لاہور ہائیکورٹ نے ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ کو مفت ایئر ٹکٹ جاری کرنے کے خلاف درخواست پر جمعرات کو وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
فرید علی نامی شہری نے درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ ہر سینیٹر اور رکن قومی اسمبلی کے اہل خانہ کو 25 سالانہ مفت ریٹرن ایئر لائن ٹکٹ دیے جاتے ہیں اور ان ٹکٹوں کی رقم قومی خزانے سے ادا کی جاتی ہے۔
درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ ارکان اسمبلی کے اہل خانہ پر سالانہ خطیر رقم خرچ کی جا رہی ہے جو کہ قومی خزانے پر بوجھ ہے۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت عوامی فنڈز حکومت کے سپرد ہیں اور ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ کو نہیں دیے جا سکتے۔
جسٹس شاہد کریم نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

