لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کا معاملہ اس قسم کا ہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر نعیم الحق صاحب کو اس پر وضاحت کرنی چاہئے یا پھر عمران خان صاحب کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے کیونکہ شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں اور وزیر خارجہ بھی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جہانگیر ترین اور ان کے درمیان جو اتنی زیادہ خوشگوار قسم کی موافقت یا ہم آہنگی نہیں ہے لہٰذا یہ دو بڑوں کی لڑائی ہے اس لڑائی میں میاں اسلم اقبال لاہور جو وزیر ہیں جن کا اکثر نام ااتا رہتا ہے کہ بڑے اہم وزیر ہیں انہوں نے جہانگیر ترین کی حمایت کی، فواد چودھری نے بھی ان کی حمایت کی۔ دوسری طرف شاہ محمود قریشی نے احتجاج کیا ہے کہ اس سے اپوزیشن کو موقع مل جاتا ہے۔ اس پر فیصلہ عمران خان صاحب کر سکتے ہیں یا ان کے کہنے پر سیاسی ایڈوائزر نعیم الحق صاحب اس پر بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں تا کہ آپس کی یہ شکرنجیاں میں برھ کر کوئی سیریس شکل اختیار نہ کر جائیں۔ ضروری ہے کہ پارٹی کا موقف سامنے آئے۔ اس لڑائی سے حکومت کو تو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا لیکن ایک بات حکومتکے سرکاری بنچوں کے درمیان ایک علط فہمی اور عدم موافقت کا عنصر رہا کرتا ہے اس سے کوئی بہتر امیج نہیں جائے گا کہ شاہ محمود قریشی صاحب کچھ کہہ رہے ہوں اور جہانگیر ترین کچھاور کہہ رہے ہیں اور فواد چودھری صاحب ان کی حمایت کر رہے ہوں۔ میاں اسلم اقبال بھی جہانگیر ترین کی حمایت کر رہے ہیں اور جہانگیر ترین صاحب خود کہہ رہے ہوں کہ میں عمران خان مجھے بلا لیتے ہیں اس لئے میں چلا جاتا ہوں اور میں ضرور جاﺅں گا اس سے پارٹی کی اپنی صفوں میں غیر موافقت اور غیر ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوتی ہے یہ چیز سرکاری بنچوں کے لئے اچھی نہیں، فوجی عدالتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا اگر فوجی عدالتیں نہیں بنتیں تو مشکل پیدا ہو جائے گی اس لئے دہشت گردی کے خلاف جتنی کارروائی ہوتی ہے اس کی بنیاد فوجی عدالتیں ہیں۔ اگر فوجی عدالتیں کام نہیں کر رہی ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل رک جائے گا کہ بڑا مشکل ہو جائے گا کہ دہشتگردی کا سدباب رک جائے گا۔ مسلم لیگ ن جو اس بارے میں واضح نہیں ہے انہوں نے کھل کر انکار بھی نہیں کیا لیکن اس کی حمایت بھی نہیں کی۔ رانا ثناءاللہ، شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف نے پریس کانفرنس کی جس میں نہ ہاں کی ہے نہ ہی ناں کی۔ ڈیل کے حووالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ شیخ رشید صاحب نے اگر نام نہیں لیا لیکن دو تین دن سے یہ بحث چل رہی ہے کہ قومی سلامتی کے سابق یڈوائزر جنرل (ر) جنجوعہ صاحب جو ایک زمانے میں سدرن کمان کے جب وہ فوج میں تھے تو اس کے سربراہ بھی تھے میں خود بھی ان سے کوئلہ جا کر ملا ہوں جب وہ سدرن کمانڈ کے سربراہ تھے ان کا نام لیا جا رہا ہے کہ نوازشریف کے لئے ڈیل کروانے اور مریم نواز کا نام لے چکے ہیں۔ شیخ رشید صاحب کو مریم نواز صاحبہ نے اس ڈیل کے سلسلے میں رابطے کر لئے حکومت سے تو کیا خبر درست ہے۔ کیا جنجوعہ صاحب جن کے بارے میں اب بھی دو دن پہلے بہت اہم میٹنگز میں موجود تھے آپ کے خیال میں وہ سادھ ہی ساتھ ڈیل کروانے کے سلسلے میں بھی کوئی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

