حکومتِ ترکی نے یورپی یونین کی طرف سے جنرل افیئرز کونسل میں قبول کردہ توسیع کے فیصلوں سے متعلق قرارداد پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یورپی یونین کے توسیعی فیصلوں میں ترکی کی رکنیت کے مذاکرات اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کی جانے والی ترک کوششوں کی اہمیت کو نظرانداز کرنے حتیٰ کہ اسے غلط طریقے سے پیش کرنے سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مشرقی بحیرہ روم اور قبرص کے مسئلے پر پیش کردہ قراردادوں کے حصے حقیقت کے برعکس، یکطرفہ، یونانی مفادات اور ان کے رویے کے عکاس ہیں۔ اِن فیصلوں میں قبرصی ترکوں کو ایک بار پھر نظرانداز کیا گیا ہے جس سے مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ کیے گئے فیصلے یورپی یونین میں شامل کچھ رکن ممالک کے تنگ نظری اور خود غرضی کے لیے استعمال ہونے کی نئی مثال ہیں۔ اس قسم کے فیصلے سودے بازی پر مبنی مفاد پرست گروپ کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات میں اس قسم کے فیصلوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ترکی اور یورپ قریب آسکتے ہیں۔

ترک وزارت خارجہ نے یورپی یونین کو دعوت دی کہ وہ ایک بار پھر جزیرے کے حقائق کو دیکھے اور قبرصی ترکوں کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی پالیسی کو ختم کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی یورپی یونین سے اپنے تعلقات کو ٹھوس اور مثبت ایجنڈے کی بنیاد پر استوار کرنے کی خواہش رکھتا ہے جبکہ یورپی یونین کی موجودہ پالیسیاں اس حقیقت سے بہت دور ہیں جس سے ترکی اور یورپی یونین کے تعلقات میں بہتری کے امکانات موجود نہیں۔

