انڈیانا: (ویب ڈیسک) اپنی نوعیت کی سب سے پہلی اور وسیع عالمی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں درختوں کی تقریباً 73,000 انواع موجود ہیں جن میں سے اب تک ہم 63,800 کے بارے میں جان چکے ہیں جبکہ 9,200 انواع آج تک نامعلوم ہیں۔
اس تحقیق میں امریکا سے لے کر روس تک، اور بھارت سے لے کر آسٹریلیا تک درجنوں ممالک کے 100 سے زیادہ سائنسدانوں نے حصہ لیا۔ البتہ ان میں کوئی پاکستانی سائنسداں یا تحقیقی ادارہ شامل نہیں تھا۔
’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی تازہ آن لائن اشاعت میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےلیے درختوں اور جنگلات کے بارے میں دو وسیع عالمی ڈیٹابیسز، یعنی ’’گلوبل فارسٹ بایوڈائیورسٹی انیشی ایٹیو‘‘ اور ’’ٹری چینج‘‘ سے استفادہ کیا گیا۔
ان میں سے ہر ڈیٹابیس میں ہزاروں درختوں کے قدرتی مسکن (natural habitat)، اوسط اونچائی، تنے کی موٹائی، چھتری کے پھیلاؤ، ان سے پیدا ہونے والے پھلوں اور میوہ جات کی معلومات، دنیا بھر میں ان درختوں کی مجموعی تعداد اور جغرافیائی تقسیم سمیت ساری تفصیلات، کئی عشروں کی محنت کے بعد جمع کی گئی ہیں۔
کس علاقے میں کون کونسی انواع کے کتنے درخت ہیں؟ یہ جاننے کےلیے مذکورہ تمام معلومات کو اسی ترتیب سے دنیا کے نقشے پر 100 کلومیٹر لمبے اور 100 کلومیٹر چوڑے خانوں میں رکھا گیا۔
ساتھ ہی ساتھ ہر علاقے کے ’’بایوم‘‘ (biome) یعنی وہاں پائے جانے والے پیڑ پودوں، مٹی، جنگلی جانوروں اور آب و ہوا جیسی کیفیات کے بارے میں معلومات بھی اس تحقیق میں مدنظر رکھی گئیں۔
مختلف علاقوں میں ’’بایومز‘‘ کا محتاط موازنہ کرنے کے بعد ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ درختوں کی تقریباً 9,200 انواع آج بھی نامعلوم ہیں۔
تاہم ان کا یہ کہنا بھی ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی تحقیق ہے جس کے تحت لگائے گئے اندازے محتاط ضرور ہیں مگر اِن کےلیے جو معلومات (ڈیٹا) استعمال کی گئی ہیں انہیں کسی بھی طور پر مکمل نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اب بھی کئی علاقوں کے بارے میں محدود معلومات ہی دستیاب ہیں۔
مطلب یہ کہ مستقبل میں اسی طرح کی دیگر تحقیقات سے بالکل مختلف اندازے بھی سامنے آسکتے ہیں۔
پانچ بڑے عالمی علاقوں میں درختوں کی انواع اور تعداد کے تخمینے کا انفوگراف۔ (بحوالہ: پی این اے ایس)
اس رپورٹ کے مطابق، درختوں کی تقریباً 43 فیصد انواع براعظم جنوبی امریکا میں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی دوسرے براعظم کے مقابلے میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ 22 فیصد درختوں کے ساتھ یوریشیا (یورپ اور ایشیا کا مجموعہ) دوسرے نمبر پر، 16 فیصد کے ساتھ افریقہ تیسرے نمبر پر، 15 فیصد کے ساتھ شمالی امریکا چوتھے نمبر پر جبکہ درختوں کی محض 11 فیصد انواع کے ساتھ اوشنیا کا پانچواں نمبر ہے جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت، جنوبی نصف کرے کے کئی چھوٹے چھوٹے ممالک شامل ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی، جنگلوں کی بے رحمانہ کٹائی اور بڑے پیمانے پر آتش زدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح کی تحقیقات بہت ضروری خیال کی جاتی ہیں کیونکہ ان سے ہمیں مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی اور جنگلات کے تحفظ میں خاصی مدد ملتی ہے۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

