لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے کالم نگار کاشف بشیر نے کہا کہ حمزہ شہباز اور دیگر لیگیوں کی گرفتاری کےلئے چھاپے4 اپریل کو دائر کیس کے تحت مارے گئے۔ فضل داد عباسی اور قاسم قیوم نامی ملازمین کے اکاﺅنٹس کے ذریعے صادق پلازہ لاہور اورعلی ٹاور ایم ایم عالم روڈ سے 85ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔ ٹرانزیکشنز ثابت ہونے اور ملزمان کے انکشاف پرچیئرمین نیب نے حمزہ شہبازاور سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری نہ ہو پانا افسوس ناک ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو اب مثالی سزا نہ دی گئی تو سوالیہ نشان ہوگا۔ مافیا سسٹم کو ہائی جیک کرچکی ہے۔ نیب دو چار لاکھ والے بندے ہی پکڑے۔ شریف خاندان کے پاس نوٹ کاغذوں کی طرح ایسی جگہوں پر بھرے پڑے ہیں جہاں کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔ مریم اورنگزیب جھوٹ بولنے پر شرم کریں کہ نیب کے پاس وارنٹ گرفتاری نہیں تھے۔ بے نظیر کرپٹ نہیں تھیں، آصف زرداری نے سندھ ہاﺅس میں ایک میٹنگ میں انہیں راضی کیا کہ ہمیں سیاست کے لیے پیسہ چاہیے۔ پاکستان کا جے ایف 17تھنڈر، ایف 16سے بہت آگے ہے۔ سی آئی اے، را، موساد ٹرائیکا پاکستان کیخلاف سرگرم ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ پاک فوج نے حالیہ معرکے میں اسرائیل کا طیارہ گرا کر پائلٹ پکڑا اور انہیں انٹیلی جنس میں مات دی۔ بھارت کیساتھ دو دن کی نہیں، فیصلہ کن جنگ تھی۔ پاکستان پر افغانستان کی جانب سے بھی حملہ کی اطلاعات تھیں۔ امریکہ کی پاکستان کیساتھ ہمیشہ دوغلی پالیسی رہی ہے۔امریکہ افغانستان سے نہیں نکلنا چاہتا تاکہ سی پیک میں بگاڑ پیدا کر سکے۔ میزبان تجزیہ کار آغا باقر کا کہنا تھا کہ عام پاکستانی پولیس سے سرچ وارنٹ مانگے تو عدالت میں جانے کا کہا جاتا ہے۔ سیاستدانوں نے ریاست کو ادھ موا کر دیا،چاہتے ہیں کہ نیب کو بھی ادھ موا کر دیا جائے تاکہ بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ نہ ڈالا جاسکے۔ بھارت کی حالت کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسی ہے۔ ابھی نندن کی رہائی سے پاکستان کی اخلاقی فتح ہے۔ کالم نگار ناصر اقبال خان نے کہا کہ ریاست پاکستان اور نظام پاکستان کیساتھ کھلواڑ ہورہا ہے۔ حمزہ شہباز کو نیب کے سامنے سرنڈر کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان میںکوئی نظریاتی جماعت نہیں، مالیاتی سیاست میں ووٹ بک رہا ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں نیب کے بازو کاٹنے کے لیے یکسو ہورہے ہیں۔ عوام کے کندھوں پر کھڑے ہو کر عوام کو بیچا جارہا ہے۔ نظریاتی نعرہ لگانے والے طاہر القادری اس وقت میں اپنا کردار ادا کریں مایوس ہوکر گھر نہ بیٹھیں۔ پاک فوج الرٹ ہے۔ بھارت کیساتھ غیراعلانیہ جنگ جاری ہے۔ فوجی اخراجات کے باعث مہنگائی میں اضافے کا سامنا ہے تاہم اگر بھارت نے دوبارہ مہم جوئی کی تو بھارت کا حشر دنیا دیکھے گی۔ پاکستانی عوام، پاکستان کی سالمیت کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ عمران خان کی ٹیم میں عثمان بزدار اور اسد عمر جیسے لوگ سوالیہ نشان ہیں۔ تجزیہ کار میاں اشرف عاصمی کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری نہ ہونا ریاست کے اندر ریاست ہے، قانون سے کوئی نہیں بچ سکتا۔الیکشن میں عام آدمی مافیا کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان مسلح افواج کو قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے،اللہ نے ہماری غیبی مدد فرمائی اور بھارت منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ بھارت ، اسرائیل اور امریکہ پاکستان کی معاشی کامیابی اور سی پیک کیخلاف ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت شرارت کر سکتا ہے۔ 22سالہ جدوجہد سے حکومت بنانے والے وزیر اعظم کو ٹیم بھی بنانی چاہیے تھی، موجودہ حکومتی ٹیم کی کارکردگی سے عام آدمی کی بہتری کے لیے امید کی کوئی کرن نظر نہیں۔

































