خلیج فارس میں جاری کشیدگی اور امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستان کے جھنڈے والی ایک آئل ٹینکر نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق ’شالیمار‘ نامی افری میکس آئل ٹینکر 13 اپریل کو امریکی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے خام تیل لے کر نکلنے والا پہلا جہاز بن گیا ہے۔
یہ ٹینکر 16 اپریل کی رات خلیج فارس سے روانہ ہوا اور ایران کے جزیرے لارک کے جنوب سے گزرتا ہوا خلیج عمان میں داخل ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل موجود ہے جو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ سے لوڈ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر اس وقت کراچی کی جانب رواں دواں ہے، تاہم یہ مکمل طور پر بھرا ہوا نہیں بلکہ تقریباً نصف لوڈ کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ٹینکر کی کامیاب روانگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں جہاز مالکان کو خلیج فارس سے تیل یا دیگر سامان لے جانے کے لیے ایران اور امریکا دونوں سے اجازت لینا پڑ رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’شالیمار‘ نے اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث اسے واپس لوٹنا پڑا تھا۔
بعد ازاں جہاز نے دوبارہ کوشش کی، اس بار داس آئی لینڈ سے خام تیل لوڈ کرنے کے بعد وہ کامیابی سے اس حساس سمندری راستے سے گزر گیا۔ موجودہ کشیدہ حالات میں اس طرح کی پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

