راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلامی تعاون تنظیم کے آزاد انسانی حقوق کمیشن کے ارکان پر مشتمل وفد نے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول کے چری کوٹ سیکٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وفد کو لائن آف کنٹرول کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔ وفد کو دشمن کی فائرنگ سے علاقہ مکینوں کو محفوظ رکھنے کیلئے انتظامات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں کمیونٹی بنکرز کی تعمیر شامل ہے ۔
اس موقع پر وفد کے ارکان نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے متاثرین، گاؤں کی دفاعی کمیٹیوں کے ارکان اور سول انتظامیہ سے بھی ملاقاتیں کیں ۔ وفد نے زمینی حقائق کے مشاہدے اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال کو سمجھنے کا موقع دینے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ملائشیا کے رکن احمد اعظم نے متاثرین کی باتیں سننے کے بعد کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ایک حقیقی مسئلہ ہے ، جس پر عالمی ایجنسیوں نے کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ ان حقائق کو ریکارڈ پر لانا اور انہیں نمایاں کرنا چاہیے کیونکہ ہلاکتیں اور مصائب حقیقی ہیں۔ مراکش کے رکن حافظ الہاشمی نے کہاکہ ہم نے یہاں مقبوضہ کشمیر سے آنیوالے مہاجرین سے ملاقات کی۔ ہم ان کی آواز ہر ممکن حد تک دنیا تک پہنچائیں گے ، سرحد کے پار جس سطح کے مصائب کا انہیں سامنا ہے ، وہ ہم تسلیم کرتے ہیں۔ ہم کشمیر ی عوام کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کیساتھ انصاف ہو گا، اور اپنے خود ارادیت کے حق کو استعمال کریں گے ، تاکہ آزادی اور وقار کیساتھ زندگی گزار سکیں۔ متحدہ عرب امارات کے رکن اور چیئرمین آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن ڈاکٹر سعید محمد عبداللہ نے کہا کہ ان کا یہ دور اس لئے بھی اہم ہے کہ بھارتی فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جوکہ ان کی نظر میں انتہائی خطرناک فیصلہ ہے ۔ یہ فیصلہ ہمارے جموں وکشمیر کے بہن بھائیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس سے آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے گا۔
ترکی کے رکن اور نائب چیئرمین آزاد مستقل انسانی حقوق کمیشن ڈاکٹر حاجی علی نے کہاکہ بلاشبہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین اور افسوسناک ہے ۔ انہیں زندگی کے حق سے ہی نہیں، مذہب کے حق، آزادی اظہار کے حق ، آزادانہ نقل وحرکت کے حق سمیت دیگر حقوق کی محرومی کے علاوہ تشدد اور بدسلوکی کا سامنا ہے ۔ اگرچہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار داد حق خود ارادیت پر زور دیتی ہے مگر بدقسمتی سے بھارت نے 70 سال گزرنے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد دور کی بات، کشمیری عوام کا حق خود ارادیت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔
آذربائیجان کے رکن ڈاکٹر ایدین صفی خانلی نے کہا کہ ہم یہاں کشمیریوں کی مدد اور صورتحال کی مکمل تحقیق کیلئے آئے ہیں تاکہ متعلقہ عالمی تنظیموں سے بات کر سکیں۔ آپ نے جنگی جرائم کی بات کی ہے ، جوکہ انسانی حقوق کی عام خلاف ورزیاں نہیں بلکہ سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں جس پر سزا ملنی چاہیے ۔
