لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے کالم نگار شاہد اقبال بھٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر لگانے کا اختیار وزیراعظم کو ہے۔ شبر زیدی کی چیئرمین ایف بی آر تعیناتی پرشور کیوجہ ادارے میں سے کسی کو ترقی دیکر چیئرمین نہ بنانا ہے۔ اس عہدے کے یے شبر زیدی سے بڑا نام پاکستان میں نہیں، وہ پاکستان کو گرداب سے نکال لیں گے۔ منی لانڈرنگ کا کوئی پیسہ ملک میں واپس نہیں آئے گا، صرف وقت ضائع کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے ہاتھوں سے معیثت کا بیڑہ غرق کردیا۔ عمران خان اپنے موجودہ معاشی ٹریک سے نہ ہٹیں، ملک انصاف اور معیثت سے چلے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے اردگرد فیصل واڈا جیسے وزراءنے انہیں غلط مشوررے دئیے۔ وزیر اعظم نے تقرریوں کا اقدام 6ماہ پہلے لیا ہوتا تو آج پاکستان کی معیثت مستحکم ہونا شروع ہوچکی ہوتی۔ میزبان تجزیہ کار میاں حبیب کا کہنا تھا کہ چیئرمین ایف بی آر جیسے اہم عہدے پر اعزازی تقرری نہیں کرنی چاہیے۔ آصف زرداری ذہنی طور پر جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ تجزیہ کار ضمیر آفاقی نے کہاکہ شبر زیدی کے لیے پہلا چیلنج ایف بی آر کے اندر کرپشن کے انبار کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اداروں میں باہر سے لاکر لوگ بٹھائے جانے کیوجہ حکومت بتائے۔ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کو دینے کے لیے معاشی پلان نہیں ، انکی شرائط ماننا ہوں گی۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے انہیں پرائیویٹائز کر دینا چاہیے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو سیلوٹ کرنا چاہیے۔معروف قانون دان و تجزیہ نگاراظہر صدیق کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیثت کا ستیاناس اسحاق ڈار کے ٹوٹکوں کا نتیجہ ہے۔ ایف بی آر میں بے پناہ کرپشن ہے مگر شبر زیدی کے ہوتے ہوئے پریشانی کی بات نہیں، وہ پاکستان کے لیے سونے کی کان ثابت ہوں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ احتساب ہورہا ہے، ماضی میں لانچوں کے ذریعے پاکستان سے منی لانڈرنگ ہوتی رہی،اب ملزمان کو پکڑا جارہا ہے تو جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے۔ وائٹ کالر کرائم پکڑنا نہیں جاسکتا مگر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کر کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے 16سے 17ریفرنسز بنائے جنکا منتقی انجام تک پہنچنامعیثت کے لیے بے حد ضروری ہے۔پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لیے سعودی ماڈل یا صدارتی نظام لانا پڑے گا۔ کرپشن کا معیثت سے کوئی تعلق نہیں، سیاستدانوں کی قانون سے مادر پدر آزادی کرپشن کیوجہ ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کے کیس میں 13عام افراد اور شرجیل میمن کیس میں 18بیوروکریٹس اورجعلی اکاﺅنٹس کیس میں آصف زرداری کے علاوہ 250 عام افراد ملوث ہیں مگر عوام کو صرف سیاستدانوں کے خلاف احتساب کا رونا دکھایا جاتا ہے۔گلوکار علی ظفر اور میشا شفیع کا معاملہ لبرل ازم،ففتھ جنریشن وار کا جھگڑا ہے۔میشا شفیع کے وکیلوں کے خرچے کون ادا کر رہا ہے؟ لبرل ازم کے فروغ کے لیے پی ٹی ایم کو بھی وہیں سے فنڈز آرہے ہیں۔میشا سپریم کورٹ میں کیس ہار جائیں گی۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

