لاہور (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی میں بھارت کی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف قرار داد متقفہ طور پر منظور کرلی گئی۔قومی اسمبلی کے اجلا س میں وفاقی وزیر خصوصی تعلیم شفقت محمود نے قرار داد پیش کی جس میں بھارتی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو خارج کرکے صرف ہندو، سکھ، بدھسٹ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو شہریت دینے کے متنازع قانون کی مذمت کی گئی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن ایاز صادق نے قرار داد پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہے کہ پوری دنیا کو اس ذہنیت کے حوالے سے بتادیا جائے جو صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت کو تاراج کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کی ضرورت ہے اور وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ مسئلے کو پوری دنیا میں اجاگر کرے۔مسلم لیگ (ن) کے ہی رکن خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت نے 134 روز قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تھی اور حکومت پاکستان نے خطے کے لوگوں کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سفارتی سطح پر معذور نظر آرہی ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ایسا نظر آتا ہے کہ حکومت نے بھارت کی جانب سے کشمیر کے الحاق کو تسلیم کرلیا ہے’ لیکن پاکستان کے عوام نے ان تمام مبینہ اقدامات کو تسلیم نہیں کیا۔مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی رکن ڈاکٹر درشن نے کہا کہ پاکستان کی پوری ہندو برادری بھارتی وزیراعظم مودی کے اس قدم کی مذمت کرتی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما حنا ربانی کھر نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (او ا?ئی سی) کا اجلاس طلب کیا جائے اور دونوں مسئلوں پر بحث کی جائے۔
یاد رہے کہ بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھارتی شہریت کے حوالے سے متنازع بل منظور کیا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل پڑوسی ممالک سے غیرقانونی طور پر بھارت آنے والے افراد کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔اس ترمیمی بل کے بعد بھارت میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور شمال مشرقی ریاستوں میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد سے 6 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی معطلی اور کرفیو بدستور نافذ ہے۔بھارت کی کئی ریاستوں نے اس متنازع قانون کو نافذ کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ کی جانب سے بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔بھارتی پولیس نے جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی میں بے دردی سے طلبہ کو نشانہ بنایا جہاں کئی طالب علم زخمی ہوگئے۔سوشل میڈیا میں طلبہ پر ہونے والے تشدد کی ویڈیوز بھی وائرل ہورہی ہیں جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارتی پولیس طلبہ پر تشدد کررہی ہے اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کر رہی ہے۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

