نئی دہلی (این این آئی) بھارت میں گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے متنازع بل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بل سے غیر منصفانہ طور پر زیادہ تر مسلمان متاثر ہوں گے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل آنند گروور کہتے ہیں کہ اس ترمیمی بل کا مقصد بظاہر مسلمانوں کو ان کے آبائی جائیداد کے حق سے محروم کرنا لگتا ہے، کوئی نہیں جانتا اب کیا ہوگا۔ بھارت نے 1968 میں یہ قانون نافذ کیا تھا جس کے تحت حکومت کو اختیارات دیے گئے تھے کہ وہ ان بھارتی شہریوں کی جائیدادیں ضبط کرسکتی ہے جو جنگ کے دوران چین یا پاکستان چلے گئے تھے۔ بھارت نے ان جائیدادوں کو ”دشمن کی جائیداد“ کا نام دیا تھا۔ راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا ترمیمی بل اگر منظور ہوگیا تو اس کا اطلاق اس وقت سے ہوگا جب اصل قانون منظور ہوا تھا۔ ترمیمی بل میں ”دشمن“ کی تعریف کو مزید وسیع کردیا گیا ہے اور اس میں دشمن قرار دیے گئے شخص کے قانونی وارثوں کو بھی شامل کرلیا گیا ہے چاہے وہ وارث بھارت کا شہری ہو یا کسی ایسے ملک کا جسے بھارت دشمن نہیں سمجھتا۔ خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 2005 میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ بھارت چھوڑ کر جانے والوں کے وہ قانونی وارث جو بھارتی شہری ہیں وہ ”دشمن کی جائیداد“ کی حوالگی کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ محمود آباد کے سابق راجہ کے خاندان کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا تھا جو کہ 1947 میں تقسیم ہند کے دوران بھارت چھوڑ گئے تھے۔بھارتی این ڈی ٹی وی کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہوگیا تو سب سے زیادہ نقصان محمود آباد کے سابق راجہ کے خاندان کو ہوگا جنہوں نے 2005 میں اپنی 900 جائیدادوں کے حق میں سپریم کورٹ سے فیصلہ حاصل کیا تھا۔بھارتی ٹی وی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ قانون کی منظوری کی صورت میں نواب آف بھوپال کی جائیداد بھی حکومتی تحویل میں جاسکتی ہے اور یوں بولی ووڈ اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور ان کے بیٹے فلم اسٹار سیف علی خان بھی جائیداد سے محروم ہوسکتے ہیں کیوں کہ سیف علی خان کے والد منصور علی خان پٹودی کے خاندان کے بھی کچھ لوگ کئی دہائیوں قبل پاکستان منتقل ہوئے تھے۔راجیہ سبھا میں پیش کیے جانے والے ترمیمی بل میں یہ شق بھی رکھی گئی ہے کہ دشمن کی جائیداد سے متعلق معاملے کی سماعت سول عدالت نہیں کرسکے گی۔خیال رہے کہ بھارت کی کل آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 13 فیصد کے قریب ہے اور انہیں زمینوں کے حقوق، جائیداد خریدنے اور کرائے وغیرہ پر دینے کے معاملے میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بھارتی حکومت دشمن کی جائیداد کے قانون کے تحت اب تک 2100 املاک اپنے قبضے میں لے چکی ہے اور یہ جائیدادیں زیادہ تر مسلمان خاندانوں سے واپس لی گئی ہیں اور ان کی مالیت کا تخمینہ 10 کھرب بھارتی روپے (15 ارب ڈالر) بتائی جاتی ہے۔انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل آنند گروور کہتے ہیں کہ اس ترمیمی بل کا مقصد بظاہر مسلمانوں کو ان کے آبائی جائیداد کے حق سے محروم کرنا لگتا ہے، کوئی نہیں جانتا اب کیا ہوگا۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

