اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے حیدرآباد یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، اپنے خطاب میں ا±ن کا کہنا تھا کہ اس طرح سڑکوں کے افتتاح ہوتے تھے مگر یونیورسٹی کا افتتاح کر کے بہت زیادہ خوشی ہورہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد مین حیدرآبادیونیورسٹی کے قیام کی تقریب ہوئی جس میں وفاقی وزرا سمیت وزیراعظم عمران خان نے شرکت کی۔ سنگِ بنیاد کے بعد شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سڑکیں بنتی رہتی ہیں مگر قوم کو لوگوں پر خرچ کرناچاہیے، کبھی کوئی قوم تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھی۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ جنگ بدر کے بعد ہمارے نبی نے بڑا قدم اٹھایا تھا اور قیدیوں کو پیش کش کی تھی کہ وہ بچوں کو تعلیم دے کر رہائی حاصل کرسکتے ہیں، مجھے یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے پر بہت خوشی ہوئی، اگر ہم لوگوں پر سرمایہ کاری کریں گے تو ملک ترقی کرے گا۔ ا±ن کا کہنا تھاکہ اصل سیکیورٹی تعلیم کےذریعے ملتی ہے، صرف سنگاپور یونیورسٹی کا بجٹ پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں سے زیادہ ہے، 21کروڑ پاکستانیوں کی ایکسپورٹ مشکل سے 24ارب ڈالر ہے جبکہ چھوٹے سے سنگاپورسے330ارب ڈالرکی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ معاشرہ تعلیم کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا، ہمارے پاس 60فیصدپاکستانی 30سال سے کم عمر ہیں،اگر ہم نے ان نوجوانوں کو تعلیم دے دی تو یہ پاکستان اور اس کی معیشت کو اٹھا دیں گے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کو ٹیکنیکل بیس بنائیں گے، مستقبل میں ایسا تعلیمی ادارہ بھی بنے گا جہاں صرف سائنس اور صوفی ازم کی تعلیمات دی جائیں گی عمران خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کی سوچ بہت بڑی تھی، غربت اور بے روزگاری سے معاشرہ مشکل میں آجاتا ہے، خالد مقبول کی بات سے اتفاق کرتا ہوں جس نام پر پاکستان بنایا گیا تھا یہ وہ ملک نہیں ہے، انسان سب کچھ سہہ جاتا ہے مگر کفر کانظام نہیں چل سکتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں حیدرآباد یونیورسٹی کی مخالفت ہوئی یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے، خالد مقبول صدیقی مجھے ا±ن لوگوں کا نام بتائیں جو رکاوٹ تھا کیونکہ اگر آپ تعلیم کو فروغ نہیں دے سکتے تو اس کے قیام کی خلاف ورزی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ حیدرآبادیونیورسٹی کو ٹیکنیکل بیس بنائیں گے اور مستقبل میں عبدالقادر نامی ایسی یونیورسٹی بنائیں گے جہاں سائنس اور صوفی ازم ان دو مضامین کی تعلیم دی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اسمبلی میں انگریزی میں تقریر کرتے ہیں جبکہ 90 فیصد پاکستانی صرف اردو زبان سے ہی واقفیت رکھتے ہیں، انگریزی میں تقریر کرکےاردوبولنےوالوں کی توہین کرتے ہیں، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی میں بولیں گے تو پڑھالکھا سمجھاجائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کے اختلافات کے باوجود سمجھتا تھا کہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا نظریہ ایک جیسا ہے، حکومت میں آنے کے بعد ایم کیو ایم سے اتحاد ہوا تو دو وزارتیں متحدہ کو دیں، خالد مقبول اور فروغ نسیم ہر معاملے میں نفیس ثابت ہوئے، انشاءاللہ اگلا الیکشن پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم ایک ساتھ ہی لڑے گی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم نے یقین دہانی کروائی کہ ’حیدرآباد یونیورسٹی کے حوالے سے جو بھی مشکلات درپیش آئیں وہ میرے علم میں لائی جائیں، میں ذاتی طور پر حکومت سے خود بات کروں گا، یونیورسٹی کے لیے سرکاری زمین فراہم کریں گے‘۔ وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے نظریے کو برابر قرار دیا اور مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کی۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس مغرب کو جواب دینے والا کوئی نہیں، اب مولانا فضل الرحمان دنیا کو کیا جواب دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے او آئی سی، اقوام متحدہ میں جا کر پہلی بار بات کی یہ اظہاررائے کی آزادی کا غلط استعمال ہے کہ جس کے جو دل میں آئے،مسلمانوں کے بارے میں کہے دے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو اچھی تعلیم دے دیں تو یہ ملک کو آگے لے جائیں گے لیکن اگر یہ نہ کیا تو بے روزگاری ہوگی، غربت ہوگی جو معاشرے کے لیےمسائل پیدا کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے پاکستان میں انصاف اور تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہوگی۔ نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں جو یونیورسٹی کی مخالفت کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمارے بچے اسٹیو جابزاور بل گیٹس کے بارے میں پڑھتے ہیں لیکن پوری دنیا کو نظام بدلنے والے بنی کریم کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوے فیصد لوگوں کو انگریزی کی سمجھ نہیں آتی لیکن ٹی وی اورپارلیمنٹ میں انگریزی میں تقریریں کرکے اپنے لوگوں کی توہین کی جاتی ہے، اگر برطانیہ میں فرانسینی میں تقریر کریں تو لوگ ہنسیں گے، ہم اس طرح اپنے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ عمران خان نے اس دوران جہلم کے پاس سوہاوہ کے قریب نجی شعبے کے تحت یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کیا ۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم کیو ایم کے ارکان سے زیادہ نفیس لوگ کابینہ میں نہیں،ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی اگلا الیکشن اکٹھا لڑیں گے،90فیصد پاکستانیوں کو انگریزی نہیں آتی، ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں نے انگریزی بولنا شروع کردی ،سمجھ نہیں آتا ہمیں اردو سمجھ آتی ہے اور آپ انگریزی بولنا شروع کردیتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ میں آکر انگریزی میں تقریر شروع کردیتے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ صوفی ازم میں نبی پاک کی حیات طیبہ پر ریسرچ کرائیں گے،نجی شعبے کی القادر یونیورسٹی میں سائنس اور صوفی ازم پڑھایا جائے گا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے جہلم کے پاس سوہاوہ کے قریب نجی شعبے کے تحت یونیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کردیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس وہ اسکالرز ہی نہیں ہیں جو مغرب کوجواب دے سکیں،مولانا فضل الرحمان یورپ یا امریکا کو کیا جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بے راہ روی سے بچانے کیلیے میانوالی میں یونیورسٹی بنائی ،مسلمانوں نے تعلیم پر توجہ دی تو 700 سال دنیا پر حکمرانی کی ،اگر کسی جگہ یونیورسٹی بنتی ہے آپ مدد نہیں کرسکتے تو مخالفت تو نہ کریں،خالد مقبول سے پوچھوں گا یہ کون لوگ ہیں جو حیدرآباد یونیورسٹی کے مخالف ہیں،حیران ہوں حیدرآباد میں یونیورسٹی کی مخالفت کون کر رہا ہے اور کیوں ہورہی ہے ،میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کونسی ذہنیت ہے جو یونیورسٹی کی مخالفت کرتی ہے،حیران ہوں کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کی مخالفت کون اور کیوں ہورہی ہے ، وزیراعظم نے کہا کہ عظیم ملک بننے کا خواب تعلیم کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا،نوجوانوں کو تعلیم نہیں دی گئی تو ملک نیچے چلا جائے گا، نوجوانوں کو تعلیم دی تو یہ پاکستان کو اوپر لیکر جائیں گے، انہوں نے کہاکہ عظیم ملک بننے کا خواب تعلیم کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔

































