اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پہلی اہم ترین سماعت جاری ہے۔ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ پاناما کیس کی سماعت جاری ہے۔ سماعت سے قبل شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنے اعتراضات جمع کرادیئے ہیں۔ شریف خاندان نے اپنے اعتراضات میں موقف اختیار کیا ہے کہ جےآئی ٹی کوعدالت نے 13 سوالات کی تحقیقات کاحکم دیاتھا لیکن جے آئی ٹی نے مینڈیٹ سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی جانبدار تھی اور اس نے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔ اس لیے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔ عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔ جس کے بعد عمل درآمد بینچ اور جے آئی ٹی بنی، جے آئی ٹی ہر 15 روز بعد اپنی پیش رفت رپورٹ عمل درآمد بینچ کے سامنے جمع کراتی رہی۔ 10 جولائی کو جے آئی ٹی نے اپنے حتمی رپورٹ جمع کرائی۔ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف اسٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف اسٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کوغلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ جے آئی ٹی نے فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا۔ قطری خط وزیراعظم کی تقاریر میں شامل نہیں تھا، جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو طلبی کے لیے چار خط لکھے، جے آئی ٹی نےکہا کہ قطری شہزادہ پاکستانی قانونی حدود ماننے کو تیار نہیں، اس کے علاوہ قطری شہزادے نے عدالتی دائرہ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ عمران خان کے وکیل نے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے موزیک فونسیکا کے ساتھ خط وکتابت کی ۔ جے آئی ٹی نے اس خط وکتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سےشریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیے، ٹرسٹی ہونےکے لیے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے۔ بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

