(15 اپریل 2026): ایران جنگ کے باعث دنیا بھر میں توانائی بحران جاری اور لاک ڈاؤن کی بازگشت ہے لیکن اس کا نوٹس آپ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کو توانائی بحران کا سامنا ہے اور کئی ممالک میں حکومتیں توانائی بچت کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جا رہی ہیں۔
اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہیکرز بھی سرگرم ہو گئے ہیں اور وہ ’’لاک ڈاؤن نوٹس‘‘ کے نام پر ایک خطرناک وائرس بھیج رہے ہیں، جس کے ایک کلک سے آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو سکتا ہے۔
بھارتی شہر حیدرآباد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر واٹس ایپ پر ان دنوں “وار لاک ڈاؤن نوٹس” کے نام سے ایک خطرناک فائل تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جو بظاہر ایک مذاق لگ سکتی ہے، لیکن سائبر ماہرین کے مطابق یہ ایک سنگین خطرہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دراصل ایک منظم سوشل انجینئرنگ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے ہیکرز صارفین کے موبائل اور ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سائبر ایکسپرٹ کے مطابق اس پی ڈی ایف فائل کے اندر خفیہ جاوا اسکرپٹ کوڈ شامل ہو سکتا ہے، جو فائل کھولتے ہی پسِ پردہ آپ کے فون یا کمپیوٹر کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اسے ہیک کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ فائل کے میٹا ڈیٹا کے ذریعے ہیکرز صارف کا آئی پی ایڈریس اور لوکیشن بھی ٹریک کر سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس پیغام کے ساتھ ایک اے پی کے فائل بھی بھیجی جا رہی ہے، جو انسٹال ہونے کے بعد ہیکرز کو آپ کے فون کا مکمل کنٹرول دے دیتی ہے۔
اس کے ذریعے نہ صرف آپ کا کیمرہ اور مائیک بغیر اجازت آن کیا جا سکتا ہے بلکہ بینک کے او ٹی پیز بھی چوری کیے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں چند منٹوں میں آپ کا بینک اکاؤنٹ خالی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کی لاگنگ کے ذریعے آپ کے تمام پاس ورڈ اور پن کوڈ بھی ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین نے عوام کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم نمبر سے موصول ہونے والی پی ڈی ایف یا اے پی کے فائل پر ہرگز کلک نہ کریں اور نہ ہی اسے ڈاؤن لوڈ کریں۔
اس صورتحال سے بچنے کے لیے موبائل کی سیٹنگز میں جا کر “انسٹال ان نون ایپس” کا آپشن بند رکھیں، اور اگر ایسی کوئی فائل موصول ہو تو فوراً اسے ڈیلیٹ کر دیں۔ کسی بھی مشتبہ صورتحال میں اپنے فون کو سیکیورٹی ایپ کے ذریعے اسکین کرنا ضروری ہے۔

