- جولائی تا جنوری مالیاتی خسارے کو 64.7 ارب روپے تک محدود رکھا گیا، وزیر خزانہوفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا جنوری کے عرصے کے دوران مالیاتی خسارے کو 64.7 ارب روپے (جی ڈی پی کا 0.05 فیصد) تک محدود رکھا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ خسارہ 2070.9 ارب روپے (جی ڈی پی کا 1.8 فیصد) تھا۔ مزید برآں ملک کا پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد پر برقرار رہا۔
وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ مارچ تا مئی 2026 کے عرصے کے لیے وفاقی حکومت نے 7.8 ٹریلین روپے قرض لینے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس دوران 5.5 ٹریلین روپے کے قرضوں کی مدت مکمل (میچیورٹی) ہورہی ہے۔
قومی اسمبلی کے ارکان کے سوالات کے تحریری جواب میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3.71 فیصد لگایا گیا ہے۔ اس ترقی میں زراعت نے 2.89 فیصد، صنعت نے 9.38 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 2.35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جولائی تا جنوری بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال جولائی تا فروری سی پی آئی یعنی مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جولائی تا جنوری مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر 64.7 ارب روپے (جی ڈی پی کا 0.05 فیصد) رہ گیا ۔
وزیر خزانہ کے مطابق، پرائمری سرپلس (بنیادی بچت) میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں کے دوران یہ 4,151.6 ارب روپے (جی ڈی پی کا 3.2 فیصد) تک پہنچ گیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے قرضوں کی صورتحال واضح کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری مجموعی قرضہ جی ڈی پی کا 70.7 فیصد ہے، جس کی مجموعی مالیت 80.52 ٹریلین روپے بنتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025 کے دوران سود کی مد میں 8.89 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں کی گئیں جو کہ جی ڈی پی کا 7.8 فیصد ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق، حکومت کی بہترین مالیاتی حکمتِ عملی کے باعث دسمبر 2025 کے اختتام پر سرکاری قرضہ 81.3 ٹریلین روپے رہا جو کہ جی ڈی پی کا 62.8 فیصد بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران قرضہ 74.0 ٹریلین روپے تھا، جو اس وقت کی جی ڈی پی کا 70.2 فیصد تھا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3.71 فیصد لگایا گیا جبکہ مالی سال 2025 کی اسی مدت میں یہ شرح محض 1.56 فیصد تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں زرعی شعبے نے 2.9 فیصد کی شرح سے ترقی کی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح 1.0 فیصد تھی۔ صنعتی شعبے نے 9.4 فیصد کی نمایاں شرح نمو ریکارڈ کی جو گزشتہ سال کے 0.12 فیصد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاشی ترقی کی رفتار کو تعمیرات اور بجلی، گیس و پانی کی فراہمی کے شعبوں میں ہونے والی توسیع سے بھرپور سہارا ملا ہے۔
مزید برآں انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں کے شعبے نے بھی 4.1 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران اس میں 0.9 فیصد کی کمی (سکڑاؤ) دیکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں 2.35 فیصد اضافہ ہوا، جو مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی کے 2.24 فیصد سے معمولی بہتر ہے، تاہم معلومات اور مواصلات کے شعبے میں ترقی کی رفتار سست رہی۔ وزیر خزانہ نے مزید واضح کیا کہ جولائی تا جنوری بڑی صنعتوں نے مجموعی طور پر 5.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس میں 1.7 فیصد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی تھی۔
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ سرکاری قرضوں کا جی ڈی پی سے تناسب 70.7 فیصد رہا، جو مالی سال 2025 کے لیے مقرر کردہ 64 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس فرق کی بنیادی وجہ جی ڈی پی کے تخمینے میں کمی ہے، مالی سال 2025 میں کم افراطِ زر کے باعث مجموعی جی ڈی پی 113.9 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا تخمینہ 124.1 ٹریلین روپے لگایا گیا تھا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عددی لحاظ سے سرکاری قرضہ 80.5 ٹریلین روپے رہا جو مالی سال 2025 کے لیے لگائے گئے 79.7 ٹریلین روپے کے تخمینے سے معمولی زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران سرکاری قرضوں میں اضافے کی شرح 13 فیصد پر مستحکم رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سود کی مد میں ہونے والے اخراجات مجموعی طور پر 8.89 ٹریلین روپے رہے، جو کہ 9.78 ٹریلین روپے کے بجٹ شدہ تخمینے سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق سودی اخراجات میں اس کمی کی بنیادی وجوہات مالی سال 2025 کے دوران اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ (شرح سود) میں مجموعی طور پر 9.5 فیصد پوائنٹس کی بڑی کمی، جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے برابر مجموعی پرائمری سرپلس کا حصول اور مہنگی شرح سود والی سرکاری سیکیورٹیز (قرضوں) کی قبل از وقت واپسی ہیں۔
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ مارچ تا مئی 2026 کے عرصے کے لیے وفاقی حکومت نے 7.8 ٹریلین روپے قرض لینے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں 5.5 ٹریلین روپے کے پرانے قرضوں کی مدت مکمل (میچیورٹی) ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بقیہ رقم کا استعمال جاری اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے اور نقدی کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے کا امکان ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید واضح کیا کہ قرض کی اصل رقم کا تعین مارکیٹ کی جانب سے دی گئی بولیوں کی بنیاد پر متعلقہ نیلامی کی تاریخوں پر کیا جائے گا۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

