واشنگٹن (خصوصی رپورٹ) اپنے عہد صدارت کے پہلے روز سے ہی تنازعات اور بحرانوں کے شکار ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے تازہ ٹویٹ پیغامات میں جہاں متعدد متنازعہ تبصرے کئے ہیں وہاں ایک نیا شوشہ چھوڑ کر ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ صدر ٹرپ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدارتی انتخابات میں ان کی انتخابی ٹیم کی روس کیساتھ ملی بھگت کی تفتیش میں اگر ان پر الزام لگا تو ان کے پاس اپنے آپ کو معافی دینے کا ”مکمل اختیار“ ہے۔ قبل ازیں جمعرات کے روز ”واشنگٹن پوسٹ“ نے خبر دی تھی کہ صدر ٹرمپ اپنے معافی دینے کے اختیار کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب صدر ٹرمپ نے نہ صرف اس کی تصدیق کر دی ہے بلکہ ثابت کر دیا ہے کہ معافی کے اختیار کاجائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انہیں اپنے آپ کو معافی دینے کا مکمل قانونی اختیا ر حا صل ہے بلکہ وہ اپنے مشیروں اور خاندان کے ارکان کیلئے بھی اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس دوران سی این این نے ایک پروگرام میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر کو واقعی ایسا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ سی این این کے مبصر نے ایک قانونی و آئینی ماہر مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی میں لا پروفیسر برائن کیٹ سے ا س سوال کا جواب بذریعہ ای میل حاصل کیاہے، جس میں پروفیسر نے لکھا ہے کہ صدر کو مواخذے کے مقدمات کے سوا دیگر معاملات میں امریکہ کیخلاف جارحانہ عمل کرنیوالے افراد کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم ریاست کیخلاف جرائم اور کانگریس میں شروع ہونیوالے مواخذے کا عمل صدر کے معا فی کے اختیار سے باہر ہیں۔ پروفیسر کیٹ سے دوسرا سوال یہ کیا گیا تھا کہ کیا صدر کے اپنے عہدے پر موجود ہونے کے وقت ان پر مقدمہ چل سکتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا میں نے اپنی ایک کتاب میں بھی لکھا تھا متعدد لوگوں نے یہ دلیلیں دی ہیں کہ عہد صدارت کے دوران صدر پر مقدمہ نہیں چل سکتا لیکن یہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے اور اس بحث کے دونوں طرف دلیلیں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ پیغام میں واضح کہا ہے کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ صدر کو معافی دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ پھر ہمیں اس کے بارے میں سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب ہمارے خلاف ابھی تک واحد جرم جو سا منے آیا ہے وہ افشا ہونے کا ہے جوجعلی جز ہے۔ اس طرح میڈیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ جہاں بیرونی تعلقات میں مشکلات کا شکار ہے وہاں داخلی سطح پر بھی بحرانوں میں مبتلا ہے جس کا تازہ اظہار اٹارنی جنرل چیف سیشنز کیساتھ صدر کے اختلافات ہیں، جیسا کہ توقع کی جا رہی تھی ۔ ٹرمپ ٹیم کی روس کیساتھ مبینہ ملی بھگت کا معاملہ بتدریج سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے گمبھیر ہونے کا تازہ ثبوت صدر کا اپنے آپ کو معافی دینے کے قانونی اختیار کا ٹویٹ پیغام میں اظہار ہے۔ صدر ٹرمپ نے دیگر ٹویٹ پیغامات میں اپنی مخالف امیدوار ہلیری کلنٹن کے ای میلز کے معاملے پر ایک بار پھر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اوبامہ کیئر منسوخ کرنے کی اپنی کوششوں کی راہ میں رکاوٹوں پر بھی سخت نکتہ چینی کی۔
ٹرمپ دعویٰ
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

