اپنے ہی معاشرے کو نقصان پہنچا رہے ہیں ہم یورپی دوستوں سے حالیہ ایام میں دین اسلام کے خلاف بڑھنے والی کاروائیوں کے خلاف واضح اور قطعی موقف اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہیں. واضح رہے کہ گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردگان نے اس سلسلہ میں انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے واضح طور پر مغربی دنیا کی قیادت سے کہا تھا کہ وہ اس سلسلہ کو روکے ان کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا اور اس طرح کے نفرت انگیزاقدامات سے دنیا بھر کے اربوں مسلمانوں کے جذبات مجروع ہوتے ہیں .
