قطر کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا جس میں دو گولے لگے، جن میں سے ایک سے آگ بھڑک اٹھی جو بعد ازاں بجھا دی گئی، جبکہ دوسرا گولہ جہاز کے انجن روم میں بغیر پھٹے موجود ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا۔
حکام کے مطابق یہ ٹینکر قطر کے صنعتی مرکز راس لفان سے تقریباً 17 ناٹیکل میل شمال میں نشانہ بنا، جس سے جہاز کو پانی کی سطح سے اوپر نقصان پہنچا۔ تاہم عملہ محفوظ رہا اور کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ حملے کے ذرائع کی تصدیق نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں کو خطرات لاحق ہیں۔ حالیہ دنوں میں خلیجی پانیوں میں بحری جہازوں کے خلاف متعدد سیکیورٹی واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
اس سے ایک روز قبل کویت نے بھی بتایا تھا کہ دبئی کے قریب اس کے ایک مکمل طور پر بھرے ہوئے آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیج میں جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

































