لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ میرے خیال میں نوازشریف کا ریلی نکال ر جیل جانے کی صورتحال صرف اس حد تتک ہے کہ مسلم لیگ ن کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں ہے۔ نوازشریف کی ضمانت کی مدت ختم ہو رہی ہے یا تو وہ مزید ضمانت کی مدت کی کسی عدالت سے اجازت لیں یا پھر جس طرح سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ فوراً اسلام آباد ہائی کورٹ سے رابطہ کریں وہ بھی انہوں نے کہا۔ تیسرا یہ کہ اگر وہ خود جیل نہیں جائیں گے تو پولیس ان کو اپنے ساتھ جیل میں دوبارہ جمع کرا دے گی اس کو جرنلزم کی اصطلاح میں نان ایشوز کہتے ہیں۔ یہ کوئی ایشو ہے ظاہر ہے انہوں نے جیل جانا ہے اب جلوس کے ساتھ جانے سے کیا فرق پڑتاہے اور 6 بجے کے بعد چلے گئے تو اس میں کیا قیامت آن پڑے گی۔ یہ محض ایک قوت کے مظاہرے کے لئے ہے اتنی ہی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تو پھرجیل سے ہی چھڑا لیں۔ سوشل میڈیا پر جیل جانے سے پہلے دُعا مانگتے ہوئے تصویر جاری ہونے کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ افطار کے وقت دعا ہو یا نماز کے بعد دُعا کی ہو۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ صرف جیل کے سلسلے میں کوئی دُعا ہے یا نہیں۔ لیکن بہرحال دُعا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ اللہ کرے ان کی خواہش پوری ہو۔ ن لیگ والے کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کی ریلی میں اگر کوئی بدمزگی ہوئی عمران خان ذمہ دار ہوں گے اس پر گفتگو کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ نوازشریف اگر جیل میں اپنی بروقت واپسی یقینی نہیں بنا سکے تو عمران خان پر کیسے عائد ہوتی ہے اس کی ذمہ دار نواز شریف پر عائد ہوتی ہے یا ان کے پرجوش سپورٹرز پر عائد ہوتی ہے جو ان کی جیل واپسی رکوانا چاہتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے ٹھیک کہ ہے کہ اب وہ 6 ہفتے گھر رہے ہیں ان کا ذہنی تناﺅ ٹھیک ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے ٹیسٹ بھی کروائے ہیںوہ یقینا بہتر آئے ہوں گے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان کی صحت بہتر رہنی چاہئے ہم سب کی خواہش ہے کہ وہ صحت یاب ہوں۔ لیکن ذاتی خواہشات کی بنیاد پر خبروں کو نہیں روکا جا سکتا۔ بہتر تھا کہ وہ مدت ختم ہونے پر جیل چلے جاتے ریلیوں اور احتجاج سے بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ شائستگی اور قانون کے دائرے کے اندر رہ کر ساری سرگرمیاں کی جائیں اگر کوئی بدمزگی ہوتی قانون کو حرکت میں آنا پڑے گا۔ آصف زرداری کی مشکلات پر گفتگوکرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ میں سمجھتا ہو ںکہ ایک ایک کر کے سب کی باری آنے والی ہے آصف زرداری کا کیس بھی منطقی انجام تک پہنچ رہا ہے دیکھئے عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ 9 مئی کو آصف زرداری کو نیب نے طلب کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ 18 ویں ترمیم اچھی یا بری یا اس کے خلاف رائے ہے یا حق میں رائے ہے۔ اب تازہ بیان وزیراعظم کا آیا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے ٹیکس لینا چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنے حصے کی رقوم جمع نہیں کروا رہے اور وفاقی حکومت دیووالیہ ہو رہی ہے یہ بہت سیریس صورت حال ہے اس پر کسی نہ کسی کو ایکشن لینا پڑے گا۔میرے خیال میں 18 ویں ترمیم کا مسئلہ اس وقت اتتنا نہیں ہے جتنا اس بات کا مسئلہ ہے کہ اسے سیاسی بوگی کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ایک طرف کہا جائے کہ آصف زرداری کے جیل جانے کا وقت آ رہا ہے دوسری طرف یہ کہا جائے کہ 18 ویں ترمیم کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔اور صوبوں کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں اس سے ایک ایسی بحث شروع ہو جائے گی جو حقیقت میں اپنا وجود نہیں رکھتے۔ صوبوں کو اپنے وسائل خود جنریٹ کرنے پڑتے ہیں اور اگر وہ نہیں کر رہے تو پھر یہ ذمہ داری صوبوں کی۔ دلی، تہران اور نیویارک کا میئر کر سکتا ہے لندن کا میئر کر سکتا ہے تو پاکستان میں ایک صوبہ کیوں نہیں کر سکتا اس پر ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صوبے ٹیکس مہیا کرنے کو جو ٹاسک ہے وہ پورا نہیں کر رہے پنجاب، خیبر پختونخوا بھی ہے بلوچستان اور سندھ بھی ہے سندھ میں چونکہ پیپلزپارٹی ہے لہٰذا چودھری منظور صاحب میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کی حکومت پر بھی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وفاق کے لئے ٹیکس جمع کر رہی ہے عمران خان کا جو یہ الزام ہے اس کو کس حد تک حقائق پر مبنی سمجھتے ہیں۔ اگر چودھری منظور صاحب نے جو اعداد و شمار دیئے ہیں اگر درست بتائے ہیں تو اور واقعی اپنا ٹارگٹ پورا کر لیا ہے تو یہ ذمہ داری باقی صوبوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور پھر وفاقی حکومت پر ہوتی ہے جس کے ماتحت وہ تینوں صوبے کام کر رہے ہیں اور دو صوبوں میں تو براہ راست ان کی حکومت ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ذمہ داری جو ہے ان پر عائد ہوتی ہے جو ازخود وفاقی حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے 18 ویں ترمیم کے تحت صوبے ٹیکس وصول نہیں کر رہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت دیوالیہ ہو رہی ہے۔ ہم نے پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری منظور سے پوچھا اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت جو سندھ میں ہے انہوں نے 18 ماہ میں اپنے ذمے جو ٹیکس بنتے تھے ان کے اعداد و شمار کے ساتھ جمع کروا دیا تھا اب ذمے کوئی پیسہ واجب الادا نہیں ہے چودھری منظور کا کہنا ہے کہ باقی صوبو بشمول پنجاب کی صورتحال ایسی نہیں ہے۔ کیا واقعی پنجاب نے ٹیکس کی مد میں اپنے ٹارگٹ پورے نہیں کئے۔ شیخ رشید نے اسد عمر کی کابینہ سے علیحدگی کے فوراً بعد ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ان کے پاس جائیں گے اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ عمران خان کے بعد مت ساتھیوں میں سے ہیں شیخ رشید نہیں چاہتے کہ وہ کابینہ سے الگ ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کوششوں سے وہ پہلے شیخ رشید صاحب سے ملے ہیں پھر شیخ صاحب ان کو ساتھ لے کر عمران خان کے پاس گئے ہیں اور انہوں نے عمران خان سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ واپس کابینہ میں اا جائیں کیونکہ انہوں نے ناں نہیں کی ہے بلکہ خاموش رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ وہ شاید اس کے لئے تیار گئے ہوں میرا خیال ہے کہ ان کی واپسی کا امکان ہے البتہ یہ ضروری نہیں وہ وزیرخزانہ ہی کی حیثیت سے واپس آئیں وہ ضرور کسی اور وزارت کے لئے آ سکتے ہیں۔ شیخ رشید اسد عمر کو لے کر عمران خان کے پاس گئے، ملاقات میں وزیراعظم نے پھر اس خواہش کا اظہار کیا کہ کابینہ میں واپس آ جائیں جواب میں اسد عمر نے کچھ نہ کہا اور خاموش رہے جس سے لگتا ہے کہ ان کی کابینہ میں واپسی کا امکان ہے۔ اسد عمر ضروری نہیں کہ وزیرخزانہ کے طور پر آئیں انہیں کوئی اور وزارت بھی دی جا سکتی ہے۔
بریکنگ نیوز
- دنیا کا سب سے بڑا اسنیک اسٹور
- کوکین کے استعمال پر نیوزی لینڈ کے سابق فاسٹ بولر بڑی مشکل میں پھنس گئے
- عامر سہیل نے کراچی میں ‘پان کی پچکاری’ کے بیان پر معافی مانگ لی
- پی ایس ایل فائنل کیلئے فینز کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل گئی
- پی ایس ایل شائقین کیلیے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
- ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی
- نائیجیریا کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر دوستانہ میچ کے دوران انتقال کرگئے
- حکومت نے پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں بڑے اضافے کے بعد ایک پیٹرولیم پروڈکٹ کی قیمت میں کمی کردی
- پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی:گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا
- لاہور سمیت پنجاب میں شدید گرمی ؛ درجہ حرارت 41 ڈگری تک جانے کا امکان
- پاکستانی سفارتی کامیابیوں کی پوری دنیا معترف، عالمی سطح پر وقار مزید بلند
- خیبرپختونخوا کا ای رجسٹری سسٹم نافذ کرنے کا اعلان
- لاہور: اچھرہ میں تین بچوں کے قتل کا کیس سی سی ڈی کے حوالے
- زمین کے تنازع پر دو گروپوں میں خونی تصادم، باپ بیٹے سمیت 5 افراد قتل
- میٹا کا ہزاروں افراد کو نوکریوں سے نکالنے کا منصوبہ
- چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
- دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا کی مبینہ چوری پر چینی اے آئی کمپنیوں کے خلاف مہم شروع
- سام سنگ کے 40 ہزار ملازمین نے معاوضہ نہ بڑھانے پر ہڑتال کی دھمکی دے دی
- ٹک ٹاک کا نیا اے آئی فیچر، ویڈیوز کا انداز ہی بدل جائے گا
- یوٹیوبر مسٹر بیسٹ پر خاتون کے سنگین الزامات

