قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت 47 کروڑ 21 لاکھ روپے قومی خزانے کو واپس کردیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وژن کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے کفایت شعاری اقدامات کے تحت 47 کروڑ 21 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرا دیے ہیں۔
یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ان متعدد کفایت شعاری اقدامات کے اعلان کے بعد سامنے آئی جن کا مقصد ایندھن کی بچت کرنا ہے۔ یہ اقدامات ایران پر امریکہ-اسرائیل جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی ایندھن کے بحران کے پیشِ نظر اٹھائے گئے ہیں۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری قومی بچت مہم کے تسلسل میں اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ہدایات کے تحت، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اخراجات میں کمی لانے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے کئی فیصلہ کن اقدامات اٹھائے ہیں۔
سیکرٹریٹ نے ارکانِ قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 21 ملین روپے کی کٹوتی کی ہے۔ یہ رقم قومی مالیاتی وسائل میں مزید اضافے کے لیے وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ 2026 میں جمع کرا دی گئی ہے۔
سیکرٹریٹ نے اخراجات کو معقول بنانے اور وسائل کے بہتر انتظام کے ذریعے رواں مالی سال کے بقیہ حصے میں مجموعی طور پر 2 ارب روپے تک کی بچت حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
ایندھن کی بچت اور آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے سرکاری گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو معمول کے استعمال سے واپس لے لیا گیا ہے جبکہ بجلی کی ضروریات گرین پارلیمنٹ سولر سسٹم کے ذریعے پوری کی جا رہی ہیں، جس سے گرڈ پاور پر انحصار اور بجلی کے بلوں میں واضح کمی آئی ہے۔
مزید برآں سیکرٹریٹ کے اندر صرف 200 ملازمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جبکہ ملازمین کی اکثریت روٹیشنل ڈیوٹی سسٹم (باری باری ڈیوٹی) کے تحت خدمات دے رہی ہے تاکہ اخراجات کو کم رکھا جا سکے اور کام کی کارکردگی بھی متاثر نہ ہو۔
تمام غیر ضروری اخراجات کو ختم کر دیا گیا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

