لاہور (سپورٹس رپورٹر)لاہور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کھیل کے میدان میں بھی کمی نظر آتی ہے۔ 2 دھائی قبل لاہور کو کھیلوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا کھیل کے میدان خستہ حال ہوتے گئے۔ کھیل کے وہ قدیم میدان جو کسی وقت میں نوجوانوں کی نگاہ کا مرکز ہوتے تھے اور آج یہ عالم ہے کہ ان میدانوں میں چند لوگ ہی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ روزنامہ خبریں کے خصوصی سروے کے مطابق صوبہ پنجاب کے دل لاہور میں کھیل کے میدانوں کی تعداد میں کمی دکھائی دی ہے۔ لاہور میں شائقین کرکٹ کا رجحان کھیلوں کی بجائے دوسری سرگرمیوں کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ خستہ حال کرکٹ کے میدانوں میں ریلوے گریفن گراونڈ ، بابا گراونڈ، ریلوے سٹیڈیم سرفہرست ہیں جبکہ منٹو پارک اور اولڈ ہیلے سپورٹس کمپلکس جیسے بڑے کھیل کے میدان مسمار کردیے گئے ۔۔یہ وہ کھیل کے میدان ہیں جہاں عمران خان، وسیم اکرم ، وقار یونس ، انضمام الحق ، محمد یوسف جیسے کئی لیجنڈ کرکٹر کھیل کر قومی ٹیم کا حصہ بنے اور ملک کا نام روشن کیا ۔حکومت پنجاب کی جانب سے ان میدانوں کی خستہ حالی کا نوٹس لیا جا چکا ہے اور جو میدان مسمار کیے گئے ان کی جگہ نئے کھیل کے میدان اور سپورٹس کمپلیکس بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے لاہور سمیت سات شہروں میں کرکٹ کے سٹیڈیم بنا دیے گئے ہیں اور تیس سے زائد سٹیڈیم زیر تعمیر ہیں جن کی تعمیر مکمل کر کے جلد ہی نوجونوں کے استعمال میں لایا جائے گا ۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نئے سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلکس تعمیرکرنے کیلئے اقدامات تو کررہی ہے لیکن جو سٹیڈیم خستہ حال ہیں وہ بھی جلد ٹھیک کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل دوسری سرگرمیوں کی بجائے کھیلوں پر توجہ دے سکے۔کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کو بھی زیر غور لانا چاہئیے ۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کمی ہے لیکن ٹیلنٹ کی نہیں ۔ سوال کے جواب میں ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ آخری یوتھ فیسٹیول بہت شاندار تھا جس سے پاکستان میں نوجوان نسل کو ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ملا تھا ، اسی طرح کے فیسٹیول کا انعقاد دوبارہ ہونا چاہیئے تاکہ پاکستان مزید ریکارڈ اپنے نام کر سکے ۔ 2016 میں کھیلوں کی ترقی اور فروغ کےلئے حکومت نے بہت کام کیے اور اس سال بھی حکومت کی جانب سے کھیلوں کوفروغ دیا جارہا ہے ۔ امید ہے کہ کھی کے میدان دوبارہ سے آباد ہوں گے اور نوجوان اس میں کھیل کر پاکستان کو سوخرو کریں گے ۔ خستہ حال گراونڈکی نتظامیہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی ترقی کیلئے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جس سے گراونڈ میں معیاری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کئی سالوں پہلے یہاں کھیلنے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی ۔ شام کے وقت یہ میدان کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے اور آج صبح سے شام تک یہ ویران اور بنجر میدان کی مانند نظر آتے ہیں ۔کھیل کے یہ میدان اب دوسرے کاموں جیسا کہ پارکنگ ، اتوار بازار کیلئے استعمال ہورہے ہیں ۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

