کراچی (10 اپریل 2026): شعبہ طب نے بڑی کامیابی حاصل کر لی کہ اب تک لاعلاج بیماری کا علاج ڈھونڈ لیا ہے وہ بھی صرف ایک انجکشن میں۔
دنیا میں کئی بیماریاں ایسی ہیں جو موذی ہونے کے ساتھ لا علاج بھی ہیں اور کئی بیماریوں کو دعوت بھی دیتی ہیں۔ ایسی ہی بیماری میں ایک ٹائپ ون ذیابیطس ہے، جس کا علاج اب تک دریافت نہیں ہو سکا تھا۔
تاہم اب محققین نے ایسی دوا ایجاد کر لی ہے، جو جسم میں انسولین کو دوبارہ فعال کر سکتی ہے اور اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں ٹائپ ون ذیابیطس کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس کی چار اقسام ہیں، لیکن ان میں سب سے خطرناک ٹائپ ون ذیابیطس ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس بیماری کا اب تک علاج دریافت نہیں ہوا بلکہ انسولین انجکشن، ادویات اور کھانے پینے پر سخت کنٹرول سے اس کو قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
تاہم اچھی خبر یہ ہے کی محققین نے ایک نئی تحقیق میں وہ دریافت کی ہے، جو اس بیماری کا جڑ سے خاتمہ کر سکتی ہے۔
’انٹرنیشنل کانفرنس آن ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز اینڈ ٹریٹمنٹس فار ڈایابٹیز‘ میں یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ایک خاص طریقے کی جینز تھیراپی تیار کی ہے، جس کے ایک سنگل انجکشن سے پٹھوں کو طویل مدت تک انسولن بنانے والے اعضا میں بدلا جا سکے گا۔ اس ایک انجکشن کی مدد سے کئی سالوں یا پھر شاید دہائیوں تک جسم میں انسولن بنتا رہے گا اور مریضوں کو روزانہ انسولن کا انجکشن لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ دنیا میں اپنی طرح کی پہلی اسٹڈی ہے، جس میں سب سے پہلے ان بالغوں کو شامل کیا جائے گا جن کا بلڈ شگر ٹھیک سے کنٹرول میں نہیں رہتا اور جو پہلے سے ہی آٹومیٹیڈ انسولن ڈیلیوری سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے سائنسدانوں کو یہ باریکی سے ٹریک کرنے کا موقع ملے گا کہ یہ تھراپی کتنا انسولن بناتی ہے اور گلوکوز کی سطح کو کتنے اثردار طریقے سے مستحکم رکھتی ہے۔
انگلینڈ کی ’نیشنل ہیلتھ سروس‘ (این ایچ ایس) میں ذیابیطس کے لیے نیشنل اسپیشلٹی ایڈوائزر ڈاکٹر پارتھ کے مطابق یہ طریقہ لاعلاج بیماری کو پوری طرح ٹھیک کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے لاکھوں لوگوں کو مدد مل سکتی ہے۔

