سابق کنوینئر ایم کیو ایم فاروق ستار نے کہا ہے کہ میں ایم کیو ایم کو خرابیوں سے پاک کرنا چاہتا تھا۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں ایم کیو ایم پاکستان انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف کیس کی سماعت 2 رکنی بنچ نے کی۔ الیکشن کمیشن نے کنوینیر ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔
سماعت کے بعد فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم چند ہاتھوں میں ضائع ہورہی ہے ہم ان ہاتھوں سے پارٹی واپس کارکنان کو لوٹائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے انٹرا پارٹی الیکشن رات کی تاریکی میں چوری کئے، میں درخواست گزار نہیں لیکن ہم نے اسے چیلنج کیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ میرا گلہ ایم کیو ایم میں اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے، چند لوگ فیصلے مسلط کرتے ہیں، یہ چند لوگوں کی جماعت نہیں۔
ان کا کہنا تھا میں ایم کیو ایم کو خرابیوں سے پاک کرنا چاہتا تھا اسی پاداش میں میری سربراہی چھینی گئی اور بنیادی رکنیت معطل کردی۔
اپنے بیان میں سابق کنوینئر ایم کیو ایم فاروق ستار نے واضح کیا کہ میں نئی سیاسی جماعت نہیں بنانے جارہا بلکہ اسی پارٹی کو دوبارہ کارکنان کو واپس دلوائیں گے،، کراچی کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے۔

