لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ حکومت سے چیزیں کنٹرول نہیں ہو رہیں مگر ان چیزوں کی تہہ میں جایا جائے تو ایک بات بالکل واضح ہے کہ ان حالات میں کتنے مسائل ہمیں درپیش ہیں ان کے روٹ کاز جو ہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی حکومتوں کی وجہ سے ہیں کیونکہ وہ نہ اتنے بہت زیادہ قرضے لیتے نہ اتنے ہم مقروض ہوتے نہ ہمیں مزید قرضے لینے کے لئے ہر قسم کی جائز ناجائز شرائط منظور کرنے پڑتیں اور نہ ہی ملک میں اتنی زیادہ خراب ہوتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے آج جو مہنگائی اور بیروزگاری کی بری حالت سامنے آتی لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کو بہت سطحی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس کی تہہ میں جا کر اس کی اصل وجہ کا کھوج لگا کر یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کا قصور وار کون ہے لیکن جیسا کہ میں پہلے کہتا رہا ہوں کہ ہمیشہ میں آج پھر یہی کہوں گا کہ قصور وار کو ہم لوگ جانتے بھی ہیں ہم سمجھتے بھی ہیں لوگوں کو ان کا نام کا بھی پتہ ہے۔ اس وقت جو سسٹم ملک میں رائج ہے وہ ہر برے آدمی کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے ہمارے یہاں انصاف ہے تو ان کے لئے ہے عدل ہے ان کے لئے صمانتیں ہیں تو ان کے لئے سہولتیں ہیں تو ان کے لئے ہیں حتیٰ کہ سزا یافتہ قیدیوں کو ایسی سہولتیں مل جاتی ہیں کہ اس سے پہلے ریکارڈ میں نہیں ہوتیں لیکن اس سلسلے میں ہمارا پورا سسٹم جو ہے اس حت تک مطعون ہو چکا ہے اب اس میں سے کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ جہاں تک ڈالر کی موجودہ صورتحال کا تعلق ہے یہ کس کے بھی بس میں نہیں ہے۔ لیکن ایک بات ہمارے بس میں ضرور ہے جو ہم کسی ماہر معیشت سے پوچھ سکتے ہیں کیونکہ یہ بڑا بنیادی سوال ہے کہ وہ یہ ہے کہ کیا ڈالر کی قیمت کا تعین جو ہے بظاہر سٹیٹ بنک کرتا ہے اور اگر حکومت سے اس کا تعلق نہیں بھی ہے کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار قرار دیا جا چکا ہے اب اس وقت اس کا کون ذمہ دار ہے اور نمبر2 روزانہ ڈالر کی قیمت جس طرح سے اوپر جا رہی ہے اور آج سے 10,8 ماہ مہینے کہنے والوں نے کہہ دیا تھا کہ 150 تک جائے گا اور 150 تک تو چلا گیا۔ اب یہ جانتا ضروری ہے کہ تہہ میں جا کر کھوج لگایا جائے کہ یہ ڈالر کی سطح کو بلند رکھنے میں جب بھی یہ بحران آیا حکومتیں یہ کرتی تھی کہ وہ اپنے پاس سے ڈالر خرید کر مارکیٹ میں فلوٹ کر لیتی تا کہ جو فرق ہے اس کا خود نقصان برداشتت کر کے ڈالر کی قیمت کو نیچے لے آتی تھیں اب موجودہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم ڈالر کی قیمت کو کم کرنے کے لئے یہ طریقہ نہیں اختیار کریں گے کیونکہ آخر کار حکومت کے نہیں عوام کے بھی خلاف جاتا ہے، کسی ماہر معیشت سے بات کرنی چاہئے۔ دوسرا اس نقطہ نظر کو ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ روپے پیسے کے معاملاتت ایک دن میں نے زیادہ ہو جاتے ہیں نہ خراب ہو جاتے ہیں۔ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی روٹس کازز پچھلی دونوں بڑی پارٹیوں پر الزام کیا جا سکتا ہے کہ ان کے غلط فیصلوں کی وجہ سے آج اس نوبت کو پہنچے ہیں۔ اس کا جواب بھی کسی ماہر معیشت سے لینا ہو گا اگر ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا جائے تو کیا نقصان ہوتا ہے۔ اس کا ایک حل یہ بھی ماہر معاشیات مل بیٹھیں اور بغیر پارٹی پالیٹکس کے یا وقتی طور پر سیاست کرنے کے اس صورت حال کا جائزہ لیں کوئی طریقہ کار وضع کریں کہ جتنا نقصان ہو چکا ہے اس سے زیادہ نقصان نہ ہونے پائے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ حمزہ شہباز کی بات صحیح ہے کہ عوام کی مہنگائی سے چیخیں نکل گئی ہیں۔ اصل حل یہ ہوتا ہے کہ وقتی طور پر سیاست بازی ختم کر دی جائے سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ دیا جائے اور پھر ملکی نقطہ نظر سے جو خوفناک بحران جو ایک اڑدھے کی طرح ہماری طرف بڑھ رہا ہے اس سے بچنے کے لئے مل کر کوشش کرنی چاہئے۔ اس ساری صورتحال کا حل یہ ہے کہ نیشنل ایمر جنسی لاگو کی جائے اور جس طرح سے دشمن دکھوں کے حملے کے وقت ایمرجنسی ملک میں لوگوں کی جاتی ہے اس طرح کی ایک ایمرجنسی لاگو کر کے پھر بہت ساری چیزیں ایک طرف رکھ کر ملکی سطح پر ایک ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے اور صحیح سمت قدم اٹھانے کے لئے کوئی مشترکہ فارمولا وضع کیا جائے۔ ایک سروے سامنے آیا ہے جس میں جب عثمان بزدار صاحب کے سپرد جب پنجاب کی حکومت کی گئی تھی سروے کے جو نتائج سامنے آئے ہیں عثمان بزدار اپنی چاندار کارکردگی کی بنا پر تمام وزرائ اعلیٰ سے اوپر پائے گئے ہیں صیا شاہد نے کہا کہ جو اعداد و شمار اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں کسی کو پسند ہوں یا نہ ہوں انہیں ماننا پڑتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے حالانکہ سندھ ہمارا ایسا صوبہ ہے جو پنجاب کے بعد آبادی کے اعتبار سے بڑا صوبہ ہے اہمیت اس کی یہ ہے کہ کراچی اس میں ہے اور کراچی پاکستان کا اکنامک حب ہے اور اکلوتی بندرگاہ اس وقت تک یہی ہے ابھی گوادر نے کام شروع نہیں کیا ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے باوجود جتنی توقعات ہماری سندھ سے وابستہ ہیں ان توقعات کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس موجودہ سروے میں بھی سندھ کے وزیراعلیٰ کا چوتھا نمبر آیا ہے۔ میری خواہش تھی کہ اس کا پہلا یا دوسرا نمبر ہوتا کیونکہ جتنا سندھ خوش ہو گا اس میں گورننس بہتر ہو گی اتنا ہی پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے بعد دوسرے نمبر پر آنے والے صوبے میں اکنامک حب ہونے کی وجہ سے پہلے نمبر پر خوشحالی آئے گی اس طرح سے پاکستان خوشحال ہو گا۔ آج ہمیں پیپلزپارٹی کے کسی لیڈر سے پوچھنا چاہئے کہ آج جو اخبارات میں شائع ہوا کہ آصف زرداری صاحب نے جو کہا ہے کہ میرے اکا?نٹس حقیقی نہیں کاروباری ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کم از کم واضح طور پر اعتراف کر لیا کہ کاروباری اکا?نٹس جعلساس والے ہوتے ہیں اور وہ صحیح نہیں ہوتے ان کے منہ سے یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے۔ کوشش اس بات کی کوشش ہونی چاہئے کہ پارٹی پالیٹکس سے ہٹ کر ایمرجنسی کے طور پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہئے۔پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کے بیٹے کے انتقال کی افسوسناک خبر پر بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کیا حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی بڑی آزمائش سے دوچار کیا۔ جوان بیٹے کی موت کا دکھ کیا ہوتا ہے میں ذاتی طور پر اس صدمے سے گزر چکا ہوں اپنے بیٹے عدنان شاہد کی اچانک وفات سے جو لندن ایئرپورٹ پر حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے تھے لہٰذا کائرہ صاحب میں آپ کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور ہمارے سیرے دیکھنے والے د±عا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت دے، صبر دے کہ آپ اتنا بڑا صدمہ برداشت کر سکیں۔مریم نواز پر وزیراعظم یوتھ لون پروگرام میں اربوں روپے کے غبن کا الزام سامنے آنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ سیاستدان کے پاس سب سے بڑا حربہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر صحیح الزام بھی ہو جو درست ہو اور جو سو فیصد حقائق پر مبنی ہو تو وہ یہ کہہ دیتا ہے کہ یہ میرے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے۔ سیاستدان کبھی تسلیم نہیں کرتا کہ میں نے یہ غلطی کی ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ مریم نواز صاحبہ بھی اگر اس قسم کے اور بھی بہت سے الزامات آ جائیں تو یہی کیں گی چونکہ یہ حکومت ان کے خلاف جا رہی ہے اس لئے ان کے بارے میں ایسی خبریں تلاش کر کے اور بڑھا چڑھا کر عوام کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس سارے مسائل کے باوجود کیا ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کو سنبھالنے کے لئے ہم کوئی نظام وضع کر سکتے ہیں۔ کیا کوئی طریقہ تلاش کر سکتے ہیں کیونکہ دن بدن مسائل جو ہیں وہ پاکستان کی شہ رگ کو کاٹتے جا رہے ہیں۔پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما قمر زمان کائرہ کے بیٹے کے ٹریفک حادثہ میں انتقال کر جانے کا سن کر افسوس ہوا، جوان بیٹے کی موت کا دکھ کیا ہوتا ہے میں اس سے واقف ہوں کیونکہ خود بھی اس سانحہ سے گزر چکا ہوں، میرا بیٹا عدنان شاہد بھی لندنن میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیاتھا۔ قمر زمان کائرہ کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں اور د±عا گو ہوں کہ اللہ انہیں صبر جمیل عطا کرے۔سیاستدانوں کے راستے میں رکاوٹیں آنا معمول ہے تاہم ان پر لگنے والا الزام سو فیصد بھی درست ہو تو اسے بھی سیاسی الزام قرار دیتے ہیں اور غلطی کو کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ مریم نواز پر یوتھ پروگرام میں خردبرد کے علاوہ بھی مزید الزامات بھی سامنے آئے تو وہ یہی کہیں گی کہ حکومت ان کے خلاف ہے اس لئے (جھوٹا الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ تمام مسائل کے باوجود کیا ہم کوئی ایسا نظام وضع کوئی ایسا طریقہ تلاش کر سکتے ہیں کہ جس سے بہتری آ سکے کیونکہ ملک کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس سے بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ علیم خان نے بڑی ہمت کے ساتھ قید میں وقت گزارا اور کبھی کوئی واویلا نہ کیا، انہوں نے ثابت کیا کہ وہ کپتان عمران خان کے کھلاڑی ہیں حالات کا مقابلہ کیا، مظلوم بننے کی کوشش کی نہ کسی مسئلہ کو سیاست پر ڈالنے کی کوشش کی۔ علیم خان کی ضمانت ہو گئی کیس ابھی چل رہا ہے میرے نزدیک آنے والے وقت میں وہ اپنی مزید صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔شہباز شریف کے لندن میں قیام کو طول دینے کے حوالے سے کافی خبریں مییا میں گردش کر رہی ہیں۔ شہباز شریف پہلے اپنی پوتی کی بیماری کا بتاتے رہے پھر اپنی طبیعت خراب ہونے کا بتایا، نن لیگ کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ شہباز شریف وہاں کیا کر رہے ہیں اور کب واپس آئیں گے جھوٹ بولنا سیاستدانوں کا چلن بن چکا ہے صرف شہباز شریف ہی نہیں تمام سیاستدان ایسے ہی کرتے ہیں۔ نوازشریف لندن کے ہسپتال میں تھے، ہر روز نئی کہانی سامنے آتی تی۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ سیاستدان سچائی پر نہیں چلتے۔ شہباز شریف کو چاہئے کہ پہلی فرصت میں پاکستانی میڈیا کو بلائیں اور تفصیل سے بتائیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں وہ اگر وہاں وکلا سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تو اس کا اعتراف کرنے میں کیا حرج ہے، جس پوتی کی بیماری کا کہہ کر وہ گئے تھے اس کے والد تو پاکستان میں بیٹھے ہیں۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

