لندن (وجاہت علی خان سے ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ میں حیران کن اور ناقابل یقین حد تک بھارتی لابی مصروف عمل رہی، چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے والی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں یہ افطار ڈنر جمعہ کی شام مغربی لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں دیا گیا تھا برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے سرکردہ افراد اور بڑی تعداد میں پاکستانی صحافی اس صورتحال پر ششدرہ رہ گئے کہ یہ انڈین خاتون کون ہے جو انتہائی آزادانہ طریقے سے پاکستان ٹیم کے ہر ایک کھلاڑی اور اس تقریب میں جاری تمام تر صورتحال کی لائیو رپورٹنگ کر رہی ہے اور دو تین دیگر افراد بھی اس کے ہمراہ ہیں تفتیش کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا نام رینو Renuہے۔ تاحال یہ ایک معمہ ہے کہ اس خاتون اور اس کے ساتھی کس کی دعوت پر اسقدر حساس تقریب میں موجود تھے جہاں پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی موجود تھے جن کا لائیو فوٹیج اور تصاویر یہ خاتون بناتی رہی، علاوہ ازیں افطار ڈنر کی یہ تقریب بظاہر تو پاکستان ہائی کمشنر سید ابن عباس کی طرف سے مرتب کی گئی تھی لیکن حقیقاً اس کے دعوت نامے ”پاکستان کرکٹ بورڈ“ کے چیئرمین شہریار خان اور ان کی اہلیہ کی طرف سے جاری کئے گئے تھے لیکن تقریب کے اختتام پر ہائی کمشن کی طرف سے صحافیوں کو خصوصی طور پر کہا گیا کہ اس تقریب میں ہائی کمشنر کی طرف سے دیا گیا افطار ڈنر لکھا جائے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس تقریب کو آخری دن تک بھی صحافیوں سے خفیہ رکھاگیا اور برطانیہ میں مقیم قابل ذکر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کو نہ تو بتایا گیا اور نہ ہی دعوت دی گئی ا ور جن چند ایک کو بلایا گیا انہیں بھی تقریب سے تین چار گھنٹے قبل اطلاع دی گئی حتی کہ انتہا تو یہ بھی رہی کہ پاکستان سے چیمپئنز ٹرافی کے میچز کور کرنے برطانیہ آنے والے سینئر ترین صحافیوں کو بھی ان افطار ڈنر کی دعوت نہ دی گئی ان سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ تمام معاملہ بورڈ کے ساتھ اٹھائیں گے۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے اپنی تقریر میں خلاف توقع اور روایت کے خلاف ایک یہ اعلان بھی کر دیا کہ جن افراد کا روزہ نہیں ہے وہ کھانا کھا سکتے ہیں حالانکہ اس وقت آٹھ بجکر چالیس منٹ ہوئے تھے اور افطاری کے وقت میں ابھی کم و بیش آدھا گھنٹہ باقی تھا چنانچہ ہال میں بیٹھے بڑی تعداد میں حاضرین نے افطاری سے پہلے ہی کھانا شروع کر دیا، دریں اثنا تقریب میں ہائی کمشن کے ملازمین اور ان کے بیوی بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ یہ بات بھی خصوصی طور پر محسوس کی گئی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے تقریباً تمام ہی حکام برطانیہ میں موجود ہیں تقریب میں زیادہ تعداد انجانے افراد کی تھی جنہیں برطانیہ میں موجود پاکستانی صحافی بھی نہیں جانتے۔پاکستانی ہائی کمشنر کے موقف کے لئے باربار ٹیلی فون کیاگیا مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہ دیاگیا۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

