لاہور: (ویب ڈیسک) گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کو عہدے سے ہٹانے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق درخواست مقامی وکیل شبیر اسماعیل نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم کو گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے خط لکھا گیا لیکن صدر پاکستان اور وزیراعظم نے خط کا جواب نہیں دیا۔
آئینی درخواست کے مطابق گورنر پنجاب بغیر کسی وجہ کے اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہہ سکتے، اعتماد کے ووٹ کے لئے 4 سے 7 روز درکار ہوتے ہیں، گورنر جاری اجلاس میں ووٹ کا نہیں کہہ سکتے، گورنر پنجاب کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔
دائر درخواست میں اعلیٰ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم گورنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی ہدایات جاری کریں۔
بریکنگ نیوز
- پی ٹی اے کی موبائل سمز بلاک کرنے کی وارننگ، کونسے لوگ زد میں آئیں گے؟
- مائیکرو سافٹ کا اہم سروس بند کرنے کا اعلان
- ڈیزل کے بعد عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرول کی قیمت میں بھی کمی کا فیصلہ کیا جائے گا، وزیر مملکت
- سمندری پانی بلڈ پریشر کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے: تحقیق
- اسلام آباد: پاکستان میں نیشنل میڈیکل ٹورازم انیشیٹو کا باضابطہ آغاز
- آسٹریلوی ٹیم کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان
- پی ایس ایل: شاہین آفریدی صفر پر آؤٹ ہونے پر غصے میں آگئے، بیٹ توڑ ڈالا
- سونا ایک دن قیمت کم ہونے کے بعد آج پھر مہنگا ہوگیا
- پشاور ایئرپورٹ؛ ایف آئی اے نے 2 مسافروں کو جعلی دستاویزات پر آف لوڈ کردیا
- لاہور سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پہلی حج پرواز 345 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ
- پاکستان سے حج آپریشن 2026 کا باقاعدہ آغاز
- جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کروں، بدقسمتی سے بم دوبارہ گرانا پڑے گا، ٹرمپ
- دشمن کو عبرتناک شکست دینے کیلئے تیار ہیں، ایرانی سپریم لیڈر
- اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے بورڈ آف پیس کو بھی غزہ میں مشکلات کا سامنا
- امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد
- کل ذہین شخصیت وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی، بڑا سرپرائز مل سکتا ہے، ٹرمپ
- امریکا: ویڈیو گیم کھیلنے میں مشغول معمر خاتون نے سب کو پریشان کر دیا
- جرمن ولاگر کی تصویر کیوں لائیک کی؟ ویرات کوہلی پر میمز وائرل
- وائر لیس بجلی فراہم کرنے کا انقلابی منصوبہ
- پاکستانی سی فوڈ کی روس کو برآمدات کی اجازت، حجم 800 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع

