اوسلو(ویب ڈیسک) ناروے میں آٹھویں جماعت کے بچوں پر کیے گئے ایک وسیع مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگ جو اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر اسکرین پر کتابیں اور دوسرا تحریری مواد پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں، انہیں کسی خاص موضوع پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا رہتا ہے جبکہ وہ بہت بے صبرے اور غیر متحمل مزاج بھی بن جاتے ہیں۔اوسلو یونیورسٹی کی پروفیسر مارٹی بلکسٹاڈ بالاس نے ناروے میں بچوں پر ایک تفصیلی تحقیق میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس تحقیق میں آٹھویں جماعت کے مقامی بچوں میں ریاضیاتی صلاحیتوں اور دوسری متعلقہ مہارتوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس مطالعے کے دوران ریاضی سے ہٹ کر یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان بچوں کی یادداشت، بیس سال پہلے اسی جماعت میں پڑھنے والے بچوں کی نسبت بہت کمزور ہوچکی تھی۔”اساتذہ کے لیے یہ بات پریشان کن ہے کہ 20 سال قبل کے (اسی جماعت کے طالب علموں کے) مقابلے میں، آج کے طالب علموں کےلیے لمبے جملے پڑھنا بہت مشکل ہوگیا ہے،“ بلکسٹاڈ بالاس نے ایک مقامی صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا۔ ان کے مطابق، اگرچہ ہمارا دماغ ڈیجیٹل میڈیا پر بھی تحریر کو تحریر کے طور پر ہی سمجھتا اور پڑھتا ہے لیکن اس (ڈیجیٹل) میڈیا پر تحریر میں تصویروں کے علاوہ بھی خلل ڈالنے والی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے دماغ میں کسی نکتے پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ہمیں تسلسل سے طویل جملے پڑھنے کی عادت نہیں رہتی۔ پھر یہ بھی ہے کہ چھوٹے جملے پڑنے کی عادت ہوجانے کی وجہ سے ہمارے مزاج میں بے صبرا پن ا?جاتا ہے جو کسی بھی نئی چیز کو سیکھنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔بلکسٹاڈ بالاس نے نئی نسل کی یادداشت خراب ہونے کی بڑی ذمہ داری ”گوگل ایفیکٹ“ پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ا?پ کو شعوری طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ پر ”سرچ“ کرنے سے ہر طرح کی معلومات مل جائیں گی، تو آپ ہر چیز کو یاد رکھنا ضروری نہیں سمجھتے؛ اور اس طرح کم عمری میں یادداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔”اس کے مقابلے میں روایتی کتابیں ہاتھ میں تھام کر پڑھنے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے،“ یونیورسٹی ا?ف اسٹاوینجر کی محقق، اینی مینجن نے بلکسٹاڈ بالاس کی تائید کرتے ہوئے کہا۔واضح رہے کہ ناروے میں ڈیجیٹل کتابیں بڑی تعداد میں قیمتاً فروخت کی جاتی ہیں جبکہ ان کی چوری پر سخت سزائیں مقرر ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث ناروے میں کاغذ پر چھپی کتابوں کا رواج بہت کم رہ گیا ہے لیکن ڈیجیٹل میڈیا کی بدولت نئے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جنہیں حل کرنے کےلیے وہاں کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھنے کی تیاری کررہے ہیں۔
بریکنگ نیوز
- جرمن ولاگر کی تصویر کیوں لائیک کی؟ ویرات کوہلی پر میمز وائرل
- وائر لیس بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ
- پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع
- رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے
- کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
- حافظ نعیم الرحمٰن کی پیپلز پارٹی پر سخت تنقید، ’’حق دو کراچی‘‘ تحریک پر دھمکیوں کا الزام
- حج آپریشن کا آغاز؛ کراچی ایئرپورٹ سے پہلی پرواز آج شب روانہ ہوگی
- امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرنے والا پہلا جہاز بن گیا
- ایران کی جانب سے لبنان جنگ بندی کا خیر مقدم، امریکا کے ساتھ اہم معاملات پر اختلافات بدستور برقرار
- جنوبی کوریا: امتحان میں فیل ہوجانے والوں کو کوئلے کی کان میں بھیجنے کا فیصلہ
- روس، چین کی ایران کو سپورٹ، امریکی انٹیلی جنس نے وارننگ جاری کردی
- یوٹیوب کا بڑا ایکشن، ٹرمپ کا مذاق اڑانے والا مشہور چینل اچانک بند کردیا
- کیا اسٹرینجر تھنگ کا ایک اور سیزن آنے والا ہے؟
- کم تنخواہ کے غصے میں دلچسپ احتجاج، ملازمہ دفتر میں سو گئی، باس کی چاکلیٹ بھی کھالی
- چین نے 22 ہزار سے زائد ڈرونز ایک ساتھ اُڑا کر عالمی ریکارڈ بنالیا
- سونا 3 دن وقفے کے بعد سستا ہوگیا، عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت کم
- رنبیر، عالیہ اور وکی کوشل کی فلم کب ریلیز ہوگی؟ تاریخ سامنے آگئی
- موبائل فون کی یہ پوشیدہ سیٹنگ آپ کا ’’بینک اکاؤنٹ خالی‘‘ کرا سکتی ہے
- اوپن اے آئی کا لائف سائنسز ریسرچ کیلیے نیا اے آئی ماڈل متعارف
- ٹک ٹاک نے کمیونٹی گائیڈ لائنز کے نفاذ کی رپورٹ جاری کر دی

