لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے پروگرام مرحبا رمضان میں فطرانے کے شرعی احکامات اور اس کی ادائیگی کے حوالے سے مسائل پر روشنی ڈالی گئی۔ علامہ ضیاءاللہ بخاری نے بتایا کہ اسلام اپنے ہر پیروکار کو اللہ کی راہ میںخرچ کرنے والا سخاوت کرنے والا دیکھنا چاہتا ہے۔جس کا رزق تنگ ہوجائے اسے چاہئے تھوڑے رزق میں سے بھی اللہ کی راہ میں حسب استطاعت ضرور دے جس کے نتیجے میں اللہ تھوڑے رزق کو زیادہ کر دے گا۔سخی ویسے بھی اللہ کے قریب ہوتا ہے کیونکہ اس کے دل میں بندوں کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اللہ کی راہ میں اس کے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اسی طرح فطرے اور حکم دیا گیا ہے جس کے مقصد یہ ہوتا ہے کہ روزے کے دوران اگر روزہ دار سے کوئی بھول چوک ہوجائے تو فطرہ اس کا کفارہ بن جاتا ہے جبکہ فطرہ ادا نہ کرنے کی صورت میں روزہ دار کے روزے آسمان اور زمین کے دوران معلق رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ فطرہ ادا نہ کر دے۔صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق نبی کریم نے فطرہ کو فرض قرار دیا ہے۔یہاں تک کہ ایک دن کا بچہ جو عید الفطر سے چاہے ایک گھنٹہ پہلے ہی کیوں نہ پیدا ہوا ہو اس کا فطرہ بھی ادا کرنا لازم ہے۔جس مسلمان کے پاس صبح اور شام کا کھانا ہو اس پر فطرہ فرض ہو جاتا ہے۔فطرہ عید کی نماز سے پہلے پہلے اداکرنا لازم ہوتا ہے اور اگر عید کی نماز سے ایک یا دودن پہلے ادا کیا جائے تو یہ ادا ہو جاتا ہے۔جو لوگ زکوة کے مستحقین ہیں وہی فطرانے کے حقدار بھی ہیں۔ اصل ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ضرورت مند تو ہوتے ہیں لیکن اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے یا سوال نہیں کرتے اپنی کم آمدن اور زائد اخراجات کا رونا نہیں روتے ایسے لوگ ہمارے اردگرد ہی ہوتے ہیں بس ہمیں انہیں تلاش کرنا ہوتا ہے۔کوشش کی جائے سب سے پہلے اپنے قریبی رشتے داروں کا خیال کیا جائے۔ زکوٰة یا صدقہ اس طرح نہ دیا جائے جس سے لینے والے کی دل آزاری ہو۔اللہ پاک فرماتے ہیں اپنے صدقات کو احسان جتا کر ضائع مت کرو،چپکے چپکے سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے روز حشر اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔ علامہ محمد رشید ترابی نے بتایا کہ جو اجناس ہماری خوراک ہیں یعنی ہم روز مرہ کے معمولات میں استعمال کرتے ہیں فطرانہ ان سے دینا واجب ہے۔ یہ ہر گز نہیں دیکھنا کونسی سی اجناس سستی ہیں یا مہنگی ہیں بلکہ جو اجناس ہم خود اپنے گھر میں استعمال کرتے ہیں اس کی مناسبت سے ہی فطرانہ دینا ہے اگر کوئی خود سپر کرنل کھاتا ہے اور فطرانہ ٹوٹا چاول کے حساب سے دے تو اللہ کے نذدیک ہر گز قبول نہیں ہو گا کیونکہ یہ ریاکاری اور دھوکہ ہے اور اللہ تو صرف بندے کی نیت دیکھتا ہے ۔ پیمانہ تین کلو کا رکھا گیا ہے یعنی جو خوراک ہم کھاتے ہیں چاہے گندم ہو تو بھی تین کلو کے حساب سے کشمش ہے تو اس سے بھی تین کلو اسی حساب سے جو یا کھجور ہو تو قیمت کے مطابق تین کلو کے حساب سے فطرانہ دینا ہے۔ پروگرام میں بہالپور سے رابعہ کے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ عید کا چاند نکلنے سے قبل اگر کوئی مہمان گھر آ جائے اور فطرانہ ادا کر سکتا ہو تو میزبان پر اس کا فطرانہ ادا کرنا بھی واجب ہے۔ سعدیہ نے پوچھا اگر کوئی شخص فطرانہ دینا بھول جائے تو کیا حل ہے جواب میں مولانا صاحب نے بتایا جب یاد آئے اللہ سے معافی مانگے اور صدقہ دے اور زیادہ دے کیونکہ عید کی نماز ادا ہوتے ہی فطرے کا وقت گزر جاتا ہے لہٰذا بعد میں دیا جانے والا مال صدقہ ہو گا فطرانہ نہیں۔ چینل فائیو کے مرحبا ر مضان پروگرام میں معروف گلوکارہ شاہدہ منی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ناظرین کی پر زور فرمائش پر کلام ”رحم کرو رحم کرو میرے مولا مجھ پر رحم کرو“”چاروں طرف ہے جلوہ تیرا رات بھی تیری دن بھی تیرا“ کلام سنایا پروگرام کے اختتام پر نعت رسول مقبول ”شاہ مدینہ شاہ مدینہ سارے نبی تیرے در کے سوالی“ ” تو نے جہاں کی محفل سجائی تاریکیوں میں شمع جلائی “پڑھ کر سنائی، شاہدہ منی کی خوبصو رت آوا ز اور کلام کے خوبصورت اشعار نے سماں باندھ دیااور سامعین کے دل جیت لئے۔
































